اسلامی نظام نافذکرنے سے پہلے ؟

کالم نگار  |  اسلم لودھی

سنی اتحاد کونسل کے ایک اجلاس میں پانچ سو جید علمائے کرام نے ایک دستاویز پر دستخط کرکے وزیراعظم پاکستان کی خدمت میں ارسال کی ہے کہ پاکستان میں فی الفور شریعت نافذ کردی جائے جبکہ دہشت گردوں کے روپ میں خود کش اور بم دھماکے کرنیوالے طالبان بھی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور آئین میں اسلام کو سپریم لا تسلیم کیاگیا ہے لیکن اس ملک میں اسلام کی آڑ میں کیا کچھ نہیں ہوتا نہ اس میں سرکاری مشینری کسی سے پیچھے ہے اور نہ ہی عوام الناس۔ حضرت عمر ؓ عالیشان محلات میں رہنے کی بجائے کسی بھی درخت کے نیچے بلاخوف خطر نیندپوری کرلیا کرتے تھے اور رات کو مدینہ کی گلیوں میں مخلوق کی حالت زار دیکھنے کیلئے خود گشت کیا کرتے تھے کہ کوئی بھوکے پیٹ تو نہیں سو رہا ۔ حضرت عمر کی نظر میں حاکم اور غلام ایک ہی حیثیت رکھتے تھے لیکن وہ دہشت گرد جو طالبان کا روپ دھار کر پاکستان میں نفاذاسلام کا دعوی کررہے ہیں کیاانکے اسلام میں مسجدوں ٗ امام بارگاہوں ٗ اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں بم دھماکے اور خودکش دھماکے کرنا ہی لکھا ہے ۔معصوموں اور بے گناہ بچوں عورتوں کو موت کے گھاٹ اتار کر وہ کس جنت میں جانے کی تمنا کرتے ہیں ۔حدیث مبارک ہے کہ وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہو ۔جہاں تک علمائے کرام کا تعلق ہے کیا انہوں نے  اپنے اپنے دینی مدرسوں اور اپنی زندگیوںمیں اسلام کو حقیقی معنوں میں نافذ کررکھا ہے ہر فرقے کے مولویوں  نے اپنا اپنا اسلام گھڑ رکھا ہے اور دوسرے کو کافر قرار دینے میں ذرا دیر نہیں کرتے ۔ رہی بات حکمرانوں کی وہ خود کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر ٗ وزیر اعظم ٗ گورنر اور وزیر اعلی تو سمجھتے ہیں لیکن غریب قوم کے دیئے ہوئے ٹیکسوں سے سالانہ اربوں روپے اپنی ذات کی حفاظت اور اپنے خاندان کو سہولتیں فراہم کرنے پر بے دریغ خرچ کر نے سے گریز نہیں کرتے ۔پاکستانی قوم کے نام نہاد ٹیکس چور اور جعلی ڈگریوں کے حامل نمائندوں کی اکثریت تنخواہوں کی صورت میں اربوں روپے ڈکار کر انجوائے کرتی ہے ۔کیا ان کا اسلام یہی کہتاہے کہ خلق خدا کے منہ سے نوالہ بھی چھین لو انکے تن سے کپڑے بھی اتار لو انکے گھروں میں روٹی بھی نہ پکنے دو انکی بیٹیاں بن بیاہے والدین کی دہلیزوں پر بوڑھی ہوجائیں انکے بچے تعلیم کرنے کی بجائے گندگی کے ڈھیروں میں رزق تلاش کرتے پھریں  جو کسی نہ کسی طر ح پڑھ جائیں وہ ہاتھوں ڈگریاں لے کر روزانہ پانچ سو روپے کا پٹرول جلا کر شام ڈھلے ناکام واپس لوٹ آئیں جس ملک کا صدرایف اے پاس ہو اور بی اے پاس 14 لاکھ روپے تنخواہ لیتا ہو اسی ملک کے پی ایچ ڈی اور ایم بی اے افرادکو دس ہزار روپے کی نوکری بھی نہ ملے ۔ جس ملک میں سڑکوں پلوں ٗ موٹرویز سمیت ہر قسم کی تعمیرات میں آدھے سے زیادہ فنڈ کرپشن کی نذر ہوجائیں ۔جس ملک میں ایک پیسہ بھی ٹیکس نہ دینے کے باوجود ارکان اسمبلی اربوں روپے کی مالی مراعات حاصل کریں۔ کیا اس ملک میں اسلام نافذ ہوسکتا ہے جسکے شہری دوسرے ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں قید ہیں لیکن سفارت خانوں میں بیٹھے ہوئے افسر امریکہ سے بڑھ کر مالی اور دیگر مراعات کو انجوائے کرکے اپنی تجوریوں میں بند کررہے ہوں ۔کیا اس ملک میں اسلام نافذ ہوسکتا ہے جس میں ایک فرقہ دوسرے فرقے کو کافر قرار دے کر ہر صورت قتل کردینا چاہتا ہوں۔اسلام تو پوری کائنات کیلئے رحمت کا پیغام لے کر آیا ہے اپنی ذات کو چھوڑ کر خلق خدا کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اب جہاں بھی نفاذ اسلام کی بات ہوتی ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ کونسا اسلام پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ اسلام کی نفاذ کا مطالبہ کرنیوالے خود ایک جگہ اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرنابھی گوارا نہیں کرتے۔ اسلام تو رحمت ہے نہ جانے کیوں اسے ہم سب نے مل کر زحمت بنا دیا ہے ۔