باہم شیر و شکر ہو کر بھی دیکھ لیں…

کالم نگار  |  ڈاکٹر راشدہ قریشی

تحریک طالبان کے نمائندوں اور حکومتی کمیٹی کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں جانب سے مثبت رویوں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دورانیے میں جو دہشت گردی کراچی اور پشاور میں ہوئی اس سے ان کاکوئی تعلق نہیں جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ دہشت گردی کے عناصر ایسے بھی ہیں کہ جن کا تعلق کچھ خفیہ تنظیموں یا قوتوں سے ہے اور یہ خفیہ تنظیمیں و قوتیں غیر ملکی و بیرونی ہو سکتی ہیں تاہم دوران مذاکرات دہشت گردی کے واقعات کراچی و پشاور و دیگر مقامات پہ ہوتے ہیں ان کا طریقہ کار طالبان سے ملتا جلتا ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں تحریک طالبان کے ایسے گروپس شامل ہیں جو حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں اور وہ ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں گویا کہ تحریک طالبان کی اپنی گرفت اپنے چند گروپس پہ کمزور ہے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں کوئی ایک گروپ یا کوئی ایک عنصر کار فرما نہیں بلکہ ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات سرزد کرنے میں 50 سے زائد گروپس پائے جاتے ہیں ان گروپس میں 35 گروپس ایسے ہیں جو تحریک طالبان سے تعلق رکھتے ہیں اور دیگر بیرونی قوتوں کی صورت میں ملک کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں جن کا تعلق امریکی تنظیموں ، بھارتی ایجنٹوں اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے کارکنان سے ہے۔ ایک طرف تحریک طالبان کے نمائندوں اور حکومتی کمیٹی کے مابین امن پروسس کیلئے مذاکرات کا ہونا اور دوسری طرف آئے روز دہشت گردی کے واقعات یعنی بم دھماکوں و خودکش حملوں کا ہونا، یہ ظاہر کر رہا ہے کہ کچھ عناصر ہمارے ملک کے اندر ایسے ضرور موجود ہیں جو کہ ملک کی امن ہوا کو ہر صورت میں ناہموار دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر ملکی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے وطن عزیز میں خونریزی ہی پہ تلی ہے ایسے عناصر کا مطمع نظر صرف یہ ہے کہ ملک کے اندر امن و سکون نہ آئے اور ملک مستحکم نہ ہو پائے ملکی امن کو نقصان دیکر مذاکرات کا اثرو شیر سبوتاژ کرنے والے عناصر میں غیر ملکی خفیہ ہاتھوں کے ہونے کا قوی امکان موجود نظر آ رہا ہے۔ اس وقت جب ملک کے اندر امن کوششوں کا سلسلہ جاری ہے اور د ہشت گردی کے واقعات بھی سرزد ہو رہے ہیں ممکن ہے کہ ملک دشمن عناصر جو ملکی امن کو تروبالا ہی دیکھنا چاہتے ہیں ، کی کوشش ہو کہ ہمارے حکمران اور میڈیا والے مذاکرات کی مزید کوششیں چھوڑ کر تحریک طالبان پہ برس پڑیں اور مذاکرات کو بے نتیجہ و مثبت قرار دیکر طالبان کے خلاف امریکی سوچ کے مطابق آرمی آپریشن کے آپشن پر آ جائیں اور ملک کے اندر حکومتی و طالبانی جنگ زور پکڑ کر سنگین صورت اختیار کر جائے جو کہ ملکی معیشت و امن کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی نورعیت کے کور ایشوز یعنی کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت جیسے مسائل ہمارے حکمرانوں کی توجہ کا مرکز نہ بن سکیں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے گزشتہ پی پی حکومت کے دور میں یہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ہاتھ ملوث ہیں اور وزارت داخلہ نے علی الاعلان ملک کی بدامنی میں ملوث بھارتی خفیہ ہاتھوں کے ہونے کے ثبوت پائے جانے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ چونکہ ملک کے اندر امن کا معاملہ قومی معاملہ ہے اس معاملے کو حکومتی و جماعتی بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکتا اس لئے تمام ملکی سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر اس قومی مسئلہ کا حل کرنا چاہیے اور رحمن ملک کو ملکی بدامنی میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہاتھوں کے ثبوت موجودہ حکمرانوں تک پہنچانے میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ عالمی فورسز پر بھارتی شر انگزیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا سکے ہماری موجودہ حکومت کو بھی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارتی دوستی و تجارت کے معاملات پرزیادہ گرم جوشی نہ دکھائے بلکہ بھارت سے پاکستان کے اندر اپنے امن مخدوش کردار، آبی جارحیت و کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے میں طویل لیت و لعل کرنے کا جواب مانگے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ تحریک طالبان کے سربراہوں سے ہر ممکن اپنے تعلقات کو مستحکم کرے کیونکہ تحریک طالبان کے ڈنڈے بحرحال کہیں نہ کہیں افغانوں پٹھانوں سے ملتے ہیں جو کہ پاکستان کے وجود کو تعظیم سے قبول کرتے ہیں اور 1947ء کے بعد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جب سرحد موجودہ کے پی کے کا دورہ کیا تھا یہاں کے لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کر کے ملکی استحکام کے تمام معاملات میں اپنی شرکت اپنے تعاون کا یقین دلایا تھا اب کے حالات میں جبکہ 1979ء کی کمیونسٹ جنگ 9/11 کی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے مغرب نواز ایجنڈے نے یہاں کے قبائلیوں اور ہمارے حکمرانوں کو ٹکڑائو کی صورت دے دی ہے تو ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے جو قومی مفاد میں سب سے بہتر ہے وہی کرنا ہو گا۔ میری نظر میں بہتر یہی ہے کہ ہم ملک کے اندر دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے تحریک طالبان سے تعاون کی اپیل کر دیں۔ طالبان کے اندر ناراض گروپس کو شر انگیز ملکی بدامنی کے خواہاں عناصر کے ہاتھوں کا کھلونا بننے سے باز رکھیں اور تمام سیاسی جماعتیں بھی امن کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے متحد ہو جائیں تاکہ وہ اصل دشمن جو وجود وطن سے خائف رہتے ہیں کی مات ہو ۔ اگر حکومت وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور طالبان کی تمام فورسز کو اعتماد میں لے کر باہمی تعاون و اتحاد سے امن کوششوں کو آگے بڑھاتی ہے تو واقعی اس یکجہتی سے بدامنی کا سدباب ہو سکتا ہے۔ بیرونی مداخلتوں و ڈکٹیشنز کا نتیجہ حالات کی خرابی رہا ہے تو اب باہم شیر و شکر ہو کر قومی مفاد کیلئے اٹھ کر بھی دیکھ لیں… صبر، برداشت و اعتماد باہمی کی فضاء سے ملکی امن و سکون لانے میں کامیابی کی شرح 100% نظر آ رہی ہے۔