سانحہِ سقوطِ مشرقی پاکستان ۔۔۔ ایک فراموش کردہ سبق

کالم نگار  |  مجید غنی

آج یومِ سقوطِ ڈھاکہ ہے۔ آج ہی کے دن 16 دسمبر1971ءکو دشمنوں کی سازشوں، اپنوں کی ناعاقبت اندیشیوں اور لالچِ اقتدار کی وجہ سے مملکت خداداد پاکستان دولخت ہوا اور پاکستان کا ایک بازو مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ اس دن کوئی دل ایسا نہیں تھا جو غمناک نہ ہوا اور کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جس سے آنسوﺅں کا سیلاب نہ بہہ نکلا ہو۔ یہ ایسا صدمہ تھا جس کا غم کبھی بھی کم نہ ہو سکے گا۔ اس صدمے نے بہت سے دردمند پاکستانیوں کی جانیں بھی لے لیں۔ تب سے آج تک ہم اس دن کی یاد بڑے دکھی دل سے مناتے چلے آرہے ہیں۔
 تاریخ گواہ ہے کہ وقت کی آزمائش سے صرف وہ قومیں سرخرو ہو کر نکلیں جنہوں نے اپنی غلطیوں، کمزوریوں کوتاہیوں سے سبق سیکھا اور اپنی خامیوں پر قابو پا کر اپنے آپ کو مستحکم کرتے ہوئے مستقبل کے چیلنجوں سے نمنٹنے کیلئے بھی تیار کیا ۔ مقام بدنصیبی ہے کہ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جس نے ماضی کی ناکامیوں اور شرمندگیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ ہم نے ایک ہجوم کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا ہر فرد صرف اپنی ذات اور خاندان کے مفادات تک محدود ہو کر اس کے لئے تگ و دو ہی نہیں بلکہ ہر جائز و ناجائز کام کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ملک اور قوم کا مفاد پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
سانحہِ16دسمبر کے بنیادی اسباق یہ تھے کہ ہم ملت واحدہ بن کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے اور آپس میں نفرتوں سے بچیں گے عصبیتوں کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونگے اور کسی اکائی یا صوبے کو اس کے آئینی حق سے محروم نہ کریں گے اور ایسی کوئی صورتحال نہیں پیدا ہونے دیں گے جس سے کسی بھی بیرونی حملہ آور یا بیرونی طاقت کو ہمارے معاملات میں دخل اندازی کی جرات پیدا ہو۔ کیونکہ یہی وہ عوامل تھے جنہوں نے اس صورتحال کو جنم دیا جس میں پاکستان دولخت ہوا۔
سانحہ مشرقی پاکستان سے حاصل ہونے والا سبق ہمارے لئے کارآمد صرف اسی صورت میں ہو سکتا تھا جب ہمارے حکمران خود کو عوام اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ سمجھتے ملک میں حقیقی جمہوریت کا نفاذ ہوتا قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جاتی اور اس جذبے کو پروان چڑھایا جاتا کہ ہم نے ایک با عزت اور خود دار قوم بن کر زندہ رہنا ہے ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں انتخابات ہونے کے باوجود حقیقی جمہوریت ہم سے بہت دور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں جمہوریت کو صحیح طور پر پروان نہیں چڑھنے دیا گیا اور بار بار مختلف حکومتوں کو وقت سے پہلے گھر بھیج دیا گیا اور سیاسی معاملات میں غیر ضروری مداخلت تسلسل سے جاری رہی۔ یہ جمہوریت کے نہ پنپنے کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک حقیقت بھی ہے۔ دوسری طرف اگر سیاسی لوگوں پر نگاہ ڈالی جائے تو جو منظر نظر آتا ہے وہ بیان سے بھی باہر ہے آج تک جتنے لوگ برسراقتدار آئے انہوں نے ترقی کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا بلکہ اپنے شخصی اقتدار کی مضبوطی، مخالفین کی کردار کشی اور جائز و ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کرنا ان کا وطیرہ رہا۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار و احکامات کو پس پشت ڈال دیا گیا اور ملک کے اساسی نظریے کی ترویج سے گریز کیا گیا جو ہماری ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتا تھا۔
آج کے حکمرانوں کے نزدیک جمہوریت کا مفہوم صرف عددی اکثریت کے بل پر اپنی حکومت کو دوام بخشنا ہی رہ گیا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ لسانی اور صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ہوتا چلا گیا ہے اور ہر طرف سے مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہیں صوبائیت اور سندھ کارڈ کی بات ہو رہی ہیں کہیں سرائیکی صوبے کا تذکرہ ہے تو کہیں بہاولپور کا. ان باتوںکو محض پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ان سب معاملات سے زیادہ خطرناک صورتحال بلوچستان کی ہے جسے نظر انداز کیا گیا یہی وجہ ہے وہاں وطن سے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال ایک بغاوت کی طرف جا رہی ہے ۔ .یہ معاملہ بھی سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی نا اہلیوں کا ایک ثبوت ہے جو کسی وقت بھی ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ مشرف دور میں بین الاقوامی سطح پر کئے گئے غلط فیصلے نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا ہے اور موجودہ حکومت بھی اُنہی فیصلوں کی پیروی کر رہی ہے۔وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ ہماری جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی آڑ میں ہماری تباہی مقصود تھی امریکہ۔ اسرائیل اور بھارت کو پاکستان کا جوہری طاقت بننا کسی صورت قبول نہیں اتحادی ہونے کے باوجود ہماری سر زمین پر حملے ہوتے ہیں جس میں فوجی اور سول جوانوں کی شہادتیں ہوتیں ہیں۔
ایسے حالات میں یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ 16دسمبر1971اور آج کی صورتحال میں بہت زیادہ مماثلت سے دل میں ملکی مستقبل اور سا لمیت کے حوالے سے بہت سے وسوسے جنم لیتے ہیں۔ خداوند کریم سے دعا ہے کہ یہ صرف وہمات کی حد تک ہی رہیں اور وہ اپنی رحمت سے اپنے نام پر حاصل کردہ مملکت کی سا لمیت کی حفاظت اور ترقی کا سامان پیدا فرمائے (آمین)