سقوط مشرقی پاکستان کا داغ ہماری پیشانی سے کب مٹے گا؟

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

آج 16دسمبر ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک دن۔ 16دسمبر 1971ءکو گزرے 42سال ہونے کو ہیں لیکن 42سال گزرنے کے باوجود وہ زخم آج تک تازہ ہیں جو سقوط مشرقی پاکستان کی صورت میں جسد پاکستان پر لگے تھے۔ ہم ہر سال 14اگست کو پاکستان کا یوم آزادی مناتے ہیں لیکن 16دسمبر 1971ءسے بعد ہم نے جتنے بھی جشن آزادی منائے وہ قائداعظم کے پاکستان کے نہیں تھے بلکہ آدھے پاکستان کے تھے۔ اگر صرف یوم آزادی یا یوم استقلال منانے سے پاکستان مستحکم اور مضبو ہو سکتا تو 16دسمبر 1971ءکو کبھی سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما نہ ہوتا۔
 ہم یوم استقلال مناتے رہے لیکن پاکستان کو استقلال، مضبوطی اور استحکام بخشنے کے لئے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ مشرقی پاکستانیوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا ہم نے کوئی علاج نہ سوچا۔ ہوس اقتدار میں مبتلا سیاست دانوں نے ادھر تم ادھر ہم کا ایک ایسا خونیں کھیلا کھیلا کہ دفاع پاکستان کے ذمہ دار فوجی جرنیل بھی شعوری یا غیرشعوری طور پر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ بن گئے۔ 14اگست 1972کو پاکستان کی 25ویں سالگرہ منانے سے پہلے ہی قائداعظم، علامہ اقبال اور شیر بنگال اے کے فضل الحق کا پاکستان لخت لخت ہو گیا۔
کیا فسانہ کہوں ماضی و حال کا
شیر تھا ایک میں ارض بنگال کا
شرق سے غرب تک میری پرواز تھی
ایک شاہیں تھا میں ذہن اقبال کا
ایک بازو پہ اڑتا ہوں میں آج کل
دوسرا دشمنوں کو گورا نہیں
14اگست 1947ءکو ہمارے چہرے کس قدر روشن اور دل کس قدر حوصلوں اور جذبوں سے معمور تھے۔ ایک معطر اور مہکتے ہوئے دیس کا تصور لے کر ہزاروں نہیں لاکھوں افراد پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بیواﺅں کا سہاگ لٹنے کا، بوڑھوں کو جوان بیٹے چھننے کا، ماﺅں کو اپنے دل کے ٹکڑوں سے محروم ہونے اور بچوں کو اپنے یتیم ہونے کا کوئی غم نہیں تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کی منزل عشق اور یقین کی منزل ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے راستے میں ایک آگ کا دیا ہے اور اس دریا میں ڈوب کر جانا ہے۔ لوگ آگ کے اس دریا میں ڈوبتے اور ڈوب کر ابھرتے رہے۔ ان کا یقین تھا کہ آگے ان کی تمناﺅں کا گلزار کھلا ہوا ہے۔
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا
پاکستان بناتے وقت ہم نے دنیا بھر کو چیلنج دیا تھا کہ ہم اس خطے میں خدا کا بھیجا ہوا اور محمد مصطفی کا لایا ہوا نظام نافذ کریں گے۔ ہم لسانی تعصبات سے بالا ہو کر ایک مشترکہ زبان اختیار کریں گے۔ ہم ایسا طرز حکومت اپنائیں گے کہ ہمارے ملک کے دو حصوں میں موجود ایک ہزار میل کا فاصلہ سمٹ کر ایک مٹھی میں بند ہو جائے گا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان تو ایک ہی ملک کے دو حصے تھے پاکستان تو عالم اسلام کے مختلف ملکوں کے درمیان گہرا اتحاد پیدا کرنے کا عزم لے کر معرض وجود میں آیا تھا۔ ہمیں تو اتحاد عالم اسلامی کا خواب شرمندہ تعمیر کرنا تھا لیکن ہم پاکستان کے اتحاد کو ہی برقرار نہ رکھ سکے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد اقتدار گورنر جنرل غلام محمد اور پھر جنرل سکندر مرزا جیسے اہل ہوس کے ہاتھ میں چلا گیا۔
قائداعظم کا ناقابل فراموش ارشاد تھا کہ ”وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے۔ وہ کون سا لنگر ہے جس سے ان کی امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔ وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر خدا کی کتاب قرآن حکیم ہے۔“ ہم قائداعظم کے اس پیغام کو بھول گئے اور اپنا رشتہ قرآن اور اسلام سے توڑ کر پاکستان کی کشتی کو ہم نے طوفانوں کے سپرد کر دیا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ بھی کمزور ہو گئی۔ جس جماعت کے پرچم تلے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے متحد ہو کر ایک ناممکن کام (قیام پاکستان) کو ممکن بنا دیا تھا۔ وہ جماعت خود کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ قوم کو متحد کرنے والا پلیٹ فارم جب خود پارہ پارہ ہو گیا تو پاکستان بھی متحد نہ رہ سکا۔
