شاہ عبداللہ مرحبا

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق

عالی مرتبت، شاہ معظم، کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز آج پاکستان کے غیر معمولی اور تاریخ ساز دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ محض رسماً یا لفاظی کی حد تک ہی غیرمعمولی اور تاریخ سازنہیں حقیقتاً ایسا ہے۔ شاہ عبداللہ زندگی کی 90 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں ان کی آمد پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتی صدر پاکستان ممنون حسین عمرہ کیلئے گئے تو مبینہ طور پر انکی دعوت پر وہ پاکستان آ رہے ہیں۔
کسی بھی ملک کے عالمی سطح پر ضروری نہیں تعلقات ایک جیسے ہوں‘ ان میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ جمہوری ممالک میں حکومتیں بدلنے سے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوتے۔ اسلامی ممالک میں ایسا خال خال ہوتا ہے۔ان میں آپس کے تعلقات کا انحصار حکمرانوں کے مسلک پر ہے۔ پاکستان جیسے نیم جمہوری ملک میں، جہاں حکمران کبھی اپنے مسلک کو نمایاں نہیں کرتے پھر بھی ان کو زیر بحث لا کر ہی دیگر ممالک اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے یا نظرثانی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان سعودی عرب تعلقات سردمہری کا شکار رہے جبکہ پاک ایران تعلقات میں امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود تلخی میں اضافہ نہیں ہوا۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد غیر معمولی جغرافیائی تبدیلیاں ہوئیں۔ کئی خلافتیں اور بادشاہتیں ٹوٹیں، کئی نئی مملکتیں وجود میں آئیں۔ 20ویں صدی کے آخری دو عشروں میں امریکہ و روس کے مابین سرد جنگ خطے میں گرم جنگ کے طور پر لڑی گئی‘ اسکے نتیجے میں سوویت یونین ٹوٹا اور بکھر کے رہ گیا۔ اس جنگ کے بعد بھی ایک مخصوص خطے کی حد تک جغرافیائی تبدیلیاں ہوئیں۔ پاکستان بھارت جنگ سے پاکستان ٹوٹا اور بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا۔ امریکہ کی افغانستان پر یلغار میں چالیس سے زائد ممالک شامل ہیں۔ عالمی جنگ کا مطلب دنیا کے تمام ممالک کا ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہونا ضروری نہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی پوری دنیا شامل نہیں تھی۔ جس جنگ کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے رواں سال انخلا کر رہے ہیں، وہ کسی نہ کسی معنی میں تیسری عالمی جنگ ہے اور اسکے بعد تبدیلیوں کا رونما ہونا یقینی ہے۔ وہ جغرافیائی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں، مملکتیں ٹوٹ سکتی ہیں۔ کئی نئے ممالک معرضِ وجود میں آ سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں، جیسا کہ یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ لیبیا، تیونس، مصر میں ایسا ہو چکا اور یہ سلسلہ یمن، شام، لبنان اور بحرین سے ہوتا ہوا بہت آگے جاتا نظر آتا ہے۔ اس کا تیسری عالمی جنگ سے کوئی براہ راست تعلق ہو یا نہ ہو‘ امریکہ کے عمل دخل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔یوں تو امریکہ پوری دنیا میں جمہوریت کے فروغ کا علمبردار ہے لیکن اپنے مفاد کیلئے آمروں اور بادشاہوں اور ایسے حکمرانوں سے بھی گہرے روابط استوار کر لیتا ہے جو ڈنڈے کے زور پر حکمرانی کرتے ہیں لیکن وہ ایسے لوگوں کواپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے اور پھر نیچے سے سیڑھی کھینچنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کرتا۔
سعودی عرب کا بہت سے معاملات میں امریکہ پر انحصار ہے۔ اب دونوں کے مابین اعتماد کی فضا میں خزاں اترتی نظر آرہی ہے۔ امریکہ اور سعودیہ کی لبنان، شام، مصر کے حوالے سے پالیسیوں اور سوچ میں واضح فرق ہے۔ ایران پر بُعدالمشرقین کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ کئی عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کے عوام کو جمہوریت کے سہانے سپنے دکھائے جا رہے ہیں۔ ان سے ان ممالک کے حکمران بے نیاز نہیں ہیں۔ یہ حکمران اپنا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے ہرممکن اقدام کر رہے ہیں۔ پہلے اقدام کے طور پر تو رعایا کو مطمئن اور خوش رکھنا ہے‘ اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی لیکن جمہوریت کی اپنی کشش ہے جو دور سے زیادہ ہی پرکشش نظر آتی ہے۔ ایسے لوگوں سے نمٹنے کا جو مناسب سمجھا جاتا ہے طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جو بحرین، شام اور مصر میں نظر آ رہا ہے۔
