گن کنٹرول

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

امریکہ اور برطانیہ کی تہذیب‘ ثقافت اور کلچر کا ماخذ ایک ہی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ دونوں کے اسلحہ کلچر میں نمایاں فرق ہے۔ برطانیہ میں ذاتی اسلحہ رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ امریکہ میں اسلحہ کلچر کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہیں جس کے سبب امریکہ میں انفرادی اور اجتماعی قتل کی وارداتیں روزمرہ کا معمول ہیں۔ میجر ملک ابوندال نے 5 نومبر 2009ءکو فورٹ ہڈ کے فوجی اڈے میں 13 ساتھی فوجیوں کو اپنی بندوق سے فائرنگ کرکے بھون ڈالا تھا۔ تازہ ترین واقعات میں 3 مئی 2011ءکو ریاست ایری زونا کے قصبے گلبرٹ میں ایک مسلح نوجوان بلٹ پروف جیکٹ پہنے سڑک پر آیا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک بچے سمیت چار افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا.... کیوں؟ اس کا جواب اس لئے نہ مل سکا کہ اس نے خود کو بھی اپنی پسندیدہ بندوق سے اڑا لیا تھا۔ 20 جولائی 2012ءکو 24 سالہ جیمز ہومز کی ریاست کولو راڈو کے ایک سینما گھر میں فلم بیٹ بین کے پریمپئر شو کے دوران فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک اور 58 زخمی ہو گئے تھے۔ 6 اگست 2012ءکو ریاست وسکونسن کے علاقے اوئیک کریک کے گوردوارے میں ایک نوجوان جا گھسا جس نے فائرنگ کرکے چھ سکھوں کو ابدی نیند سلا دیا اور خود پولیس کے ہاتھوں موقع پر مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بے رحم قاتل افغانستان میں تعینات رہنے والا سابق فوجی تھا‘ وہ شاید داڑھی کی مناسبت سے سکھوں کو مسلمان سمجھ بیٹھا ہو۔
ایسے بہیمانہ واقعات کو دیکھتے ہوئے امریکہ میں Gun control-law کے حوالے سے کئی بار کوشش کی گئی لیکن امریکیوں کے اسلحہ سے جنون کی حد تک لگاﺅ کے باعث کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ نے امریکیوں کی اسلحہ اندوزی کے حوالے سے دلچسپ رپورٹیں شائع کی ہیں۔ امریکہ میں گن لابی اور گن کنٹرول لابی یا اینٹی گن لابی امریکی سیاست اور اقتدار میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہی ہیں۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ بہت سے ڈیموکریٹ گن کنٹرول کے حامی ہیں جبکہ رپبلکنز کی بہت بڑی تعداد گن لابی کے حق میں ہوتی ہے۔ امریکی سیاست پر نیشنل رائفل ایسوسی ایشن بھی اثر انداز ہے اور کئی امریکی شہروں میں قومی گن شو بھی منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے مرد و خواتین جوق در جوق آتے ہیں۔ امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آئینی طور پر ہر بالغ شہری کو ہتھیار یا بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اگر آپ کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد ہے، آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کا کوئی پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے تو آپ محض اپنا ڈرائیونگ لائسنس یا ریاستی شناختی دستاویز کسی بھی اسلحے کی دکان پر دکھا کر بندوق خرید سکتے ہیں۔امریکہ میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں آپ اپنے دفاع میں گولی چلا سکتے ہیں، یا آپ کی ملکیت میں گھس آنے والے کو آپ بلاجھجک گولی مار سکتے ہیں۔ بہت سے امریکیوں نے اپنے گھروں پر ایسی تختیاں لگا رکھی ہیں جن پر تحریر ہے کہ بغیر اجازت اندر آنے والے کو گولی ماری جا سکتی ہے۔ یا ’وی شوٹ دی ٹریس پاسر‘ یعنی ہم اندر گھس آنے والے کو گولی مار دیتے ہیں۔امریکی ہتھیاروں سے عشق کرتے ہیں‘ اور یہی بات آپ کو کئی امریکی فخر سے بتائیں گے۔یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ امریکہ دنیا میں بندوق کا کلچر رکھنے والے ملکوں میں سب سے آگے ہے اور اس کی تاریخ اور قومی زندگی میں بندوق ایک جزو لاینفک رہا ہے۔ آپ کو ایسے کئی امریکی ملیں گے جو آپ کو بتائیں گے کہ ان کے دادا نے انہیں اپنی رائفل اس وقت تحفے میں دی جب وہ پانچ سال کے تھے۔