یوں تو ہونے کو گھر ہے سلامت رہے
کھینچ دی گھر میں دیوار اغیار نے
ایک تھے جو کبھی آج دو ہو گئے
ٹکڑے کر ڈالا دشمن کی تلوار نے
گھر بھی دو ہو گئے در بھی دو ہو گئے
جیسے کوئی بھی رشتہ ہمارا نہیں
جس مقدس ملک کے قیام کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ کتنی ہی بدنصیب لڑکیاں پاکستان کی آزادی کے صلہ میں ہندو اور سکھ درندوں نے اغوا کر لی تھیں۔ ہمارے کتنے ہی بچے شفقت پدری سے محروم ہو گئے تھے۔ کتنی ہی ماﺅں کی گودیں ویران ہو گئی تھی کہ ان کے معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ کتنے ہی جوانوں کی لاشیں بے گوروکفن رہیں اور دریاﺅں میں بہا دی گئیں۔ غرض کون سی قربانی تھی جو ہماری مسلمان قوم نے قیام پاکستان کے لئے نہ دی تھی۔ لیکن ہم اپنے ملک کے وجود کو اس صورت میں 25سال بھی قرار نہ رکھ سکے جس صورت میں قائداعظم نے پاکستان کی امانت کو ہمیں سونپا تھا۔ آج ہمارے وہ بھائی، بہنیں، بزرگ، مائیں اور بچے جو قیام پاکستان پر قربان ہو گئے تھے اور بالخصوص قوم کی وہ بیٹیاں جو ہندوستان کی تقسیم کے وقت اغوا ہو گئی تھیں اور پھر مظلومیت کی اسی حالت میں وفات پا گئیں ان سب کی روحیں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس سے کبھی بے وفائی نہ کرنا۔ پاکستان کو قائداعظم نے اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کا اعلان فرمایا تھا۔ یہ قرض آج بھی تم پر فرض ہے اگر تم قائداعظم کے حقیقی وارث ہو تو یہ قرض ضرور ادا کرنا۔ اس ملک کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار ہی سے جگمگایا جا سکتا ہے۔ قائداعظم نے جس سماجی انصاف اور معاشی برابری پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لئے اسلامی اصولوں کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اگر ہم اس پرعمل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوتے تو سقوط مشرقی پاکستان کا المیہ کبھی رونما نہ ہوتا۔ پاکستان کے تحفظ و بقا کے لئے پاکستان کی سلامتی کے لئے، پاکستان کی وحدت کو قائم رکھنے کے لئے اور مستقبل میں خدانخواستہ سقوط پاکستان جیسے کسی سانحہ سے بچنے کے لئے آج بھی نسخہ کیمیا یہی ہے کہ ہم پاکستان کو قائداعظم کی تعلیمات کے مطابق ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کے لئے کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔ اغیار کی پاکستان کی سلامتی کے لئے خلاف سازشوں کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا اور نہ ہو گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے اپنے بیٹے بھی پاکستان کے ازلی دشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ سقوط مشرقی پاکستان کا ہمارے لئے ایک سبق یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اندر لسانی نفرتیں اور علاقائی عصبیتیں پیدا نہ ہونے دیں۔ ہم جب بھی سوچیں اور جو بھی عمل کریں ایک مسلمان قوم بن کر قدم اٹھائیں۔ شجر اسلام سے پیوستہ رہ کر اور دامن مصطفی کے ساتھ عملی وابستگی سے ہی ایسا ممکن ہے کہ ہم اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پربنا تھا تو تمام صوبائی تعصبات اور لسانی نفرتیں ہم نے فراموش کر دی تھیں۔ پاکستان کی سلامتی کے لئے آج بھی یہی نسخہ کارگر ہے۔
جن خرابیوں نے جن لغزشوں نے جن کوتاہیوں اور جن سازشوں کے نتیجہ میں 16دسمبر 71ءکو سقوط پاکستان ہوا تھا۔ انہیں کبھی دوبارہ اپنے قریب نہیں پھٹکنے دینا چاہئے۔ بلکہ ہمارا عزم یہ ہونا چاہئے کہ ہم اپنے بچھڑے ہوئے مشرقی پاکستانی بھائیوں کو ایک بار پھر اپنے ساتھ ملائیں گے۔ ہمیں سقوط مشرقی پاکستان کے دن یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ہمارے بنگالی بھائی جو ہم سے ناراض ہو گئے۔ بہرحال یہ دوریاں مستقل نہیں رہنی چاہئیں۔ مجھے تو 14اگست اور 23مارچ کے دن بھی آدھے پاکستان میں اجنبی اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ یوم آزادی کی خوشیاں صحیح طور پر منانے کا حق تو ہمیں اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔ جب سقوط مشرقی پاکستان کا داغ ہماری قومی تاریخ کی پیشانی سے مٹ جائے گا اور قائداعظم کا متحدہ پاکستان ایک بار پھر دنیا کے نقشہ پر قائم ہو جائے گا۔ قائداعظم کا پاکستان ہمیں پکار رہا ہے۔ کیا ہم اس کی آواز پرکان دھریں گے۔