ارفع کریم … قوم کا فخر

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
ارفع کریم … قوم کا فخر

ارفع ہماری بیٹی ہے جو ہمیشہ ہماری زندگیوں میں شامل رہے گی۔ آج ارفع کو ہم سے جُدا ہوئے 3 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن اُس کا خواب ہماری آنکھوں میں جگنوئوں کی طرح چمک رہا ہے۔ ارفع کریم کا اتنے مختصر وقت کیلئے دنیا میں آنے کا مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ اُس نے کس طرح اپنی قوم کے نوجوان کو ایک پیغام دیا ایک راستہ بتا دیا گو کہ یہ راستہ تو اسلام کے پھیلائے جانے کے عمل کے ساتھ ہی متعین کیا جانے لگا تھا لیکن ہزاروں صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اُس کو بار بار بھول جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے نئے راستے بنانے لگتے ہیں۔ ارفع نے اپنے ہُنر کو پھیلانے کیلئے صرف اپنی ذات کے بارے میں ہی نہیں سوچا تھا۔ اُس کا مقصد ایک تیر سے ہزاروں شکار تھے۔ اُسکے بتائے گئے راستوں کی بہت سی منزلیں تھیں وہ دراصل پاکستان کی ترقی کا خواب دیکھتی تھی۔ وہ اپنی قوم و ملک کیلئے ایک دردمند دل رکھتی تھی۔ اُس کا اکثر پیغام بہت واضح ہوتا تھا۔ جب وہ بل گیٹس سے ملیں تو اُنہوںنے اپنی ذات کیلئے اُس سے کوئی بات نہیں کی بلکہ اُس نے اُسے بتایا کہ ہمارے ملک میں آ کے دیکھیں کہ ہماری عورت کس طرح محنت کرتی ہے۔ ارفع کی ہر بات میں چھپی بات ہر میدان میں صرف اپنے ملک کی ترقی کی ہوتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُسکے بتائے گئے راستے پر چلنے سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔ قوم اور خصوصاً نوجوان طبقہ جب ارفع کے بتائے گئے Software اور دیگر کمپیوٹر کے معاملات کو سمجھ لیں اور اپنے ملک کیلئے اسکے نئی تکنیکی کام اور جدید طریقہ کار پر کام کر کے ملک کو انتہائی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ارفع کا کردار اعلیٰ تھا۔ اُسکی آواز کوئل کی طرح خوبصورت اور آنکھیں ستاروں کی طرح سے چمکتی دمکتی، والدین کی پوری کائنات اُسکی مسکراہٹ اور شرارت بھرے چہرے پر قربان ہُوا کرتی تھی۔ ماں کی لاڈو، بابا کا کھلونا اور بھائیوں کی اچھی دوست تھی۔ وہ تین سال سے ہمارے ساتھ نہیں ہے مگر جو مقصد وہ اس قوم کو دیکر گئی ہے وہ اُسکے ماں باپ نے پھیلانے کیلئے دن رات انتھک محنت کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ اپنے آنسو بہاتی آنکھوں کے ساتھ یوں مسکراتے ہوئے فیصل آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں اُس کا IT پلان متعارف کراتے ہوئے اس انتظار میں ہیں کہ حکومت اُنکے ساتھ تعاون کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ ذہین بچوں کو نکال کر ایک ٹیم بنائی جائے۔13 جنوری کو ارفع کریم ٹاور میں اُس کی تیسری برسی پر بہت سے نوجوانوں نے موم بتیاں جلا کر اُس کو خراجِ تحسین پیش کیا لیکن پچھلے سال سے اس دفعہ نوجوان طبقہ بھی کم تھا اور ملک کے کوئی مشہور و معروف لوگ سیاستدان یا گورنمنٹ کے لوگ وہاں موجود نہیں تھے جس سے ارفع کے والدین افسردہ ضرور ہوئے لیکن اُنکے عزم اور استقلال میں کوئی کمی نہ آئی لیکن یہاں پہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ اپنی اس قوم کی بیٹی Youngest Mircrosoft Certified Professional جس نے پوری دُنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے کو کیا آج ہم ارفع کریم کو بھول گئے ہیں جبکہ اسکی سوچ، رجحان اس کا یقین اس بات کا عکاس تھا کہ وہ Microsoft  