حضرت عمر فاروقؓ اور ہمارے عہد کے حکمران

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

اللہ کے آخری نبی امام کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس طرح اللہ نے مجھے تمام انبیاء سے افضل بنایا ہے اسی طرح کائنات نے میرے صحابہ کو تمام انبیاء کے صحابہ سے افضل بنایا ہے۔ ان افضل ترین صحابہ اور ان مقدس ترین ہستیوں میں حضرت صدیق اکبرؓ کے بعد اسلام کی سب سے بڑی شخصیت حضرت عمر فاروقؓ کی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے حوالے سے خواب دیکھا تھا اور پھر اس خواب کی تعبیر بھی خود ہی بیان کی تھی کہ فاروق اعظمؓ دین اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیں گے دین کی خدمت میں عمر فاروقؓ کبھی کمزوری اور قوت میں کمی کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں آج کے امریکہ کی طرح روم اور ایران دو سپر طاقتیں تھیں۔ عمر فاروقؓ نے اسلام اور محمد مصطفےؐ کا پرچم اٹھایا اور اس دور کی دونوں طاقتوں کو مسلمانوں کے پائوں کے نیچے روند ڈالا۔ دین اسلام کی خدمت کا ایسا حق ادا کیا کہ آج 1435ھ میں بھی مسلمان اگر فخر سے کوئی مثال دیتے ہیں تو حضرت عمر فاروقؓ کی فتوحات کا ہی حوالہ دیا جاتا ہے۔
ایک دن مسجد نبویؐ میں نبی کائناتؐ تشریف لائے تو ان کا ایک ہاتھ صدیق اکبرؓ کے کندھے پر تھا اور دوسرا ہاتھ فاروق اعظمؓ کے کندھا پر رکھا ہوا تھا۔ حضور نبی کریمؐ نے مسجد میں موجود اپنے صحابہ سے فرمایا کہ قیامت کے دن جب مجھے اٹھایا جائے گا تو اس وقت بھی یہی منظر ہو گا کہ محمد رسول اللہؐ کا دایاں ہاتھ صدیق اکبرؓ کے کندھے پر ہو گا اور بایاں ہاتھ عمر فاروق ؓ کے کندھے پر ہو گا۔ سرور کائناتؐ کے ہر صحابی کا مقام اپنا اپنا ہے۔ وہ سب ہمارے رہنما ہیں۔ سب کی اپنی اپنی شان ہے لیکن حضور نبی کریمؐ نے اپنے جلیل القدر صحابہ میں سے عشرہ مبشرہ کا مقام صدیق اکبرؓ او عمر فاروقؓ کے بعد صرف  8 صحابہ کرام کو اوردیا۔
اب میں یہاں حضرت عمر فاروقؓ کی بے غرضی اور بے نفسی کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ عمر فاروقؓ جس نے اپنے دور حکومت میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ جب ان کی شہادت کا وقت قریب آ پہنچا تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے صحابی رسولؐ بیٹے کو اپنے بعد مسلمانوں کا حاکم بنا دیں تو انہوں نے یہ کہہ کر یہ مشورہ رد کر دیا کہ قیامت کے دن اپنے اللہ کو کیا جواب دوں گا کہ میں نے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے مسلمانوں کی سلطنت کے اقتدار اور اختیارات کا مالک اپنے ہی بیٹے کو بنا دیا تھا۔ کاش ہمارے موجودہ حکمران اور سیاست دان بھی حضرت عمر فاروقؓ کی پوری نہیں تو ان کے ایک اصول کی ہی پیروی کر لیں کہ اقتدار کا حقدار صرف اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ہی نہ سمجھا جائے۔ آصف زرداری ہوں یا نواز شریف دونوں کی شدید خواہش یہی ہے کہ ان کے بعد اقتدار کہیں ان کے خاندان سے باہر نہ چلا جائے۔حضرت عمر فاروقؓ نے ان دس صحابیوں میں سے جن کا نام لے کر نبی پاکؐ نے جنت کی بشارت دی تھی چھ صحابہ پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی کہ عمر فاروقؓ کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ کا فیصلہ یہ کمیٹی کرے گی ان میں سے خلافت کے لئے کون سب سے موزوں بہترین ہے۔ عمر فاروقؓ کے بہنوئی سعید بن زیدؓ بھی عشرہ مبشرہ میں شامل تھے لیکن مسلمانوں کی خلافت کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی میں عمر فاروقؓ نے سعید بن زیدؓ کو صرف اس وجہ سے شامل نہ کیا تھا کیوں کہ عمر فاروقؓ اپنے اوپر یہ الزام نہیں لینا چاہتے تھے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے ایک فرد کو بھی مسلمانوں کی عظیم سلطنت کی حکمرانی کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی کا ممبر بنا دیا تھا۔ اب ہمارے دور کے حکمرانوں کی سیاست پر نظر ڈالئے۔ کہ جب تک وہ اپنے بیٹوں ، اپنے داماد کو اور اپنی بیٹی کے سسر کو پارلیمنٹ کارکن نہیں بنا لیتے اس وقت تک وہ مطمئن ہی نہیں ہوتے ہمارے ان سیاست دانوں بس میں ہو تو ساری پارلیمنٹ ہی اپنے خاندان کے ممبران سے بھر ڈالیں اور سارے ملک کی دولت اپنے گھر میں جمع کر لیں اور پھر اپنے ملک و قوم سے مخلصی کا یہ عالم کہ ہمارے اہم ترین سیاست دان اور بار بار اقتدار پر قابض ہونے والے حکمران اس ملک سے سمیٹی ہوئی دولت کو پاکستان سے باہر بینکوں میں رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
جب تک عمر فاروقلؓ مسلمانوں کے حکمران رہے‘ وہ قومی خزانے کے چوکیدار بن کر رہے اور بوقت شہادت انہوں نے اپنے ترکے میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ چھوڑی۔ سرور کائناتؐ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ اپنے جلیل القدر صحابی عمرؓ سے راضی تھے۔
 جب خود حضرت عمرؓ ایک طویل حکمرانی کا دور گزار کر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تو ان کا ضمیر مطمئن تھا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کسی سے ذاتی عداوت یا مخالفت نہ رکھی اور نہ ہی کسی سے اپنی ذات کیلئے انتقام لیا۔ آج ہم اسلام کا نام تو بہت لیتے ہیں لیکن ہمارے اعمال سے بھی تو اسلام کی جھلک ملنی چاہیے۔ نبی محترمؐ، رسول مکرمؐ اور انکے صحابہ سے بھی محبت کے ہمیں بہت دعوے ہیں۔ کیا ہم اپنے انداز حکمرانی سے یہ بات ثابت کر سکتے کہ ہم واقعی اللہ کے نبیؐ اور ان کے صحابہ سے کوئی نسبت رکھتے ہیں۔