پاکستان کیوں ٹوٹا تاریخ کی گواہی (1)

کالم نگار  |  قیوم نظامی

16دسمبر 1971ءپاکستان کی تاریخ کا المناک دن ہے جب پاکستان کے جسم کا ایک بازو کاٹ دیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ کی یادیں بڑی تلخ‘ غمناک اور دل فگار ہیں۔ پاکستان کیوں ٹوٹا اس پر بہت کچھ لکھا گیا۔ اس سانحہ کے عینی شاہدین نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ جرنیلوں نے عسکری اسباب پر روشنی ڈالی، سیاست دانوں نے سیاسی وجوہات پر قلم اُٹھایا، دانشوروں اور مورخین نے مکمل احاطہ کیا۔ سقوط ڈھاکہ کے اسباب عسکری، سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور عالمی تھے۔ یہ حقیقت منظر عام پر آچکی ہے کہ مغربی پاکستان نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کو اپنی کالونی سمجھ کر بنگالیوں کا اس حد تک استحصال کیا کہ وہ مستقل طور پر احساس محرومی کا شکار ہوگئے۔ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی مستند کتاب ”پاکستان کیوں ٹوٹا“ میں رقمطراز ہیں ”بنگالیوں کو یہ رنج بھی تھا کہ اگرچہ ملک کے زرمبادلہ سے آمدن کا 60 سے 80 فیصد تک کا حصہ پٹ سن کی برآمد سے حاصل ہوتا ہے تاہم اس کی بڑی مقدار مغربی پاکستان پر صرف کی جاتی ہے“۔ ”1965ءکی جنگ نے مشرقی پاکستان کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کے عوام نے خود کو بے یارومددگار اور غیر محفوظ محسوس کیا کیونکہ وہاں صرف ایک ڈویژن فوج موجود تھی ا س عرصے میں اہل مشرقی پاکستان مکمل طور پر بھارت کے رحم و کرم پر تھے“۔ایک مرکزی وزیر تجارت مشرقی پاکستان کے دورے پر گئے ایک بنگالی نے ان سے سوال کیا ”آپ نے پنجاب میں کئی ٹیکسٹائل ملیں لگائی ہیں مگر مشرقی پاکستان میں ایک بھی نہیں لگائی“۔ وزیر نے جواب دیا ”تم بنگالی صرف دھوتی پہنتے ہو جبکہ پنجابی پگ اور پورا لباس پہنتا ہے تمہیں ٹیکسٹائل مل کی کیا ضرورت ہے۔“۔ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی مگر مغربی پاکستان کی اشرافیہ بنگالیوں کو مساوی سیاسی حیثیت دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ بنگالیوں کے چھوٹے قد کی وجہ سے انہیں فوج میں شامل نہ کیا گیا۔ جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا کر دونوں بازوﺅں کے درمیان جمہوری رشتہ ہی توڑ دیا۔ 1947ءسے 1969ءتک ایک بنگالی کو بھی چیف سیکریٹری تعینات نہ کیا گیا ۔ گویا ان کو خود اپنے آپ پر حکومت کرنے کے قابل بھی نہ سمجھا گیا۔ ان حالات نے چھ نکات کو جنم دیا۔
جب یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا تو الطاف گوہر جی ایچ کیو گئے اور یہ منظر دیکھا۔”جنرل یحییٰ خان اور تین دوسرے جرنیلوں حمید، پیرزادہ اور گل حسن کو دیکھا۔۔۔ وہ چوروں کے گروہ کی طرح نظر آرہے تھے جو مال غنیمت پر جھکے ہوئے ہوں۔ وہ قدرے چونکے جیسے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہوں“۔ [الطاف گوہر: ایوب خان پہلا فوجی حکمران صفحہ نمبر 477] جنرل یحییٰ خان نے بدنیتی پر مبنی ایل ایف او جاری کیا جس کے بارے میں عائشہ جلال لکھتی ہیں۔ ”ایل ایف او جاری کرکے یحییٰ خان نے ویٹو کا حق حاصل کرلیا ۔ وہ منتخب اسمبلی کے قوانین کو ویٹو کرسکتے تھے۔ ایل ایف او ایک سوچی سمجھی سکیم تھی جس کا مقصد فوج اور بیوروکریسی کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا اور ریاستی سٹرکچر پر اس کی بالادستی کو قائم رکھنا تھا۔ یحییٰ خان اور ان کے رفقاءمشرقی یا مغربی پاکستان کے کسی سیاسی رہنما کو کبھی اقتدار منتقل کرنے کے لیے تیار نہ تھے“۔[دی سٹیٹ آف مارشل رول صفحہ نمبر 310] جنرل ایوب خان نے جنرل یحییٰ خان کو آرمی چیف نامزد کیا تو اس وقت نواب آف کالا باغ نے کہا ”ایوب خان نے اپنی زندگی کی انتہائی سنگین غلطی کی ہے۔ اس نے ایک شرابی اور بدکار کو کمانڈر انچیف بنادیا ہے۔ ایک دن وہ اس غلطی پر پچھتائے گا“۔ [جنرل جہاں داد خان: لیڈر شپ چیلنجز صفحہ 105] نواب آف کالا باغ کی پیشین گوئی درست نکلی نہ صرف جنرل ایوب خان پچھتائے بلکہ پوری قوم کو پچھتانا پڑا۔ جنرل یحییٰ خان کے آئی ایس پی آر کے آفیسر بریگیڈئیر اے آر صدیقی اپنی کتاب (East Pakistan End Game)میں لکھتے ہیں کہ اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد جنرل یحییٰ خان نے کوئٹہ سٹاف کالج میں فوج کے افسروں سے خطاب میں کہا کہ فوج طویل عرصہ اقتدار میں رہے گی لہذا فوجی افسر تیاری کریں۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970ءکے انتخابات اس لیے صاف اور شفاف کرائے کیونکہ اس کو یقین دلایا گیا تھا کہ کوئی جماعت اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی۔ سینئر کمانڈر چاہتے تھے کہ قومی اسمبلی آئین نہ بناسکے اور عوام کو باور کرایا جاسکے کہ سیاست دان متفق نہیں ہوسکتے اور مارشل لاءجاری رہے گا۔ جنرل یحییٰ نے اکتوبر 1970ءمیں واشنگٹن میں ہنری کسنجر کو بتایا تھا کہ انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتیں جیت کر اسمبلی میں پہنچ جائیں گی اور وہ مخلوط حکومت کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔[ہنری کسنجر: White House Years صفحہ نمبر 850]
1970ءکے انتخابات جنرل یحییٰ خان کی توقعات کے برعکس نکلے اس کی چونکہ نیت درست نہ تھی اس لیے اس نے اقتدار منتخب حکمرانوں کو منتقل نہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اکبر خان نے کہا ”ہم اس حرامزادے (مجیب) کو اقتدار منتقل نہیں کریں گے“۔ جنرل راﺅ فرمان علی کے مطابق فوج کے بارہ جرنیل مجیب کو اقتدار منتقل کرنے کے خلاف تھے۔[ایم ایس کریجو :Soldiers of Misfortune صفحہ نمبر 70] اخبارات کے ریکارڈ کے مطابق بھٹو جرنیلوں کو خبردار کرتے رہے کہ ملک کے انتقال سے پہلے انتقال اقتدار کردو۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کی صورتحال سے فائدہ اُٹھایا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی را عوامی لیگ کے رہنماﺅں کو مکمل آزادی کے لیے ورغلاتی رہی۔ (جاری)