کیا ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟

کالم نگار  |  محمد شعیب مرزا

 جب بھارت کو یہ ادراک ہو گیا کہ وہ طاقت کے بل پر پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تو اس نے سازشوں کے جال بننے شروع کر دئیے اور ہندو اساتذہ کے ذریعے نفرتوں کے بیج بو کر مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان خلیج اتنی وسیع کی کہ پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان کو دولخت کرنے میں دشمنوں کی سازشوں کے ساتھ اپنوں کی نادانیاں بھی شامل تھیں۔پاکستان دو لخت ہونے، تمام تر سازشوں اور مشکلات کے باوجود نہ صرف قائم رہا بلکہ دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن گیا۔ خاص طور پر روس کو ٹکڑے کرنے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا اس نے عالم کفر کو چوکنا اور خوفزدہ کر دیا۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ نیو ورلڈ آرڈر میں پاکستان کے لئے جو کردار متعین کیا گیا تھا پاکستان نے اپنا کردار توقع سے بڑھ کرادا کیا۔ یوں طے پایا کہ 2025ءتک پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے لہٰذا القاعدہ، طالبان اور دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرکے مرحلہ وار پاکستان کی طرف چڑھائی شروع ہو گئی۔ اسلامی دنیا کی قیادت اور دنیا میں نمایاں کردار کی اہلیت رکھنے والے پاکستان کو نہ صرف پیش قدمی سے روک دیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف اس کے کردار اور قربانیوں کی ستائش کے بجائے الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کرکے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب بھارت پاکستان میں ایک دھماکہ کرواتا تھا تو بھارت میں دو دھماکوں کی گونج سنائی دیتی تھی۔ بھارت پاکستان پر جارحیت کا ارادہ کرتا تھا تو پاکستان کا فوجی صدر کرکٹ کے بہانے بھارت جا کر اس کو باور کروا دیتا تھا کہ کسی جارحیت کی صورت میں انجام 1965ءسے زیادہ عبرتناک ہو گا لیکن آج بھارت کی الزام تراشیوں کے جواب میں حکمرانوں نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ جس پر افغانستان بھی پاکستان پر آئے روز الزامات لگا کر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ بیرونی آقاﺅں کے دباﺅ پر ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے پر عملدرآمد کو تو کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے، کالاباغ ڈیم اور کوئی اور ڈیم بننے نہیں دیا جا رہا۔ بیرونی دشمنوں کو پاکستان کے اندر بھی آلہ کار مل گئے ہیں۔ ان میں حکمران بھی شامل ہیں اور وطن فروش سیاستدان بھی اور ضمیر فروش بھی۔ قدرتی وسائل سے مالامال پاکستان کو بنجر و تاریک بنانے‘ بدامنی اور انتشار کا شکار کرنے، نفرتوں کے بیج بونے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ بلوچستان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، روشنیوں کے شہر کراچی پر بدامنی اور قتل و غارت گری کی تاریکی چھا رہی ہے، لسانی بنیادوں پر پاکستان کی تقسیم در تقسیم کی کوششیں جاری ہیں۔ بانی پاکستان کی ذات اور نظریات کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ بیرونی آقاﺅں کے دودھ پر پلنے والے سانپ نما نام نہاد دانشور اور صحافی مجالس اور میڈیا پر پاکستان کے خلاف پھنکارتے پھرتے ہیں۔ بے حیائی اور اخلاق سوز پروگراموں کے ذریعے اخلاقی اقدار کو پامال کرکے ہمارا مذہبی و تہذیبی اثاثہ سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ نظریہ پاکستان کو بحرِہند میں ڈبونے کا دعویٰ کرنے والے دوبارہ اپنی کامیابیوں پر بغلیں بجانے کے انتظار میں ہیں۔ پاکستان کو آسان ہدف سمجھنے والے اپنی رائے میں تبدیلی کے باوجود مکڑی کی طرح پاکستان کے طول و عرض میں سازشوں کے جال بنتے جا رہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے موجودہ نازک صورتحال کا ادراک کیا ہے اور کیا ہم نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ یا ہم پھر کسی بڑے سانحے کے منتظر ہیں؟