مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باوجود دو قومی نظریہ زندہ ہے

کالم نگار  |  شاہد رشید

1946ء کے تاریخی انتخابات میں بنگالی مسلمانوں نے 97فیصد ووٹ دے کر پاکستان کے قیام یقینی بنایا۔ آزادی کے بعد 1970ءمیں بالغ رائے دہی کی بنےاد پر ہونے والے انتخابات اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے کہ انتخابات کی طویل انتخابی مہم ایک سال پر محیط تھی۔ اس دوران شیخ مجیب الرحمن جب انتخابی مہم میں کسی جلسے میں جاتا تھا تو لوگ اس سے پوچھتے تھے کہ کیا تم پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہو؟ وہ جیب سے قرآن پاک نکال کر اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا تھا کہ قرآن پاک کی قسم مےں پاکستان سے علےحدگی نہےں چاہتا۔ دوسری طرف عوامی لےگ کے کارکنوں نے غنڈہ گردی سے اےسے حالات پےدا کردےئے کہ دوسری جماعتوں کے لئے انتخابی مہم چلانا مشکل ہوگےا۔ عوامی لےگ نے مغربی پاکستان مےں اپنی پارٹی کی طرف سے امےدوار کھڑے نہیں کیے۔ جب انتخابات ہوئے تو اس کے نتائج حکومت اور سےاسی جماعتوں کے لئے حےران کن تھے بلکہ پرےشان کن بھی۔ ملک سےاسی طور پر تےن حصوں مےں تقسےم ہوگےا تھا مغربی پاکستان مےں پےپلز پارٹی کو سندھ اور پنجاب مےں بھاری کامےابی حاصل ہوئی جبکہ مشرقی پاکستان مےں عوامی لےگ کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی اس طرح مشرقی پاکستان مےں عوامی لےگ کو مکمل غلبہ حاصل ہوگےا۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان پر نےشنل عوامی پارٹی اور جمعےت العلماءاسلام اپنا سکہ جمائے ہوئے تھےں۔ مسلم لےگ قےوم گروپ کو صوبہ سرحد مےں محض چند سےٹےں حاصل ہوسکےں اور ےہ جماعت تمام تر سرکاری حماےت کے باوجود انتخاب مےں بری طرح شکست کھا گئی۔ اس طرح مسلم لےگ کونسل اور جمعےت العلماءپاکستان نے بھی چند نشستےں حاصل کےں۔ اےک امر واضح تھا کہ آج کی طرح اس وقت بھی ملک مےں صاحب بصےرت قےادت کا فقدان تھا۔ قومی اسمبلی کے لئے عام انتخابات کے روز مشرقی پاکستان مےں صرف ستاون 57فےصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ باقی لوگ ہنگاموں اور غنڈہ گردی کے خوف سے اپنی رائے کا استعمال نہ کرسکے۔ پولنگ اسٹےشنوں پر پولےس کے علاوہ فوج بھی تعےنات تھی مگر اسے کسی کارروائی کی اجازت نہےں تھی۔ عوامی لےگی غنڈوں نے خوف و ہراس کی فضاءقائم کرکے کھلم کھلا دھاندلی کی اور لوگوں کو پولنگ اسٹےشنوں پر آنے سے روکا۔ ان انتخابات مےں ڈالے گئے ووٹوں مےں سے صرف 42 بےالیس فےصد لوگوں نے عوامی لےگ کے حق مےں ووٹ ڈالے۔ ان مےں سے 23 فےصد ہندو باشندوں کے ووٹ تھے۔ ےہ حقےقت آج ساری دنےا بالخصوص بنگالی بھائےوں پر آشکار ہوچکی ہے کہ مشرقی پاکستان مےں مٹھی بھر لوگوں نے وہاں کے عوام کو گمراہ کےا۔ وہاں کے لوگوں کی اکثرےت کسی قےمت پر علےحدگی نہےں چاہتی تھی۔ اب کئی بنگالی دانشور برملا اس بات کا اعتراف کرتے ہےں کہ 1970ءکے انتخابات منصفانہ نہےں تھے اس کے علاوہ ان سچے پاکستانی بنگالےوں سے 1970ءمےں ےا اس کے بعد ہونے والی کسی انتخابات مےں ےہ نہےں پوچھا گےا کہ کےا تم پاکستان سے علےحدگی چاہتے بھی تھے ےا نہےں؟
