متحدہ پاکستان ممکن کیوں نہیں!

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

سولہ دسمبر 1971ءکی طرح،2 جنوری 1492ءبھی اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ اس دن اندلس میں مسلمانوں کے 8 سو سالہ اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔ یہ شام ِ غم اَندُلس کے مسلمانوں کیلئے طویل ترین تاریک رات کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس شام صدیوں سے سنائی دینے والی اذان کی آواز پہلی بار مسجدوں سے سنائی نہیں دی۔ اس کے بجائے ہرطرف مسلمانوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی تھی۔ بے لباس خواتین عزتیں بچانے کیلئے بھاگ رہی تھیں لیکن کہاں جاتیں۔ بے غیرتی کی انتہا کہ غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ بابِ دل معاہدے کے تحت شہر کی چابیاں ملکہ ازابیلہ اور شہنشاہ فرڈی ننڈس کو پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ذلت و رسوائی کی اس تقریب میں شرکت کیلئے ابو عبداللہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد اور امرا زرق برق لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کے زرہ بکتر سونے چاندی کی لڑیوں سے چمک دمک رہے تھے ۔ جب چابیاں ملکہ ازابیلا کو تھما دی گئیں تو ابو عبداللہ بابِ دل، شدت غم سے آنسو بہانے لگا۔ غرناطہ کی چابیاں ابوعبداللہ نے دشمن کے حوالے کیں تو ڈھاکہ میں اس کے ہم نام امیر عبداللہ نے پاکسان کا آدھا حصہ دشمن کے حوالے کردیا۔ ہمارے امیر عبداللہ نے اجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے بڑے تفاخر سے سرنڈر کیا۔ اس سے قبل دستاویزات کی تیاری کیلئے اروڑہ کا نمائندہ آیا تو اس کو فحش لطیفے سناتے اور خوش گپیاں کرتے رہے۔ ابوعبداللہ کے تو سقوط غرناطہ کے بعد آنسو بہہ نکلے تھے جبکہ جنرل امیر عبداللہ نیازی کو کوئی پشیمانی نہیں تھی۔16دسمبر1971کو پاکستان دولخت ہوا،جنرل نیازی کی سربراہی میں90 ہزار سے زائد پاکستانی جنگی قیدی بنالئے گئے ان میں فوجی نیم فوجی اداروں کے افراد سرکاری وغیر سرکاری اہلکار شامل تھے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی رسوائی کبھی نہیں ہوئی۔جنرل نیازی نے اپنی موت سے چند ہفتے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ فوج کے سسٹم کا ایک چھوٹا سا حصہ تھے۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے احکامات پر عمل کیاحالانکہ پاکستانی فوج مزید لڑ سکتی تھی۔
جنرل نیازی کے سامنے احکاماے مانتے ہوئے ذلت و رسوائی سے بچنے کا ایک راستہ موجود تھا،وہی راستہ یا اس سے ملتا جلتا جو جاپان کے وزیر جنگ نے چنا تھا؛۔ ہیروشیما میں 2 لاکھ اور ناگاساکی میں 70 ہزار انسان مارے گئے تھے۔ جاپانی فوج کا اس کے باوجود حوصلہ نہ ٹوٹا لیکن بادشاہ اپنے عوام کی مزید ہلاکتوں پر تیار نہیں تھا۔ جنرل انامی کورے چیکا جاپان کا وزیر جنگ تھا جس نے امریکہ کے سامنے سرینڈر کی بھرپور مخالفت کی۔ امریکہ نے جاپان کو ایک اور ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے رکھی تھی، بادشاہ نے جرنیلوں کی جنگ جاری رکھنے کی تجویر سے اتفاق نہ کیا اور اپنے طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ جنرل کورے چیکا کو اس کے ہم خیالوں نے جنگ کے خلاف ووٹ دینے یا مستعفی ہونے کا مشورہ دیا، اس سے انامی کورے چیکا نے اتفاق نہ کیا۔ اس نے اپنے کزن سے اس موقع پر کہا ”ایک جاپانی سپاہی ہونے کے ناطے شہنشاہ کی اطاعت مجھ پر واجب ہے“۔۔۔ 14 اگست 1945ءکو انامی کورے چیکا نے کابینہ کے اجلاس میں سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کر دیے۔
 سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے اگلے روز جنرل انامی نے خودکشی کر لی۔جنرل نیازی اگر برسرِ پیکار رہنے پر آمادہ تھا تو مشرقی پاکستان سے جان چھڑانے کی جلدی اور بے قراری و بے چینی کس کو تھی؟ ہم اپنے طور پر، اپنی دانست کے مطابق کسی نہ کسی کو ذمہ دار تو قرار دیتے ہیں لیکن اس سانحہ کو نصف صدی ہونے کو ہے، قومی سطح پر پاکستان کو دولخت کرنیوالے کرداروں کاتعین نہیں ہوسکا۔ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی حمود الرحمن کمشن تشکیل دینے کے احکامات جاری کئے۔اس کمشن کو صرف مشرقی پاکستان میں فوج کے ہتھیار ڈالنے کے اسباب تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔حمود الرحمن کمشن نے بڑی عرق ریزی سے رپورٹ مرتب بھی کی لیکن اس کو سرکاری طورپر کبھی منظر عام پر نہ لایاگیا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا تعین نہ کرکے ہم نے ایسے ہی مزید سانحات کے راستے کھلے چھوڑ دئیے۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر تاریخ پاکستان کے وجود کو دولخت اور پاک فوج کو ہزیمت سے دوچار کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کردے گی۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میںغلطیاں دونوں طرف سے ہوئیں۔ ان غلطیوںکو سدھارا نہ گیا تو غلط فہمیوں کا ہمالہ کھڑا ہو نے سے قائدؒ کا پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اتنے بڑے سانحہ کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پر بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا الزام آتا ہے، انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرکے دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کے قیام کی ابتداکی، وہ شاید اس الزام کا مداوا کشمیر کی آزادی کی صورت میں کرناچاہتے تھے ،پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر بھارت کے ساتھ تنازعات طے کرنا انکا مطمعِ نظر تھا۔ جنرل ضیائ،نواز شریف،بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے ادوار میں بنگلہ دیش کے ساتھ اختلافات کو کم سے کم کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں ان کاجواب عموماً مثبت رہا ،سوائے مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کے ادوار کے۔ وہ اپنے باپ کے قتل کا دُکھ بھول نہیں سکی حالانکہ اس قتل میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا مجیب کو تو ان لوگوں نے قتل کیا جو پاک فوج سے غداری کرکے بھاگے تھے۔ حسینہ پاکستان سے معافی کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں، اسی سبب وہ ڈی ایٹ کانفرنس میں بھی شریک نہیں ہوئیں۔ معافی کس کو مانگنی چاہئے، بغاوت کرنیوالے کو یا جس کے خلاف بغاوت کی گئی؟ بغاوت تو بنگالیوں کو بھڑکانے والوں نے کی ۔ تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل اور تین لاکھ خواتین کے ریپ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ایسے واقعات ضرور ہوئے ہوں گے لیکن ان کی تعداد سینکڑوں سے کسی صورت زیادہ نہیں اور ایسی زیادتیاں بھی دونوںطرف سے ہوئیں۔قتل اور ریپ کی حقیقت جاننے کیلئے پاکستان اور بنگلہ دیش اقوام متحدہ یا کسی دوسرے عالمی فورم پرتحقیقات کراسکتے ہیں پھر جوبھی زیادہ قصور وار ٹھہرے وہ دوسرے سے معذرت کرکے یا معافی مانگ لے۔ ہمیں ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل بھی ترتیب دیناچاہئے۔
کیا ایسا ممکن نہیںکہ پاکستان پھر سے مکمل ہوجائے؟ متحدہ پاکستان۔۔۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ایسا ہوسکتا ہے اگر دونوں طرف کے سیاستدان ایثار کا مظاہرہ کریں ۔لیکن فی الوقت ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ سیاستدانوں میں ایثار نام کی کوئی چیز ہوتی تو پاکستان دو ٹکڑے ہی کیوں ہوتا! البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کنفیڈریشن بنالیں ان کے معاملات اپنے اپنے ہوںآج کی طرح۔۔۔ نام ایک ہو”پاکستان“ پہلے کی طرح۔ پاکستان،مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ ویزے کی پابندی نہ ہو۔کراچی میں آج بھی لاکھوں بنگالی موجود ہیں،بنگلہ دیش میں بہت سے پاکستانی اپنا کاروبار لے گئے ہیں۔دونوںکے مابین ایک دفاعی معاہدہ ہوجائے کہ ایک حصے پر حملے کو دوسرے پر بھی حملہ تصور کیاجائیگا۔ایسی کنفیڈریشن پر کسی کو اعتراضات ہونگے اور نہ اقتدار میں آنے اور باریاں لینے والوں کو تحفظات ہوںگے۔