آثار کچھ بہار کے پیدا ہو ئے تو ہیں !

آثار کچھ بہار کے پیدا ہو ئے تو ہیں !

گزشتہ روز کی پھوار سے مو سم کھل گیا ہے نہ صرف پورے صوبہ پنجاب ،شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا میں ہلکی پھلکی بارش سے کھیتوں اور کھلیانوں میں ہریالی پھوٹی ہے بلکہ بارش کے بعد سورج کی میٹھی میٹھی تپش نے موسم بہار کی نوید دی ہے ۔ پاکستان کے سیا سی مو سم نے بھی کر وٹ لی ہے 16دسمبر2014ء کے آرمی پبلک سکول پشاور میں بربریت کے باعث جو قیامتِ صغریٰ برپا ہوئی تھی اُسکے نتیجہ میں پوری قوم ماتم کی حالت میں اُداس اور شرمندہ تھی کہ بعض انسان درندوں سے بھی بدتر اسفل سافلین کی حد تک اخلا قی گراوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ قوم کی غیرت اور ضمیر کو سانحہ پشاور سے ایک ایسا جھٹکا لگا جس سے دہشتگردی کے خلا ف سیا سی و فو جی قیادت اور پوری قوم متحد ہو گئی ۔ 150سے او پر معصوم طالبعلموںاور اُنکے اساتذہ کی شہا دت نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیا سی جماعتوں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کیخلا ف قو می و حدت کا کرشمہ دیکھایا جس کا نتیجہ 16دسمبر 2014سے لیکر آج تک ہونیوالے اقداما ت سب کے سامنے ہیں۔ آ ج اگر قارئین گزشتہ برس کے 14اگست کے قو می منظر نامہ پر نظر ڈالیں جبکہ سیا سی انتشار نے جنم لیکر ہر طرف ایک غیر یقینی صورتحال اور احتجا جی جلسے جلوسوں و دھرنوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا تھا اُسکے مقا بلہ میں موجودہ منظرنامہ پر نگاہ ڈالیں تو چاروں طرف ایک نئی سحر کے طلو ع ہونے کے آثار نظر آ تے ہیں ۔ حالات کے جبر نے قوم کے اندر 1940کی دہائی والی تحریک پاکستان کی یکجہتی کی جھلک پھر سے نظر آ نیوالی ہے۔ کسی بھی بحرانی صورتحال سے نپٹنے کیلئے یہ بہادر قوم اپنے تمام اندرونی اختلافات بھلا کر ایمان، اتحاد اور تنظیم کی بدولت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اپنے خلا ف دشمنوں کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دیتی ہے جیسا کہ 1965 کی جنگ میںہوا ۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے حالیہ سانحہ نے اسی بنیادی قومی کردار کو پھر سے اُجاگر کیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جذبہ کو قائم و دائم رکھا جائے کیونکہ ساز شی عناصر اس قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے در پے نظر آ تے ہیں۔ جو طرح طرح کی افواہوں اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے صا ف نظر آ تا ہے مثال کے طور پر دہشتگردی کیخلا ف جو قومی کمیشن مقرر کیا گیا ہے اور اسکے تحت 20کے لگ بھگ جو کمیٹیاں اور کمیشن بروئے کار لا کر انقلا بی اقدمات شروع کئے گئے ہیں جن میں تاریخ سا ز21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں بھی تر میمات شامل ہیں جن کے نتیجہ میں سپیشل عدالتوں کا قیام وجود میں آیا ہے تاکہ دہشتگردی کیخلا ف ما ضی کے زیر التواء مقد مات پر دئیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کو بلا تاخیر تکمیل تک پہنچایا جائے اور آئندہ ہونیوالے سنگین مقدمات سپیشل عدالتوں میں فوری انصاف کے تقاضوں کو جلد از جلد نپٹا سکیں۔ بعض حلقے ان انقلابی فیصلوں پر بال کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں اور یہ غلط اور بے بنیاد تعصب دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ سپیشل عدالتوں کا قیام ایک علیحدہ متبادل عدالتی نظا م نافذ کرنے کی کاوش ہے۔ جس کیلئے اعلیٰ عدالتوں کی طرف خصوصی سپیشل عدالتوں کو کالعدم قرار دینے کیلئے پٹیشن بھی دائر کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح سادہ لوح عوام کے مذہبی جذبات کو اُبھارنے کیلئے غیر رجسٹرڈ مدارس اور عوام میں مذہب کے نام پر حکومت اور بعض فرقوں کیخلاف منافرت کے جذبات کے غلط طور پر بھڑکائے جانے کو روکنے کیلئے اصلاحات کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے تا کہ معاشرہ میں اختلافات اور انتشار کو ہوا دے کر قو می استحکام کو عدم ِ استحکام کا شکار بنایا جائے۔یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک بھارت نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وجود کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ 1971ء میں بھارت نے مشر قی پاکستان میں 1971ء میں ننگی جارحیت کرکے پاکستان کو دولخت کیا۔ اُسکے بعد آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے وہی عناصر اپنی پرانی دیرینہ سازشوں کا تسلسل جاری رکھنے کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسی اندرونی و بیرونی پاکستان مخالف طاقتوں کے گٹھ جوڑنے اپنے باہمی اشتراک سے پاکستان کے اندر ہر طریقہ سے عدم استحکام پیدا کر نے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک بانی ِ قوم قائد اعظم کی رحلت اور قائد ملت وزیراعظم لیاقت علی خان کی ہلاکت کے بعد ہم اکثر و بیشتر ایسی قیادت سے محروم رہے جو قائد اعظم کی صحیح وارث بن کر اُن کے تصورات کیمطابق ریاست کے ڈھانچہ کو تشکیل دیتی اور اس طرح ہم ایک جدید اسلامی، جمہوری و فلاحی مملکت کے قیام میں ناکام رہے ۔ آج ہم اسی نا اہلی کی سزا بھگت رہے ہیں۔چنانچہ اگرچہ زبانی کلامی ہمارے تمام حکمران ایک اسلامی معاشرہ کے قیام کے دعوے کرتے رہے لیکن عملی طور پر کسی نے بھی خلوص دل سے اس طرف توجہ نہیں دی جسکے نتیجہ میں نہ ہی ہم جدید اسلامی معاشرہ قائم کر سکے اور نہ ہی ہم نے عملی سطح پر جمہوریت کی روح پر عمل درآمد کی ذرہ بھر بھی کوشش کا مظاہرہ کیا ۔ جسکے نتیجہ میں غریب عوام کی حالت بدستور بد سے بدتر اور غریب سے غریب تر ہوتی گئی اور ایک مخصوص طبقہ تمام سطح پر اختیارات کی طاقت حاصل کر کے امیر سے امیر تر بن گیا جسکے نتیجہ میں حکمران تمام اختیارات پر قابض اور غریب تمام سہولتوں سے محروم ہو کر غریب ترین سطح پر پہنچ چکے ہے۔ ایسے میں ایک فلاحی مملکت کا قیام کیسے ممکن ہے۔ سانحہ پشاور نے حکومت کے ہر ستون اور معاشرہ کے ہر شعبہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ مملکت کی سیاسی اور فوجی قیادت نے عوامی خواہشات اور تاریخ کے اشارے کا ادراک کرتے ہوئے صحیح سمت میں اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ جن پر اگر عزم اور استقامت کے ساتھ عمل درآمد جاری رکھا گیا تو پاکستان کے عوام اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور انگنت قدرتی وسائل کی موجودگی میں بہت جلد اپنی منزل کو پا لیں گے۔ انشا اللہ