IMF کی طرف سے پاکستان کی تذلیل

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

اسلام آباد کے انتہائی معتبر حلقوں اور ذرائع ابلاغ سے آئی ایم ایف کی تازہ ترین امداد کی پیشکش کو آخری شکل دینے کیلئے مختلف مراحل پر جو صورتحال پیش آئی ہے ۔ تازہ ترین مذاکرات میں آئی ایم ایف کے سینئر حکام نے پاکستان کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور دیگر پاکستانی فنانشل منیجر کی ماضی کی غیر تسلی بخش کارروائیوں اور فنانشل ریفارمز کے وعدوں پر عمل نہ کرنے کے باعث پاکستان کی فنانشل مینجمنٹ کی کارکردگی پر بغیر لگی لپٹی کے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وعدہ کے برخلاف اصلاحات اور ریفارم نافذ کرنے میں کوتاہی کے علاوہ ملک کے اندر موجودہ وسائل کو پوری طرح استعمال میں نہ لانے جیسے مالی نظم و ضبط میں UNDER UTILIZATION OF RESOURCES کہاجاتا ہے کی نا اہلیت کے باعث آئی ایم ایف کے متعلقہ ذمہ دار احکام نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کیلئے مستقبل میں کسی فنانشل بحرانی صورتحال میں آئی ایم ایف کی طرف سے NEW BAIL OUT PROGRAMME مہیا کرنے کیلئے پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری کو تحریری طور پر اپنے دستخط سے ENDORSEMENT کرنا ہو گی۔
یعنی پاکستان میں ضروری فنانشل اصلاحات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے اعلیٰ ترین سطح پر بھرپور پولیٹیکل سپورٹ از حد لازم ہے۔ پاکستان کو مستقبل قریب میں آئی ایم ایف کی طرف سے یو ایس ڈالر BAILOUT 11.3 BILLION پروگرام جاری کرنے سے پہلے PAST EVAULATION DRAFT REPORT میں یہ شرائط عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
"IT WILL BE WORTH WHILE TO CONSIDER THE PRESIDENT OF PAKISTAN FOR CO-SIGNING THE LETTER OF INTENT (LOI) FOR ANY FUTURE ARRANGEMENT"
قارئین کرام LOI اس مراسلہ کو کہتے ہیں جو مالی امداد کا طلب گار ملک IMF کو امداد کی درخواست کے ساتھ وضاحتی مراسلہ میں ملنے والی امداد کی غرض و غایت اور امداد کی رقم کو خرچ کرنے کے قواعد و ضوابط اور اپنے ملک کی عمومی فنانشل پالیسی اور اخراجات کے طریقہ کار کی وضاحت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر جو طریقہ کار رائج ہے اس کے مطابق IMF سے فنانشل امداد کے طلب گار ملک کا وزیر خزانہ ایسے مروجہ LETTER OF INTENT پر اپنے ملک کی حکومت کی طرف سے دستخط کرتا ہے اور وزیر خزانہ کے علاوہ سٹیٹ بینک کا گورنر بھی LOI کو Endorse کرتے ہوئے اس پر اپنے دستخط ثبت کرتا ہے۔
ماضی میں ہمیشہ اس طریقہ کار پر عمل ہوتا رہا ہے۔ آج تک پاکستان کی پوری تاریخ میں کسی صدر مملکت نے LOI پر دستخط ثبت نہیں کئے اور نہ ہی IMF نے قبل ازیں کبھی ایسا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے قبل ازیں آئی ایم ایف کے ساتھ گزشتہ جنرل انتخابات کے بعد 2008ءمیں جو LOI Sign کیا تھا اس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین اور اس وقت کے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر شمشاد اختر نے دستخط کئے تھے۔ راقم کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی تبصرہ کرنے سے ندامت محسوس ہوتی ہے کہ آئی ایم ایف جو اقوام متحدہ کا ایک ادارہ اور امریکی حکومت کے فنانشل امور کا اہم رکن ہے اس نے معمول سے ہٹ کر نہ صرف وزیر خزانہ کو نا قابل اعتماد سمجھتے ہوئے کوئی اہمیت نہ دی بلکہ پاکستان کی کابینہ اور اس کے سربراہ وزیر اعظم پاکستان کو بھی پس پشت ڈالتے ہوئے پارلیمنٹ کا نمائندہ یا آئی ایم ایف کے بقول پاکستان کی سیاسی قوت تسلیم نہیں کیا۔ کسی ملک کا وزیراعظم جیسا بھی ہو اس ملک کا وزیر اعظم اور پارلیمنٹ میں اکثریت کے باعث ملک کی سیاسی قوت کا مظہر ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان اور وزیراعظم کے عہدہ کی توقیر اور حرمت کا تقاضا ہے کہ آئی ایم ایف کے اس رویہ کی نہایت سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی ایم ایف سے تفصیلات طلب کرنے کے بعد ایسے بین الاقوامی تاثر کو ختم کیا جائے جو ان خبروں سے وزیراعظم پاکستان کی شخصیت کے بارے میں ابھرا ہے۔ آئی ایم ایف کو بلا تاخیر واضح کر دینا چاہئے کہ صدر مملکت ایسے کسی LETTER OF INTENT پر اپنے دستخط ثبت نہیں کریں گے۔ اس سلسلہ میں دو اور خبریں بھی اسلام آباد میں گردش کر رہی ہیں۔ اول یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوحہ قطر میں ہونے والی ایک ملاقات میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف ٹیم کے سربراہ کو صدر مملکت آصف علی زرداری سے نہ صرف ملاقات کی تروید دی تھی بلکہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف کے چیف آف مشن کو اپنے ساتھ پرواز کر کے صدر مملکت سے ملاقات کیلئے اسلام آباد بھی لائے تھے۔ جہاں اسلام آباد تشریف لائے اور اس کے بعد IMF کے مڈل ایسٹ اور سینٹرل ایشیاءکے ڈائریکٹر مسعود احمد اور پاکستان میں IMF کے نئے سربراہ Jafary Franks بھی جولائی 2012ءکے آخری ہفتہ میں اسلام آباد آ کر اعلیٰ ترین سطح کی مشاورت میں شریک رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم اس دوران دوسرے اہم امور میں مصروفیت کے باعث IMF کے ساتھ مشاورت میں پوری طرح شریک نہ تھے۔ ورنہ وہ IMF کے ساتھ مذاکرات میں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کرتے اس سے زیادہ ایک اور اہم بات جس کا حال ہی میں انکشاف ہوا ہے۔ یہ ہے کہ IMF کے ایک وفد نے نئے پاکستان کو ملنے والے 11.3 ملین BAILOUT پیکیج کے سلسلہ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملاقات کی ہے۔ یہ خبر حکومت پاکستان کی وزارت خزانہ سے منسوب کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ
"THE IMF DELEGATION HAS SHAUGHT GUARANTEES FOR IMPLEMENTING CRUSIAL REFORM INCASE ISLAMABAD DECIDES TO INVITIES TO ANOTHER PROGRAMME WITH THE IMF"
اس انکشاف پر اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو ماسوائے اس کے اور کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم اس بارے میں قوم کو اعتماد میں لیں۔