یہ عام آدمی ہی کر سکتا ہے!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

یہ کام عام آدمی ہی کر سکتا ہے حالانکہ اس میں اس کی نااہلی کا دخل نہیں ہے بلکہ ذمہ دار وہ سیاسی اشرافیہ ہے جو پنجابی میں ’’گوڈے گوڈے‘‘ کرپشن میں ملوث ہے جو دنیا کے نقشہ پر بھارت نام کے ملک کے ابھرنے کے اول روز سے ہی اقتدار پر قابض ہے، زیادہ مدت تک کانگرس اور اس سے کم مدت تک بھارتیہ جنتا پارٹی اگرچہ جنتا پارٹی کا اردو ترجمہ عوامی پارٹی ہے جس طرح پیپلز پارٹی کا اردو ترجمہ بھی ’’عوامی پارٹی‘‘ ہی ہے۔ بھارت اور پاکستان کو جنم دینے والی پارٹیاں بھارت میں کانگرس اور پاکستان میں مسلم لیگ ہے۔ کانگرس اور مسلم لیگ میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں جہاں اپنے اپنے ملکوں میں روز اول سے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں دونوں پارٹیوں کے بطن سے مزید دھڑوں نے جنم بھی لیا ہے۔ دونوں پارٹیوں میں اپنے اپنے ملک کے ’’جاگیردار‘‘ دوسرے لفظوں میں زمیندار کہ پہلے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے قیام بھارت کے فوراً بعد جاگیریں ختم کر دیں تھیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے بھی پاکستان میں جاگیرداری یا بڑی زمینداریاں ختم کرنے کا منصوبہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ یہ ’’مبارک‘‘ قدم پہلے مشرقی پاکستان میں اٹھائیں جہاں جاگیرداریاں، زمینداریاں کم ہیں۔ اس منصوبے پر وہاں عمل درآمد ہو جائے گا تو مغربی پاکستان میں اس نظیر کی بنیاد پر مزاحمت نہیں ہو سکے گی۔ یاد رہے پہلی کابینہ میں جاگیردار یا ان کے حامیوں کی اکثریت تھی، جنہیں لیاقت علی خان پر یہ غصہ بھی تھا کہ یہ شخص اپنی زمینیں تو کرنال میں چھوڑ آیا ہے اور اب ہماری زمینوں کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ بہرحال لیاقت علی خان نے یہ بات مان لی۔ مشرقی پاکستان میں جاگیریں ختم کرنے اور زمینوں کی حد مقرر کرنے کا اعلان کر دیا گیا اور اس سے پہلے کہ وہ مغربی پاکستان میں اس عمل کو دوہراتے انہیں شہید کر کر دیا گیا۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں بھارت جیسا ہی ایک سین نظر آتا ہے۔ کانگرس کے خلاف عوامی حقوق اور عوامی راج کا نعرہ لگا کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میدان میں آئی، جیسا نعرہ لگا کر پیپلز پارٹی پاکستان میں سیاسی میدان میں اتری حالانکہ دونوں پارٹیوں میں طبقاتی ہم آہنگی ہے اور ’’کچھ فرق نہیں ان چاروں میں‘‘ کے مصداق بھارت کی کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور پاکستان کی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے رنگ ڈھنگ دیکھ لئے جائیں کچھ فرق نظر نہیں آئے گا۔ چاروں پارٹیاں اپنے اپنے ملک میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کی محافظ نظر آئیں گی۔ چاروں پارٹیوں کے بڑے لیڈروں پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ چاروں پارٹیوں نے اقتدار میں آ کر کرپشن کی روک تھام کی بجائے کرپشن کا تحفظ کیا اور اسے فروغ دیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام سخت تنگ اور بیزار ہیں، تب ہی تو جب اناہزارے نے کرپشن کے خلاف مہم چلائی تو بھارتی عوام نے پرجوش حمایت کی اور جب اناہزارے کے ایک ساتھی اروند کیجروال نے عوام پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بنا کر کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو عوام نے اسے نئی دہلی صوبہ کی حکومت دلا دی۔ کیجروال نے وعدہ کے مطابق عوام کی اہم ترین ضروریات پانی اور بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف دیا اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے صوبائی اسمبلی میں کرپشن کے خلاف قانون سازی کے لئے بل پیش کیا لیکن یہ منظور نہ ہو سکا کیونکہ سیاسی میدان میں ایک دوسرے کی جانی دشمن کانگرس اور بی جے پی نے اس کے خلاف ایکا کر لیا کیونکہ کرپشن کے خلاف قانون بنا تو انہیں معلوم ہے کون زد میں آئے گا۔ یہ بل کانگرس اور بی جے پی کی ملی بھگت نے ناکام بنایا لیکن کیونکہ یہ قانون نہ بن سکنے کی وجہ سے وزیر اعلیٰ کیجروالا اپنے صوبے میں کرپٹ افراد پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے تھے، انہوں نے اپنی ناکامی سے موسوم کر کے کابینہ سمیت استعفیٰ دے دیا۔ یہ ایک بہت بڑا سیاسی فیصلہ ہے اس سے نہ صرف کانگرس اور بی جے پی بے نقاب ہو گئیں بلکہ دوبارہ الیکشن میں غریب عوام پارٹی کو دوتہائی اکثریت حاصل ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں بلکہ روشن ہو گئے ہیں، افسوس پاکستان میں بھی عوام کے مسائل بھارت جیسے ہی ہیں، دونوں ملکوں میں سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، نیچے سے اوپر تک جس کا ہاتھ پڑتا ہے اس نے کرپشن میں خوب ہاتھ رنگے ہیں مگر پاکستان میں کوئی کیجروال پیدا نہیں ہوا، کرپشن کے خاتمے سے ہی سماجی انصاف مہیا ہو سکتا ہے مگر افسوس پاکستان میں تحریک انصاف سمیت کسی حکومت یا اپوزیشن جماعت نے کرپشن کے خلاف موثر قانون سازی کے لئے کوئی بل کسی ایوان میں پیش نہیں کیا جو کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دے نہ کرپشن کے خلاف اخباری بیانات دینے سے بڑھ کر کوئی موثر مہم چلائی ہے اور نہ ہی آج تک کسی ناکامی پر کسی و زیراعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر حتیٰ کہ ایم این اے یا ایم پی اے نے استعفیٰ دیا ہے۔