بھارت کے جنرل مانک شاہ نے انٹرنےٹ پر 9نومبر 2012ءکو اےک انٹروےو مےں کہا ہے کہ اس نے 1970ءمےں اعلیٰ تربےت ےافتہ ہندو فورس کے 80ہزار جوان مشرقی پاکستان مےں داخل کئے جن کا مقصد افراتفری پھےلانا‘ تخرےب کاری اور بنگالی خواتےن کا ریپ کرنا تھا۔ ےہ فورس عام بنگالی لباس مےں بھےجی گئی۔ ان کارروائےوں کا الزام پاکستان فوج پر لگا۔ مشرقی پاکستان مےں تباہی پھےلا کر عام بنگالےوں مےں خوف و ہراس پےدا کرنا اور انہےں پاکستان فوج کےخلاف متنفر کرنا تھا۔ کئی اور جرنےلوں نے بھی اس تصدےق کی ہے“ قابل غور نکتہ ےہ ہے کہ ےہ فورس 1970ءمےں الےکشن سے بھی پہلے بھےجی گئی۔ 1971ءمےں بھارت نے تمام بےن الاقوامی قوانےن و اصولوں اور ضابطوں کو پامال کرکے ننگی جارحےت کے ذرےعے مشرقی پاکستان پر زبردستی قبضہ کرکے پاکستان کو دولخت کردےا۔ اس وقت بھارت کی وزےراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ مےں نے دو قومی نظرےہ کو خلےج بنگال مےں غرق کردےا ہے اور برصغےر پر مسلمانوں کے ہزار سالہ اقتدار کا بدلہ لے لےا ہے لےکن اکھنڈ بھارت کا خواب دےکھنے والی بھارتی قےادت کا ےہ خواب شرمندہ تعبےر نہ ہوا۔ دو قومی نظرےہ آج بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ اگر اےسا نہ ہوتا تو مشرقی پاکستان آزاد مملکت کی بجائے مغربی بنگال مےں شامل ہوکر بھارت کا اےک صوبہ بن جاتا مگر بھارت کو اےسا کرنے کی جرات نہ ہوئی بلکہ بھارتی فوجوں کو شدےد رد عمل کے باعث ڈھاکہ اور دےگر علاقوں سے واپس جانا پڑا۔ جاتے جاتے وہ کارخانوں کی مشےنری‘ دفاتر کے پنکھے‘ فرنےچر حتی کہ غسل خانوں کی ٹوٹےاں بھی اتار کر لے گئے۔ حال ہی مےں مشہور بھارتی صحافی سرمےلا بوس کی اےک تحقےقی کاوشDead Reckoning Memories of the 1971 Bangladesh War Warکے نام سے سامنے آئی ہے۔ ےہ خاتون آکسفورڈ ےونےورسٹی کی سےنئر رےسرچ سکالر ہے۔ 6سال کی جان لےوا تحقےق کے بعد ےہ کتاب مکمل ہوئی اور آکسفورڈ ےونےورسٹی پرےس انگلےنڈ سے شائع ہوئی۔ اس تحقےق مےں جنوبی اےشےاءکی اس جنگ کا مکمل احاطہ کےا گےا اور بھارتی الزامات کا بھانڈہ ان الفاظ مےں پھوڑا ہے۔ ”جنگ کے شروع مےں مشرقی پاکستان مےں پاکستان فوج کی کل تعداد لگ بھگ بےس ہزار تھی۔ دسمبر تک ےہ تعداد بڑھ کر 34ہزار ہوگئی۔ تقرےباً11ہزار سول پولےس ار رضا کار تھے۔ ےہ لوگ وہاں گورےلا اور حقےقی جنگ کا مقابلہ کررہے تھے۔ ان حالات مےں ان لوگوں کا لاکھوں کے حساب سے خواتےن کی عصمت دری کرلےنا ”سپرہےومن“ کارنامہ ہوسکتا ہے حقےقت نہےں۔ دوسرا بھارت جارح تھا جس نے اےک آزاد ملک مےں 80ہزار گورےلے اور بعد مےں فوج بھےج کر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی“
”را“ کی زےر نگرانی بھارتی اور بنگلہ دےشی مےڈےا نے ملکر اےسے اےسے جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کئے جن کی تارےخ مےں مثال نہےں ملتی مثلاً پاکستان آرمی پر بنگالی عورتوں‘ بچوں اور بوڑھوں تک کو قتل کے الزامات لگائے گئے جبکہ سرمےلا بوس کی 6 سالہ رےسرچ کے مطابق پاکستان آرمی نے کہےں بھی کسی عورت‘ بچے ےا بوڑھے پر ہاتھ نہےں اٹھاےا۔ سنی سنائی باتےں تو بہت تھےں لےکن کسی نے بھی اےسے قتل کی گواہی نہ دی بلکہ حقےقت ےہ ہے کہ جہاں کہےں ضرورت پڑی پاکستان آرمی نے اےسے لوگوں کی مدد کی۔ (حوالہ صفحہ 164) بنگلہ بندھو شےخ مجےب الرحمن نے 1970ءکے انتخابات مےں عوام کو جو سنہری سپنے دکھائے تھے وہ اےک اےک کرکے بھےانک شکل اختےار کرگئے۔ مجےب الرحمن 15اگست 1975ءکو اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مارا گےا اور تےن دن تک اس کی لاش اس کے مکان کی سےڑھےوں مےں پڑی رہی۔ بعدازاں چند پولےس والوں نے اےک مولوی کی امامت مےں نماز ادا کرکے اس کی تدفےن کی۔ شےخ مجےب الرحمن نے اپنی حفاظت کے لئے اےک خصوصی فوج تشکےل دی تھی جو60ہزار افراد پر مشتمل تھی اور ان سب کا تعلق بھارت سے تھا۔ اس فوج کو ڈالرز میں تنخواہ دی جاتی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے وقت اس فوج کے33ہزار لوگ مارے گئے اور باقی بھارت بھاگ گئے۔
 درحقیقت بھار ت کی خفیہ ایجنسی ”را“ کو پاکستان توڑنے کا ٹاسک دیا گیا تھا اور اسے آج بھی بنگلہ دیش کی سیاست اور معیشت پر کنٹرول حاصل ہے۔ را کا دنیا میں بہت بڑا نیٹ ورک ہے۔ اس کے اپنے جہاز اور ہیلی کاپٹر ہیں۔ پاکستان کے لیے را نے دبئی کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے۔ ”را“ کروا رہی ہے۔ بھارتیوں نے کلکتہ کے تعلیمی اداروں میں بنگالی طلباءکے لیے مفت تعلیم کا انتظام کر رکھا ہے اور بھارت کی تمام یونیورسٹیوں میں انہیں تعلیم کے لیے بلایاجاتا ہے تاکہ ان کی برین واشنگ کر کے انہیں مسلم امہ سے دور کیا جا سکے۔ بہت سارے اساتذہ کو بھارتی یونیورسٹیوں نے ان کی تعلیمی استعداد کے برعکس پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دے کر اپنا ہم نو بنانے کی کوشش کی ہے۔
41سال قبل زبردستی علیحدگی کے باوجود حالات نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہیں۔ ہمارے مفادات ایک ہیں‘ ہمارے دشمن اور دوست ایک ہیں۔ ہر بین الاقوامی فورم پر دونوں ممالک نے مشترکہ موقف اپنا کر ثابت کیا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ایک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کو قریب لائیں۔ اس سلسلے میں جناب مجید نظامی کی قیادت میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے ہونے والی کاوشیں قابل قدر ہیں جس کے تحت جدوجہد آزادی 1947ءکے حوالے سے علمی و تحقیقی کام جاری ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں باہمی تجارت کو بھی فروغ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بنگالی طلبہ کو زیادی سے زیادہ داخلے اور وظائف دینے چاہیے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ بنگلہ دیش کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات بہم پہنچائے تاکہ باشعور طبقے اپنے شاندار ماضی کے ورثہ کو اجاگر کر کے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں اور اپنی نئی نسل کی ان شاندار خطوط پر تربیت کریں۔ مسلمانانِ ہند نے انگریز سامراج اور ہندو بنیے کو باہمی جدوجہد سے شکست دے کر آزادی حاصل کی تھی۔ اگر ہم خلوص دل سے قدم بڑھائیں تو دونوں خطوں کے عوام کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ ایک ہو جائیں گے۔ اس کا آغاز کم از کم کنفیڈریشن کی صورت میں ہو سکتا ہے بشرطیکہ بنگلہ دیشی مجیب کی بیٹی کو شکست دے سکیں۔