’’طالبان سے امن مذاکرات‘‘

چند روز پہلے وزیر اعظم جناب نواز شریف نے طالبان سے امن مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں اعلان کیا اور شرپسندوں کیخلاف طاقت کے استعمال کو ترک کرنے کا عندیہ دیا ۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے میں نے اطمینان کا سانس لیا اورسوچا کہ طالبان کی جانب سے ہزاروں فوجیوں کی ہلاکت اور عسکری تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظر انداز کر دینا چاہئے اور طالبان اور القاعدہ کو کسی بھی قیمت پر مذاکرات پر آمادہ کرنا ضروری ہے۔ اسی منطق رو سے اور اسلامی اُمہ کے مفادات کے تحفظ کی خاطر ہمیں اُں ہزاروں بے گناہ عوام جن کو خود کش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ میں موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ کے بیمانہ قتل کو بھی مکمل طور پر بھول جانا چاہئے۔ کیونکہ ہمیں قومی مفادات کے مقابلے میں اسلامی اُمہ کی بھلائی زیادہ عزیز ہے کیا طالبان کی طرف سے سکول ، مدرسوں، گرجاگھر، مسجدوں اور بازاروں پر حملے اور ہزاروں بے گناہ بچوں عورتوں اور مردوں کے قتل پر اُن نیک اور پارسا لوگوں کیخلاف جنگ کریں۔ ہرگز نہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ اور پچھلی حکومت نے دریا دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اور آہنسہ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر قتل و غارت میں ملوث افراد تو کیا عام قاتلوں کو بھی پھانسی کی سزا دینا بند کر دی ہے۔ جہاں تک ملک سے غداری کا سوال ہے تو کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ جناب وزیر اعظم سابقہ صدر پرویز مشرف کیخلاف بڑی شدومد سے مقدمہ چلانے میں مصروف ہیں اور مولوی فضل اللہ اور اُس جیسے متعدد تخریب کاروں کے عوام کیخلاف جرائم کو معاف کر کے اُن سے صلح کرنے کو بیتاب ہیں۔ اس ضمن میں لوگوں کا احتجاج اُن کی کوتاہ نظری قائدانہ صلاحیتوں کے فقدان کی نشان دہی کرتا ہے۔ امن کی اس خواہش کے پیش نظریہ قوی امید کی جا سکتی ہے ہمارے وزیر اعظم جلد ہی نوبل پرائز کے لیے منتخب ہو جائینگے۔ کاش یہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں فوری طور پر نوبل پرائز اپنے وزیر اعظم کو دے دیتا۔
جناب وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ طالبان سے بات چیت ملکی آئین کے دائرہ ِکار میں رہ کر کی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ طالبان ملکی آئین کو سر ے سے مانتے ہی نہیں اور اُنکے خیال میں جمہوریت اسلامی روح اور تعلیمات سے متضاد ہے۔ اور ویسے بھی طالبان ہمارے بھائی اور مہربان ہیں اُن سے مذاکرات کے دوران دریا دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں نہ صرف وہ علاقہ جو اُنکے زیر اثر ہے بلکہ اگر وہ ملک کے کسی اور حصے پر بھی اپنا دائرہ کار بڑھانا چاہیں تو ہمیں اُنکی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اُن کو وہ بھی عطا کر دینا چاہیے آخر بھائیوں میں تو ایسا ہوتا ہی ہے جہاں تک طالبان کا تعلق ہے اُنکے مطالبات بہت ہی مناسب و معقول اور درج ذیل ہیں:
اول: قبائلی علاقوں سے فوج اور نیم فوجی دستوں کا مکمل اور فوری الخلاء
دوم: ڈرون حملے فوری طور پر بند ہوں۔ (لیکن اس سلسلے میںدشواری یہ ہے کہ ا مریکہ ہماری اس خواہش کو ماننے کے لیے قطعی تیار نہیں)
سوم: انتہاء پسندوں کو ملک کے اندر ایک متوازی حکومت قائم کرنے اور اپنے زیر اثر علاقوں میں اپنی خاص طرز کی شریعت نافذ کرنے کا مکمل اور غیر مشروط اختیار دیا جائے
چہارم: ملکی اور غیر ملکی جنگجوں اور انتہا پسندوں کو پاکستان کے علاقے میں رہائش ، آرام ، حربی تیاریاں اور ہمارے علاقے سے القاعدہ کی پالیسی کے مطابق پوری دنیا میں حملے کرنے کے مکمل سہولت دی جائے
پنجم: پورے ملک میں انتہا پسندوں کو اپنا نیٹ ورک کا جال بچھانے کی مکمل آزادی دی جائے تاکہ وہ پورے ملک پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر سکیں
ششم: طالبان سے تعلق رکھنے والے وہ تمام افراد جو اس وقت جیلوں میں ہیں اُن کو فوری طور پر رہا کیا جائے
ہفتم: طالبان کو کراچی سے لنڈی کوتل تک فنڈ اکٹھا کرنے کی مکمل آزادی میسر ہو اور اس سلسلے میں بینکوں پر ڈاکے، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی کاروائیوں کیخلاف حکومت قطعً کوئی قانونی چارہ جوئی نہ کرے۔
قارئین! جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو وہ ملک کے طول وعرض میں اپنی عملداری قائم کر کے موجودہ آئین اور جمہوری طرز حکومت کو یکسر ختم کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے کیا یہ کوئی بہت بھاری قیمت ہے؟ ہر گز نہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے بین الاقوامی ردِ عمل کو بھی مکمل طور پر رد کر دینا چاہئے۔ مجھے قوی امید ہے کہ ہمارے وزیر اعظم اپنی امن و امان کی شدید خواہش کے پیش نظر طالبان سے امن مذاکرات ہر قیمت پر جاری رکھیں گے چاہے ملک میںکتنے بھی خوش کش حملے یا بم دھماکے کیوں نہ ہوتے رہیں نیز ہمیں اُن بے گناہ افراد جن میں معصوم بچے، عورتیںاور دیگرافراد شامل ہیں کے قتل وغارت کو یکسر بھول جانا چاہیے اور طالبان اور القاعدہ کے لیڈز سے بات چیت کے سلسلے میں بلاحیل و حجت حکومتی کاوشوں کی حمایت اور تصدیق کرنی چاہئے بے شک ہمارے رہنما عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لیے بڑی بڑی قربانی بھی دینے سے گریزاں نہیں۔