سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ داروں کا تعین ضروری

سقوط مشرقی پاکستان قومی سطح پر ایسا سانحہ عظیم ہے جس کی ملی تاریخ میں بھی کوئی مثا ل نہیں ملتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس اندوہناک سانحہ کے ذمہ داروں کا آج تک تعین ہو سکا نہ کسی کو سزاوار ٹھہرا کر اسے عبرت کا نشان بنایا گیا جس کے تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔ پاکستان کا دو لخت ہونامعمولی بات نہیں بلکہ اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دینا یقینا ملک میں موجودشرپسندوں اور علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی ہے،جس کاوہ فائدہ بھی اُٹھارہے ہیں۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند آج اسی طرح اپنے حقوق کی با ت کرتے ہیں جس طرح مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے کیا کرتے تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری بار بار نشاندہی کرر ہے ہیں،بلوچستان کو درپیش خطرات سے حکومت اور حکمرانوں کو آگاہ کررہے لیکن یہ اسی طرح بے حس ہیں جس طرح سانحہ مشرقی پاکستان سے قبل کے حکمران بے حس تھے۔ خدا نہ کرے کہ پھر ایسا کوئی سانحہ سامنے آ جائے۔سقو ط ڈھاکہ کے کرداروں کو کبھی بے نقاب کرنے کی کوشش نہیں کی کی گئی۔ سارا ملبہ جنرل نیازی پر ڈال دیا جاتا ہے۔بلا شبہ اس کو اس سانحہ سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن سب کچھ اس نے ہی نہیں کیا تھا ۔ کرانے والے بھی تو تھے!جنرل امیر عبداللہ خاں نیازی انیس سوبتیس میں برٹش آرمی میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے تھے اور انیس سو بیالیس میں انہیں کنگز کمشن دیدیا گیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل انہوں نے برٹش آرمی کے لیے متعدد ایسے کارنامے انجام دیے جس میں انہیں بہادری کے ایوارڈز ملے۔ ان ایوارڈ میں ملٹری کراس کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔جاپان میں برٹش آرمی کی جانب سے بہادری دکھانے پر انہیں ٹائیگر نیازی کا خطاب دیا گیا۔ ان کی بہادری کے یہ سلسلے 1965ءکی جنگ میں بھی جاری رہے لیکن انیس سو اکہتر کی جنگ میں پاکستانی فوج کے اس ٹائیگر نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ۔ 16 دسمبر یہ اندوہناک خبرلے کرطلوع ہوا کہ اس نے ڈھاکا کے پلٹن میدان میں بھارتی جرنیل اروڑا سنگھ کے آگے سرنڈرکردیاہے ایسا کرتے ہوئے نہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے نہ مایوسی تھی نہ شرمساری کی کوئی جھلک تھی۔ پوری قوم رورہی تھی نوجوان شدت احساس سے بے قابوہوکر اپنے سردیواروں سے ٹکرا رہے تھے لیکن اس جرنیل کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ اپنا پستول بھارتی ہم منصب کے حوالے کرتے ہوئے اسے خوش کرنے کے لیے لطیفے سنارہاتھا۔ بھارتی فوج اور بنگالی عوام کے ہاتھوں پاکستانی فوج کی شکست اور جنرل نیازی کا بھارتی جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا واقعہ ایک ایسا عمل تھا جو ہر اس محب وطن پاکستانی کے دل پر زخم کی طرح نقش ہو گیا۔ یقیناً یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ اس کے بعد وہ پاکستان کے دیگر نوے ہزار فوجیوں کی طرح جنگی قیدی بن کر بھارت کی حراست میں چلے گئے۔حمودالرحمان کمیشن کی جوغیر حتمی رپورٹ منظر عا م پر آئی‘ اس میں جنرل نیازی کو اس شکست کے اسباب میں کافی بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ جنرل نیازی آخر وقت تک اپنی پوزیشن کا دفاع کرتے رہے اور موت کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے محض چند ہفتہ قبل انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ ’وہ فوج کے سسٹم کا ایک چھوٹا سا حصہ تھے اس لیے انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے احکامات پر عملدرآمد کیا حالانکہ ان کا ذاتی خیال یہ تھا کہ وہ مزید لڑ سکتے تھے اور بھارتی فوج کو ایک لمبے عرصے تک الجھائے رکھ سکتے تھے۔
حمود الرحمٰن کمشن رپورٹ میں مشرقی پاکستان سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا گیا کیونکہ یہ اس کمشن کا مینڈیٹ ہی نہیں تھا۔کمشن کو قائم کرتے ہوئے اس کے ذمہ یہ فرائض سونپے تھے کہ وہ ان حالات کی تحقیقات کرے، جن کے تحت کمانڈر، ایسٹرن کمانڈ اور ان کے زیر کمان پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالے، بھارت اور مغربی پاکستان کی سرحدوں پر جنگ بندی کے احکامات صادر کیے گئے نیز جموں اور کشمیر کی سیز فائر لائن پر بھی جنگ بندی کا حکم دیاگیا۔آج اشد ضرورت ہے کہ حکومت ایسا کمشن قائم کرے جو نئے سرے سے مشرقی پاکستان کی علیحدگا کا جائز لے اور اس کے ہر کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کی سزا کی بھی سفارشات کرے۔