ہماری سلامتی کے خلاف بھارتی سازشیں اور سیکورٹی ادارے

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

پاکستان کی سلامتی، یکجہتی، اتحاد و بھائی چارہ کو پارہ پارہ کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ادارے ہمہ جہتی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں کافی ”ماہر“ ہیں۔ باغی و آزادی پسند بلوچوں کو خفیہ امداد، ٹارگٹ کلنگ، بلوچ پنجابی مار دھاڑ، دفاعی، اقتصادی لائف لائن و تنصیبات، سکیورٹی اداروں کو تباہ کرنے اور نشانہ بنانے کے پیچھے بھی ”را“ اور دیگر بھارتی اداروں کا خفیہ ہاتھ ثابت ہو چکا ہے، چند اضلاع میں بلوچ آزادی تحریک اور مسلح جدوجہد بغاوت کے پروپیگنڈے کے پیچھے غیر ملکی خفیہ ادارے تربیت، اسلحہ گولہ بارود اور منصوبہ بندی کے ”ماسٹر مائنڈ“ ہیں۔ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ہمارے دونوں خفیہ ادارے متعدد گروپ توڑ چکے جو غیر ملکی خفیہ اداروں کی سرپرستی میں چل رہے تھے۔ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس نے بلوچستان کو ”الگ وطن“ بنانے والے عناصر کی سرکوبی کی ہے۔ بلاشبہ بلوچ نوجوانوں کو ’باغی‘ کرنے میں ماضی کے جرنیلوں کی بعض غلطیوں کا بھی عمل دخل ہے جس کی بنا پر بلوچوں کو بغاوت پر اترنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آج کا تازہ معاملہ اب بھارتی خفیہ ادارے کا اندرون سندھ میں فتنہ و فساد پھیلانے کے کام کا آغاز ہے نیز بلوچ پنجاب سندھ کی مشترکہ سرحد کے ساتھ کے بلوچ اور پنجابی اضلاع بھی 2 سال سے اُن کی ”کارروائیوں“ کا ”سوفٹ ٹارگٹ“ ہیں! کشمور، راجن پور، ڈی جی خان اور بلوچ ملحقہ اضلاع میں پنجابیوں اور پنجاب رینجرز پر ”ٹارگٹ حملے“ کرائے جا چکے ہیں غیر ملکی خفیہ ادارے بلوچ پنجابیوں کا وسیع پیمانے پر عوامی ٹکرا¶ کروا کر پنجاب کے اُن اضلاع کو نشانہ بنا رہے ہیں جو سوئی گیس، کاروباری روٹوں، معدنیات سے ملک کے لیے اہم ہیں۔ نیز سندھ کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع (خصوصاً جہاں ہندو اکثریت ہے) اُن کو خون خرابہ اور پاکستان سے باغی کروانے پر تُل گئے ہیں۔
 اسلام میں عزت، برابری، احترام آدمیت، ریاستی تحفظ، چھوت چھات سے پاک معاشرے میں ان غریب ہندو¶ں کو مکمل تحفظ و معاشی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔یہ اصل ”پیٹ درد“ کی وجہ ہے جو بھارت و خفیہ اداروں کو ہوئی ہے کہ اُن کے سارے ”مذموم منصوبے“ ناکام ہو گئے ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارا میڈیا صرف تصویر کا ایک رخ دکھاتاہے، ہندو کمیونٹی کو 65 سال میں کبھی مسلمان اکثریت نے ”بڑے نقصان“ کا نشانہ نہیں بنایا، کبھی کبھار کوئی افسوسناک واقعہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ہندو مسلمان اکثر سندھ میں کاشتکاری ، صنعت اور کاروبار میں نارمل لین دین کر رہے ہیں، سکون و احترام سے اکٹھے رہتے ہیں اب اچانک جیکب آباد میں لینڈ مافیا کے ستائے ہوئے پاکستانی ہندوﺅں کو بھارتی ایجنسیوں نے شرارت کے تحت مذہبی روایات کیلئے بھارت جانے کی بجائے نقل مکانی کیامنصوبہ بنا کر پیش کیا۔ ہمارے قومی سلامتی کے اداروں نے بروقت اس سازش کو ناکام بنایا ہے۔ صدر زرداری نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور خصوصی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے بشمول سکیورٹی فورسز اقلیتوں کو پاکستان کے خلاف اکسانے کے بھارتی منصوبے کو بے نقاب کریں اور لازماً چار ہفتوں میں قوم کو بتایا جائے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟
اس ہفتے پاکستان کے خلاف دوسرا واقعہ و سازش شکرگڑھ بارڈر کی لمبڑیال چوکی کے علاقے میں بھارتی سکیورٹی فورس کی جانب سے ایک سرنگ کھودنے کا الزام ہے تاکہ بھارت کے خلاف پاکستان سے دہشت گرد بھیجے جائیں۔ اس کو بھارتی سرکاری اور میڈیا نے خوب اچھالا تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جائے لیکن پاکستان کے سرحدی محافظوں کے سربراہ میجر جنرل میاں ہلال حسین ڈی جی رینجرز پنجاب نے پاکستانی میڈیا کو ساتھ لے کر زیرو لائن (بارڈر لائن) پر دکھا دیا کہ کئی سو میٹر علاقے میں ایسی کوئی سرنگ پاکستانی علاقے میں نہیں ہے۔ میجر جنرل ہلال نے بھارتی وار کو میڈیا وار اور حقائق بتا کر ناکام بنا دیا ہے اور دنیا کو پاکستان کے خلاف بھارتی مکروہ سازشوں سے آگاہ کیا اور ملک کی عزت و ناموس اور سرحدوں کا تحفظ کر کے قوم کے خراج تحسین کے مستحق ٹھہرے۔ بھارت نے دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنے بھارتی علاقے میں خود ہی جعلی سرنگ بنائی ہے۔ ایسی ایک حرکت تقریباً پندرہ سال پہلے نارووال شہر کے قریب چیندیانوالی، دا¶د پوسٹوں کے علاقے میں بھارت نے کی تھی کہ ہمارے چودہ فٹ بلند کانے کے جنگل ذخیرہ کے سامنے سرنگ کھودی تھی اور چار مربع زمین دریائے راوی کے ساتھ بہت گھنا جنگل سوروں سے بھرا تھا اور گزرنا محال تھا، اس جگہ بھارت نے اپنے ایجنٹ داخل کرنے کے لیے یہ سرنگ بھارت سے پاکستان کی طرف کھودی جو ہمارے دیہاتیوں اور رینجرز نے پکڑ لی تھی اور بعد ازاں ایک بھارتی ایجنٹ جیکی ”را“ برانڈ اور ساتھیوں کو گرفتار کر لیا تھا جنہوں نے صرف 50 ہزار روپے کے عوض بم دھماکے کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس طرح کے واقعات سندھ کی سرحد اور مقبوضہ کشمیر کی سرحد پر بھی ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، ہمارے چوکس و محافظ پنجاب رینجرز کے افسروں اور جوانوں نے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کی قسم کھائی ہے۔ چناب رینجرز سیالکوٹ کے مختلف سیکٹرز میں گذشتہ دو سالوں کے دوران بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے ”گرم محاذ“ کھولے جن کو میجر جنرل ہلال حسین کی سخت ہدایات کے مطابق بھارتی فورس کو ”تباہ کن جواب“ دے کر ٹھنڈا کر دیا گیا کیونکہ بھارتی فورس یا ہندو ذہنیت دونوں صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ بھارتی مکاریوں، چالوں، سازشوں کے خلاف قوم متحد ہو کر مقابلہ کرے اور پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے اپنے بھائی چارہ و اتحاد کو قائم رکھے۔