دہشت گردی سے پاک پاکستان

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
دہشت گردی سے پاک پاکستان

دہشت گردی کیخلاف پاکستانی قوم کا مزاج بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے سانحہ پشاور کے بعد ہر صاحب عقل اور درد دل رکھنے والے پاکستانی نے دہشت گردوں کی سرکوبی کی بات کی۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں نے وزنی دلائل دیکر دہشت گردی کی بے مہار لہر کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کیلئے فوجی عدالتیں بنائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی رہنمائوں کی چشم پوشی نے ہی ملک کو آتش کدہ بنایا انکی نرم پالیسیوں کے باعث ہمارے بچوں کے سینے چھلنی ہوئے ایجنسیوں نے اپنے مفادات کیلئے جو بویا آج وہ پوری قوم کاٹ رہی ہے جنرل پاشا نے2008 کے ممبئی حملوں کے بعد صحافیوں سے کہا تھا بیت اللہ جیسے لوگ ہمارا اثاثہ ہیں یہ ہماری عسکری افرادی قوت ہے،قارئین ہم نے اپنا آپ غیروں کے پاس گروی رکھا۔ اسکے بدلے ہماری سانس کی ڈوری انکے خزانے کیساتھ نتھی رہی۔ عالمی ساہو کاروں نے ہمارے ملک کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا اور اسکے بدلے ہمیں مونگ پھلی کے دانے کے برابر امداد دی۔ انہوں نے قرض کی مے پلاکر ہمارے حکمرانوں کو مست رکھا اور عوام بھوک، افلاس اور تنگدستی کی سولی پر لٹکے رہے ہمارے ملک میں ایک بھی ایساسیاستدان نہیں جو سیاسی مفادات اور جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہو صرف ملکی مفاد کے بارے سوچے۔ اکثر سُکر و نشہ کی حالت میں نظر آتے ہیں کذب بیانی، دروغ گوئی اور دشنام طرازی ان کا شیوہ ہے۔ جمہوریت کمزورہو یا غیر ملکی فوج یہاں آکر کارروائی کر کے چلی جائے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں تو صرف اپنے اقتدار کی پڑی ہے کہ وہ سلامت رہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں سے مایوس عوام اب ملکی حفاظت کیلئے خود اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن انہیںچار سو نگاہ رکھنا ہوگی۔ دشمن کے ماضی پر نظر رکھنا، اس کے حال کی چال ڈھال کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور اس کے مستقبل کے عزائم کا ادارک رکھنا ہوگا کیونکہ ہم زخم خوردہ ہیں اور ہمیں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی صفوں میں چھپے میر جعفروں اور میر صادقوں کی نشاندہی کرنا ہوگی کیونکہ یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے۔ دنیا کی نظروں میں ہم تخریب کار ہیں عالمی امن خراب کرنیوالے ہیں۔ اس وقت سانحہ پشاور کے خوف اور آسیب نے ہمارے بچوں کو جکڑ رکھا ہے خدانخواستہ ہماری سستی اور کاہلی سے کسی سکول میں سانحہ پشاور جیسا کوئی واقعہ ہوگیا تو یہ ہمارے ملک پر ایٹمی حملے سے کم نہ ہوگا، ہمارے تعلیمی ادارے ویران ہو جائینگے اور جہالت پنجے گاڑ لے گی آج بھی مائوں کی نظریں بچوں کی گھر واپسی تک ٹی وی پر ہوتی ہیں۔ ہمارا دشمن بلائیں لے رہا ہے جبکہ ہمارے حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے میں مست ہیں۔ حکومت مدارس کے گرد گھیرا تنگ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف کارروائی کرنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔ ایسی کارروائی کی نہ صرف عوام بلکہ وفاق المدارس بھی حمایت کریگا۔ حکومت کے پاس اگر تحزیب کاری میں ملوث مدارس کے بارے ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ پانچوں وفاق کے سربراہان کے ساتھ شیئر کرے اور ان کیخلاف کارروائی کی جائے ثبوت فراہم کرنے سے انتشار کی کیفیت دم توڑ جائیگی لیکن اگر ثبوت نہیں تو پھر مدارس کی گردنیں دبوچنے سے بہتر یہی ہے کہ انکے نصاب میں بہتری لائی جائے۔ بقول حکومتی احباب کے مدارس میں عسکریت پسندی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ تو اس رجحان کو ختم کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ مدارس کے کردار کو مسخ کئے بغیر بھی ان چیزوں پر بات ہو سکتی ہے مدارس کے نصاب میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ نصاب کو جدید عہد کے تقاضہ کے مطابق بنانا جائے ماضی میں ان مدارس میں حکمت اور خطاطی کی تعلیم دی جاتی تھی آج انکی جگہ پر پولی ٹیکنیکل ادارے قائم کئے جائیں۔ بعض مدارس میں تو اب با قاعدہ سکول بنا دیے گئے ہیں  لیکن اب ہر مدرسے کے ساتھ سکول تعمیر ہونا چاہے درس نظامی میں شامل منطق کی کتابیں تیسرالمنطق، ایسا غوجی، مرقات، شرح تہذیب، قطبی سلم العلوم تصورات کی کتابوں کی بجائے سائنس ریاضی کمپیوٹرکی تعلیم دی جائے۔ انگریزی اور دیگر مروجہ زبانوں کی تدریس پر بھی توجہ دی جائے۔ لیکن اس مقصد کیلئے ایک منظم اور مربوط حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے مدارس کی قیادت کو اعتماد میں لیکر یہ سلسلہ شروع کیا جائے لیکن حکومت اگر مدارس کو اپنا دشمن سمجھ کر غیر ملکی خواہشات کے خاکے میں رنگ بھرنے کی کوشش کریگی تو اسکے اچھے نتائج برآمد نہیںہونگے۔ ٹکرائو کی پالیسی سے انتشار پیدا ہوگا مدارس ہمارے ملک کی سب سے بڑی این جی اوز ہیں ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ طلباء مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ واضح رہے کہ مدارس میں کھانے پینے اور رہائش سمیت ساری سہولیات بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے اگر ایک طالبعلم کے تین ٹائم کھانے پینے کا روزانہ خرچہ صرف ایک سو روپیہ ہو تو روزانہ تیس کروڑ روپے صرف کھانے پر خرچہ بنتا ہے۔ اس کوتیس پر ضرب کریں تو ایک مہینے کا خرچہ 9 ارب روپے بنتا ہے اور بارہ مہینوں کا خرچہ ایک کھرب بارہ ارب روپے بنتا ہے ۔ ان مدارس نے اتنے بچوں کو سنبھال رکھا ہے لہذا حکومت ان مدارس میں مزید بہتری لائے تاکہ دنیا کی یہ سب سے بڑی این جی اوز تعلیم کیساتھ ساتھ مفلوک الحال بچوں کی مدد جاری رکھ سکے، تمام علما ء عوام کو درس دیتے ہیں کہ انبیاء کی وراثت علم کے سوا کچھ نہیں ہوتی لیکن مدارس میں وراثت چلتی ہے مہتمم کا بیٹا ہی مہتمم بنتا ہے اسی کے عزیزواقارب کے پاس باقی عہدے ہوتے ہیں اس رسم کو ختم کیا جائے ۔ اور ذہین اساتذہ کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں۔ آخرمیں من حیث القوم ہم سب کو اپنا رویہ درست کرنا ہو گا ہم صدیوں سے مردار خور گدوں کو شاہین لٹیروں کو لیڈر اور رہزنوں کو رہنما سمجھ رہے ہیں ہمیں سچ کو اپنا کر جھوٹ پر تھوکنا ہو گا۔ تاکہ ہماری آنیوالی نسل کو ودہشت گردی سے پاک پاکستان مل سکے ۔