بظاہر سعودی فرمانرواؤں اور امریکی انتظامیہ کے درمیان جس طرح نزدیکیاں کم ہو رہی ہیں‘ اسی تیزی سے نواز حکومت کے ساتھ سعودی قربتیں بڑھ سکتی ہیں۔ جنوری کے شروع میں وزیر خارجہ سعود الفیصل پاکستان آئے اور اسکے بعد شاہی خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اور عہدیدار پاکستان میں آتا جاتا رہا۔ چند ماہ قبل سعودی شاہی خاندان کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہ لوگ لاہور بھی آئے۔ پاکستان سعودی عرب کیلئے امریکہ کا متبادل تو نہیں ہو سکتا لیکن سعودی عرب کا پاکستان کی طرف گرم جوشی سے ہاتھ بڑھانا ہی درست، بروقت اور دوراندیشانہ فیصلہ ہے۔ پاکستان امریکی دباؤ میں نہ آیا اور سعودی عرب کے گرم جوشی سے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو اسی گرم جوشی سے تھام لیا تو پاک سعودیہ سپر پاور وجود میں آ سکتی ہے۔
پاکستانی شریفین کے ہاں خادمین حرمین الشریفین کیلئے پہلے جیسی وارفتگی کا فقدان ہے۔ میاں نوازشریف وزیراعظم بننے کے بعد فوری طور پر عمرہ کیلئے نہیں گئے، ان کا پہلا دورہ چین کا تھا۔ اب خدانخواستہ برا وقت آیا اور ان کی کسی نے مرضی پوچھی تو وہ سعودی عرب کے بجائے ترکی جانا پسند کریں گے جہاں سنا ہے کہ وہ استنبول کے قریب تیسرا جاتی عمرہ بسا رہے ہیں جس کیلئے 5500 ایکڑ اراضی خریدی گئی ہے۔ پاکستان میں کئی عرب اور خلیجی ممالک نے بڑی بڑی جائیدادیں خریدلی ہیں۔ گوادر کے قریب اومان، شمسی ایئر بیس پہلے ہی امارات کی ملکیت ہے، سعودی عرب ایک لاکھ ایکڑ زمین خرید رہا ہے۔ سردست سعودی حکمرانوں کی شاہی کو خطرہ نہیں ہے۔ زرداری کا فرانس میں وائٹ کوئین اور لندن میں سرے محل موجود ہے، گویا دوسری ریاستوں کے اندر ننھی منی ریاستیں برے وقتوں میں اچھا وقت گزارنے کیلئے قائم ہو رہی ہیں۔
شریفین کی طرف سے پہلے کی طرح پذیرائی نہ دیکھ کر اور بے اعتنائی کو محسوس کر کے ہی سعودی شاہی خاندان پاکستان کا دورے پہ دورہ کر رہا ہے۔ خبریں آئی ہیں کہ اسے ایک لاکھ پاکستانی افواج کی ضرورت ہے اور ایسے لوگوں کی تربیت بھی درکار ہے جو بشارالاسد کی فوج کو بے بس کر سکیں۔ امریکہ نے شام پر حملے کا اعلان کر کے واپس لے لیا جس کے اخراجات سعودی عرب نے برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ امریکہ سعودی تعلقات میں دراڑ اسی سے پڑی جو امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر مزید وسیع ہو گئی اور یہ دراڑ شاید سعودی شاہی خاندان کے دل میں پڑ گئی ہے۔
خادمِ حرمین الشریفین پاکستان آ کرجو کہیں گے ‘ نوازشریف کیلئے اس سے انکار ممکن نہیں ہو گا۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کی رائے میں شاہ عبداللہ پاکستان تک سفر کی صعوبت اسی لئے اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی حکمران تھوڑی سے جرأت کریں اور سعودی عرب مخالف کیمپ کے دبائو میں نہ آئیں، امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھیں، خارجہ پالیسی مکمل طور پر پاکستانی مفاد کے تابع ترتیب دیں اور سعودی عرب سے مکمل وابستگی اختیار کر لیں سعودی شاہوں کی خواہشات کے عین مطابق تو پاکستان کی معیشت مضبوط اور قوم کی خوشحالی کی ابتدا ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب کو بھی اپنا دل بڑا کرنا ہو گا۔ وہ بنیادی پالیسیوں پر نظرثانی کرے‘ پاکستان کے پاس ہنرمند اور غیر ہنرمند افرادی قوت کی کمی نہیں جبکہ اسکے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ پاکستانیوں کیلئے ویزا فری کرے اور شہریت کے دروازے بھی کھولے۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں بہترین کردار ادا سکتا ہے۔ بہرحال شاہ عبداللہ کے اس دورے سے پاکستان کو بہتر تعلقات کیلئے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے‘ یقیناً یہ سنہری موقع ہے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا۔ محترم المقام شاہ عبداللہ کو پاکستانی قوم دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتی ہے۔