جھگڑا دو چوہدریوں کا۔۔۔ انصاف کہاں؟

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

مسلم لیگ(ن) کے دو بڑے سیاسی برج صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں اور وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابد شیرعلی کے درمیان جاری سیاسی دنگل تھم نہ سکا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے فیصل آباد کے لئے ڈیڑھ ارب روپے کے جس ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا تھا اس کے تمام ٹھیکے منسوخ کر کے سیکرٹری سی این ڈبلیو اور کمشنر فیصل آباد ڈویژن پر مشتمل دو کمیٹیاں قائم کر دی ہیں جو کرپشن کی تحقیقات مکمل کر کے جلد از جلد رپورٹ وزیراعلیٰ کو ارسال کریں گی۔ رانا ثناء اللہ خاں پی پی 70 سے رکن صوبائی اسمبلی ہیں، میاں طاہر جمیل پی پی 69 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور صوبائی اسمبلی کے یہ دونوں حلقہ جات عابد شیرعلی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 84 کے ذیلی حلقے ہیں۔ گیارہ مئی 2013ء کے انتخابات کے دوران تینوں امیدوار ایک ہی حلقے کے پینل میں شامل ہونے کے باوجود کم و بیش ایک عشرے سے جاری سیاسی دنگل کے باعث ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں شکست برد کرنے کا جالا بچھاتے رہے مگر خدا کی قدرت تھی کہ تینوں ہی کامیاب ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے اور کھینچاتانی بدستور جاری رہی۔ گذشتہ ہفتے میاں طاہر جمیل جو پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں انہوں نے فیصل آباد کے ڈیڑھ ارب کے ترقیاتی پیکج میں کرپشن کے الزامات کو اٹھا کر اور قواعد و ضوابط کے بغیر من پسند ٹھیکیداروں کو مختلف سڑکوں کے ٹھیکے دے کر نوازنے کی بازگشت اٹھائی اور الزام لگایا کہ اکبر گجر سمیت جن ٹھیکیداروں کو قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیر کر ٹھیکے دیئے گئے ہیں ان پر مسلم لیگ(ق) کے دور میں غیرمعیاری تعمیرات کرنے اور کرپشن کی بابت انٹی کرپشن میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ میاں طاہر جمیل نے الزام لگایا کہ ٹھیکے اوپن ٹینڈر کی بجائے پول کر کے ملی بھگت کے ذریعے دیئے گئے۔ چک جھمرہ روڈ، جھنگ روڈ، بائی پاس روڈ، ملکھانوالہ روڈ، جڑانوالہ کی اہم سڑکوں، جڑانوالہ بچیانہ روڈ، وارث پورہ روڈ، گٹی پھاٹک تا لاہور بائی پاس روڈ سمیت کئی اہم شاہراہوں کے ٹھیکے کروڑوں روپے کی کرپشن کے عوض دیئے گئے۔ میاں طاہر جمیل کے اس الزام پر وزیراعلیٰ پنجاب نے پہلے انکوائری کا حکم دیا اور بعد ازاں تمام منصوبے منسوخ کر کے دو انکوائریاں کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔ رانا ثناء اللہ خاں صرف عابد شیرعلی اور میاں طاہر جمیل کے مسلم لیگ(ن) میں رہتے ہوئے سیاسی حریف نہیں ہیں بلکہ وہ اس وقت صوبے کے وزیر قانون بھی ہیں جس کے باعث ان پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف رانا ثناء اللہ خاں میاں طاہر جمیل کی طرف سے اٹھائی گئی ایسی بازگشت پر ان کے سیاسی گرو عابد شیرعلی اور عابدشیرعلی کے والد چوہدری شیرعلی پر ماضی میں کرپشن، کمیشن اور چوری کے الزامات لگانے لگے ہیں تو دوسری طرف میاں طاہر جمیل کی طرف سے کرپشن کی ہر بازگشت کی نفی کرتے ہوئے ایسے دفاع میں مصروف ہیں کہ کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ رانا ثناء اللہ خاں اس قدر سیخ پا ہیں کہ انہوں نے چند ماہ قبل سمندری روڈ پر العزیز نامی ایک ہوٹل سیل ہونے کے الزام میں میاں طاہرجمیل کا نام لئے بغیر ان پر 80لاکھ روپے رشوت لینے کا بھی الزام عائد کر دیا ہے۔ تعجب ہے صوبے کا وزیرقانون وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے کمیٹیاں قائم ہونے اور سخت انکوائری کے حکم کے باوجود قانون کے سائے میں غیرقانونی الزامات کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ رانا ثناء اللہ خاں اور عابد شیرعلی کے درمیان سیاسی اختلافات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ عابد شیرعلی کے فریال تالپور کے حلقے میں 99فیصد سے زائد بجلی چوری کے الزام پر رانا ثناء اللہ خاں نے اس کی یہ کہہ کر مذمت کر دی ہے کہ واپڈا کے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں۔ فریال تالپور کے حلقے میں بجلی چوری کی بازگشت پر سابق قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد خاں نے بھی عابد شیرعلی کو کرپٹ اور چور ہونے کا طعنہ دیا ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ اگر رانا ثناء اللہ خاں کہہ دیں کہ عابد شیرعلی چور نہیں تو وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں گے۔ رانا ثناء اللہ خاں نے میڈیا کے نمائندوں کی طرف سے راجہ ریاض کے اس سوال کا جواب دو بار طلب کیا مگر وہ اسے گول کر گئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے اراکین اسمبلی بھی کارکنوں کے بعد دو واضح دھڑوں میں شامل ہیں جس کا نقصان بہرطور مسلم لیگ(ن) کو ہو رہا ہے۔ عابد شیرعلی نے فریال تالپور کے حلقے میں بجلی چوری کے اپنے الزام پر رانا ثناء اللہ کی مذمت پر چپ رہنے کی بجائے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ وفاقی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں، وہ صرف صوبائی وزیر ہیں ان کی وفاقی معاملات سے کوئی وابستگی نہیں ہو سکتی۔ عابد شیرعلی اور رانا ثناء اللہ گروپ کے درمیان اختلافات کے باعث مسلم لیگ(ن) سیاسی طور پر گاہے بگاہے نقصانات سے دوچار تو چلی آ رہی تھی مگر ان دونوں کے اختلافات کے سبب اس مرتبہ فیصل آباد کے ڈیڑھ ارب کے ترقیاتی پیکج کو منسوخ کیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ خاں اگر حقیقی معنوں میں وزیرقانون ہونے کا فرض ادا کریں تو کوئی شک نہیں شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کے بعد اگر ضرورت پڑے تو ذمہ داران کو سزا بھی دی جا سکتی ہے اور تمام منسوخ شدہ ترقیاتی پیکج بحال بھی ہو سکتے ہیں مگر اس کے لئے دونوں فریقین کو ذاتی انا اور چوہدراہٹ سے باہر نکل کر کچھ کرنا ہو گا۔ میاں طاہر جمیل کرپشن کی بازگشت کر کے اکبر گجر سمیت جن 14ٹھیکیداروں کا نام لے رہے ہیں اور جن پر انٹی کرپشن میں 6مقدمات بھی درج ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سابق مسلم لیگ(ق) کی چوہدری پرویزالٰہی کی حکومت کے دور کے بدنام زمانہ ٹھیکیدار ہیں اگر یہ وہی ٹھیکیدار ہیں جن کے تانے بانے بدنام زمانہ جڑانوالہ روڈ کی ناقص تعمیر سے ملتے ہیں اور جو اس وقت کے صوبائی وزیر مواصلات کے کرتا دھرتا تھے توپھر وزیراعلیٰ پنجاب کو اس بارے میں بھی غیرجانبدارانہ اور خفیہ انکوائری کروانی ہو گی کہ ماضی میں پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ(ن) میں آنے والے رانا ثناء اللہ خاں کے آج بھی برادری کی بنیاد پر یا سابقہ رفاقت کی بناء پر چوہدری ظہیرالدین خاں کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں۔ فیصل آباد پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے سابقہ دور میں لاہور کو نوازنے کے علاوہ اس دوسرے شہر کو یکسر نظرانداز کیا ہے۔ اس مرتبہ مسلم لیگ(ن) کے دو چوہدریوں کی لڑائی کا نقصان فیصل آباد شہر اور ضلع کو نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب غیرجانبدارانہ اور شفاف انکوائری مکمل کروا کے تمام منسوخ شدہ ٹھیکہ جات بحال کریں اور ان کا ٹھیکہ این ایل سی یا ایف ڈبلیو او کو نئے سرے سے دے دیا جائے تاکہ نہ بانس رہے اور نہ بانسری بج سکے۔