میں نئی دنیا بنانا چاہتی ہے لیکن اگر اُسے قسمت نے مہلت نہیں دی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُسکے بڑھے ہوئے قدموں کیلئے راستے منہدم، متزلزل اور منتشر ہو گئی ہیں نہ صرف اُسکے ماں باپ اور بھائی بلکہ اُس کے رشتہ دار، استاد اور دوست احباب سارے اُسکی ذہانت کی بنیاد کو لے کر اُسکے آس کی سوچ کی کرنوں کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ارفع کے جانے سے ہمارے ملک کیلئے Software اور نئی تکنیک کی ایجادات ہونے اور بننے میں رکاوٹ پیدا ہوتی نظر آ رہی تھی لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سورج ڈوبتا ہے تو چاند ستارے روشنی کرتے ہیں۔ کسی کے دنیا سے چلے جانے سے اگر اُس کا جسم خاک ہو جاتا ہے تو کیا ہوا اُس طرح تو کتنی قیمتی ہستیاں خاک ہوئیں مگر اُنکے کام کی وجہ سے اُن کا نام آج بھی زندہ ہے۔ اس طرح ارفع نے جو کام شروع کیا اور وہ بھی اتنی چھوٹی عمر میں کہ جہاں لڑکیاں جھولا جھولتی ہیں۔ گڑیوں سے کھیلتی ہیں۔ رنگ برنگے کپڑے سلواتی ہیں۔ والدین سے ناز نخرے اُٹھواتی ہیں وہاں ہماری بیٹی ارفع نے ایک عہد کر لیا کہ وہ صرف اپنے وطن کا نام روشن کریگی۔ اس کیلئے وہ کبھی بھی آرام سے نہیں بیٹھا کرتی تھی۔ چلتے پھرتے بھی لیپ ٹاپ ہاتھ میں ہوتا، کار میں سفر کے دوران بھی گود میں رکھے کام کرتی مگر صرف یہ نہ تھا کہ وہ ایک ہی کام کرتی بلکہ اُس کو اللہ نے خوبصورت آواز عطا کی تھی اور وہ اتنے اعتماد کے ساتھ تمام سُر لگاتی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ جانے کتنے بڑے اُستاد سے گانا سیکھ رکھا ہے۔ اسکے علاوہ ایک اچھی مقررہ بھی تھی کہ سُننے والے مبہوت ہو کر سُنتے اور تالیوں سے ہال اُس وقت تک گونجتا جب تک سٹیج سے اُتر نہ جاتی۔ تمام کھیلوں میں ماہر تھی، بہت اچھی اداکاری بھی کرتی اور سب کو حیران کر دیتی۔ والدہ کیساتھ شاپنگ کرتی اُنکے لباس کی ڈیزائنر بھی تھی اور بازار سے گول گپے ضرور کھاتی۔ بھائیوں کیلئے چہکتی چڑیا ضرور تھی مگر اُن پر پورا کنٹرول رکھتی تھی انکی پڑھائی اور دیگر معاملات پر نظر رکھتی اور بھائی اُسکے لیپ ٹاپ کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے تھے کیونکہ وہ سب کچھ معاف کر سکتی تھی مگر اپنے قیمتی خیالات کسی کو مکمل ہونے سے پہلے دیکھنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔ اُسکے عزم اور اُسکی ذہنی استعداد کو دیکھتے ہوئے اُسکے والدین نے لاہور رہنے کا پروگرام بنایا اور فوج کو خیر آباد کہہ دیا تا کہ اُنکی بیٹی کو اپنے وطن کی خدمت کرنے اور وطن کیلئے عزت کا مقام بنانے کیلئے کوئی کسر نہ رہ جائے اور اُنکی نوکری رکاوٹ نہ بن جائے۔ آفرین ہے ایسے والدین پر بھی کہ اُنہوں نے اپنی بیٹی کو ہمیشہ سراہا اور اُسکے کام پر جتنے بھی اخراجات آتے ایک مرتبہ بھی اُنکے ماتھے پر بل نہ آتا۔
آج ارفع کے مقصد کو لے کے بہت جگہوں پر کام ہو رہا ہے اُسکے والدین دیوانہ وار اُسکے خیالات کولے کر کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی اُن کو ضرورت ہے گورنمنٹ کے تعاون کی کہ یہ کام کسی کا ذاتی کام نہیں۔ یہ ہمارے وطن کی عزت کا مقام اور پاکستانیوں کی شہرت کے دوام کیلئے ہو رہا ہے۔آج ہم ارفع کے لیے دُعا گو ہیں کہ اللہ اُس کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ہم دنیا میں اُسکے کام، عزم اور مقصد کو لے کر اُس کا وہ خواب پورا کریں جو اُس نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے وطن اور اپنے وطن کے نوجوانوں کیلئے دیکھا تھا!