سقوط ڈھاکہ کے موجودہ حالات اور مستقبل کی تاریخ پر گہرے اثرات

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

سقوط بغداد کے بعد عالم اسلام کی تاریخ میں سقوط ڈھاکہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کی ایک زلزلہ کی مانند شدت نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں عام طور پر کئی حلقوں میںیہ تاثر پایا جا تا ہے کہ 16 دسمبر 1971 ئکے دن ڈھاکہ مشرقی پاکستان کے دارالحکومت میں پاکستانی فوج کے حملہ آور بھارتی فوج کے کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈال دینے کے نتیجہ میں پاکستان دولخت ہو گیا اور اس طرح مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوگیا ۔پاکستان آرمی کے سرنڈر کرنے کی وجوہات دریافت کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا جس میں پاکستان فوج کا ایک سینئر کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل الطاف قادر بھی شامل تھا ۔ بہت عرصہ تک حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پر اصرار حلقوں تک محدود رہی اور بالآخر جب اس رپورٹ کا پردہ چاک ہوا تو اس کا زیادہ تر حصہ اس وقت مشرقی پاکستان کے سکیورٹی ماحول دفاعی پس منظر مکتی باہنی اور بھارتی فوج کی ابتدائی داخل اندازی سے لیکر مشرقی پاکستان پر بھرپور بھارتی افواج بشمول بھارتی فضائیہ اور بھارتی نیوی کی ننگی جارحیت سامنے آئی اور یہ انکشاف ہوا کہ عوامی سطح پر حمایت سے سو فیصد محروم مغربی پاکستان کی سپاہ بنگالی انتظامیہ پولیس کے علاوہ ایسٹ بنگال رجمنٹ اور دیگر بنگالی نیشنل گارڈز کی بغاوت کے باعث تنہا رہ جانے کے باعث اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر " دوست ممالک " کی امداد کے بغیر جنگ کو جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہ تھے ۔یہ عمل خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حمود الرحمن کمیشن اس وجہ سے "پاکستان کے دولخت ہونے کے سیاسی اقتصادی معاشی اور انتظامی پہلوﺅں" پر غور و خوض نہ کر سکا کیونکہ اس کمیشن کو ایساکرنے کا اختیار یا چارٹر نہیں دیاگیا تھا نہ ہی بعد میں مغربی پاکستان کی حکومت نے پاکستان کے دولخت ہونے کے تاریخی سانحہ کے بارے میں کوئی اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن قائم کرنے پر آج تک سنجیدہ اقدامات پارلیمنٹ کے اندر یا عدالتی سطح پر اٹھائے ہیں ۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ مملکت کا ایک انتہائی اہم آدھا حصہ بعض وجوہات کی بناءپر کاٹ دیا گیا جس میں بیرونی جارحیت بین الاقوامی سازشوں کے علاوہ بعض اندرونی و بیرونی عوامل شامل تھے۔ یہ کوئی معمولی واقع یا حادثہ نہ تھا بلکہ ایک عظیم قومی سانحہ تھا۔ اگر کہیں آگ لگ جائے کسی ٹرین یا ہوائی جہاز کا حادثہ ہو جائے یہاں تک کہ کوئی گینگ ریپ کا افسوسناک واقع ہو تو فوراً اعلیٰ سطحی تحقیقات حرکت میں آتی ہے۔ عالی مرتبت چیف جسٹس ازخود نوٹس لیتے ہیں۔ شہید بینظیر بھٹو دہشت گردی کا شکار ہوئیں تو برطانیہ میں سکارٹ لینڈ یارڈ اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ کو تحقیقات کیلئے کہا گیا لیکن حکومت پاکستان اور ہماری یکے بعد دیگرے اقتدار میں آنے والی سیاسی قیادت کی لاپرواہی اور بے حسی پر ناکسی نے کبھی آنسو بہائے ہیں اور نہ احتجاج کیا ہے کہ آج تک کون اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دولخت ہونے کے اسباب اور وجوہات سے بے خبر ہے۔ ہمارے قومی کردار میں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے کہ ہم ہر سال 16 دسمبر کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مختلف پروگرام کرتے ہیں جلسے اور سیمینار بھی ہوتے ہیں۔ مقامی اور عالمی سطح پر بہت سی کتابیں بھی لکھی گئیں ہیں لیکن کیا قومی سطح پر کوئی باضابطہ سرکاری رپورٹ موجود ہے جس میں حکومت پاکستان یا پارلیمنٹ نے ملک کے 16 دسمبر 1971ئ کے روز دولخت ہونے کا مفصل تاریخی جائزہ لیا ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا جان بوجھ کر اس قومی سانحہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ عوام اصل حقائق سے بے خبر رہیں ۔
سقوط ڈھاکہ اور پاکستان کے دولخت ہونے پر جو کچھ گزشتہ 41 برس سے کہا جا رہا ہے آج 16 دسمبر2012 ئکو بھی اکثر و بیشتر انہیں پرانی باتوں کو دوہرایا جائے گا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ 16 دسمبر 1971 ئ سے لیکر آج تک ہم نے ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان کے دولخت ہونے کے قومی سانحہ سے نہ ہی کوئی سبق مرتب کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے اور نہ ہی حکمران سیاسی پارٹیوں اور اپوزیشن قیادت کی طرف سے 1971 ئ کے سیاسی اقتصادی ،سماجی اور دفاعی تناظر کا آج کے حالات سے رشتہ جوڑ کر مستقبل کیلئے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کی قومی سطح پر کوشش کی ہے بغیر سوچے سمجھے اور گہرائی میں جانے کی بجائے سطحی طور پر مختلف حلقے اپنے اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عوام کو ڈرانے کی سعی ناکام کرتے رہتے ہیں کہ موجودہ حالات مشرقی پاکستان کے 1971ئ کے انجام کی طرف جارہے ہیں۔
 حالانکہ اس میں حقیقت اور سچائی کا شائبہ تک بھی نہیں پایا جاتا ۔اس لیے ضرورت ہے کہ یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ 1971 ئ سے دودہائی پہلے مشرقی پاکستان کے سیاسی اقتصادی اور معاشی حالات آہستہ آہستہ علیحدگی کی طرف پھسل رہے تھے جو فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں مادر ملِت محتر مہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں فیلڈ مارشل کے مقابلہ اٹھ کھڑے ہونے کے بعد ان کی فوجی طاقت کی بناءپر دھاندلی اور جھرلو کے نتیجہ میں شکست کے بعد مسلم لیگ کے مشرقی پاکستان کے اندر زوال کا باعث بنی اور مادر ملت کی شکست سے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان یکجہتی اور وحدت کا وہ سیاسی بندھن ٹوٹ گیا جس نے ملک کے دونوں حصوں کو باہم آپس میں جوڑ رکھا تھا۔ اس کے بعد 1965 ئ کی جنگ میں جو کچھ ہوا اس میں مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں کے زخموں پر نمک کا کام کیا اور شیخ مجیب الرحمن نے 1970 ئ کے انتخابات میں مغربی پاکستان سے اپنے 6 پوائنٹس کے ذریعے علیحدگی کے بیج بو دئیے۔