امریکن رائفل مین کا ایک ہیرو والا ’ماچ±و مین‘ تصور امریکی زندگی اور لوک گیتوں میں بھی موجود ہے۔ امریکیوں کیلئے بندوق ان کا زیور اور شوق شمار ہوتا ہے۔ امریکیوں کی رائفلز اور بندوقوں پر نقش و نگار دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
بندوق سے امریکی قربت اتنی ہے کہ مشہور امریکی افسانہ نگار ارنسٹ ہیمنگوے کی بندوقیں بھی خود ان جتنی ہی مشہور ہیں اور ان پر ایک کتاب ’ہیمنگنویز گنز" بھی شائع ہوئی ہے۔حال ہی میں برطانوی اخبار گارڈین نے دنیا میں آتشیں اسلحہ رکھنے والے ملکوں کا ایک نقشہ شائع کیا ہے جس میں امریکہ کو اول نمبر پر بتایا گیا ہے۔چند روز قبل ٹائم میں اس کے ایڈیٹر فرید زکریہ نے اپنے کالم "The Case for Gun Control"میں اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ 88.8 فیصد امریکیوں کے پاس آتشیں اسلحہ ہے۔ یمن کے شہری 54.8 فیصد کے ساتھ دوسرے سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ کے 45.7 اور45.3 کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ اس آرٹیکل کی اشاعت سے عقدہ کھلا کہ اس میں بھارتی نژاد زکریہ نے کئی اقتباسات ہاورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر گیل لیپور کے اخبار نیویارکر میں 23 اپریل 2012ءکو شائع شدہ مضمون سے لئے تھے۔ جن کا حوالہ نہ دینے پر اسے چوری شدہ مواد قرار دیا گیا۔ جس کا زکریہ نے اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی جس پر ان کو ٹائم کے ساتھ نیوےارک ٹائمز اور سی این این پر ایک ماہ کےلئے بین کردیا گیا ہے۔ زکریہ کہیں نوسر باز مشہور نہ ہو جائیں کیونکہ انہوں نے ”ڈیوک“ یونیورسٹی میں دیئے گئے ایک لیکچر سے ملتا جلتا لیکچر ہاورڈ یونیورسٹی میں دیا تھا جس پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ زکریہ نے ایسے کام کرنے ہیں تو پاکستان چلے آئیں ان کے لئے یہ زمین بڑی زرخیز ثابت ہو گی۔
اب پے در پے خونیں واقعات کے بعد ایک بار پھر صدر اوباما پر اسلحہ کلچر کے خاتمے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ خود بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکیوں کے اسلحہ سے لگاﺅ کو دیکھتے ہوئے وہ اس لئے خاموش ہیں کہ صدارتی انتخابات کی آمد آمد ہے وہ اسلحہ پر پابندی لگا کر مخالف پارٹی کو کلین سویپ کا موقع نہیں دینا چاہتے۔ اوبامہ اسلحہ کنٹرول کیلئے ایک اصولی فیصلہ کرنے سے اس لئے ہچکچا رہے ہیں کہ انکو اپنی ذات پر امریکیوں کے اعتماد کا یقین نہیں۔ اس لئے وہ منافقت جیسی مصلحت سے کام لے رہے ہیں۔ اہل عرب جیسا شراب نوش کون ہو گا‘ نبی کریم نے اسکی حرمت کا حکم سنا یا تو شراب کے مٹکے اور کوزے ٹوٹے اور اوندھے پڑے نظر آئے۔ حجة الوداع کے موقع پر حضور کا خطبہ اسلامی آئین کی حیثیت اختیار کر گیا‘ آپ نے جو فرما دیا کسی نے سرتابی کی جسارت نہ کی۔ قیادت صالح اور مخلص ہو تو قوم اسکی پیروی پر فخر کرتی ہے ایسی ہی مثال ہمیں ماضی قریب میں افغانستان میں نظر آئی‘ جب ملاعمر نے افغانوں کو اسلحہ جمع کرانے‘ پوست کی فصل کو اکھاڑ پھینکنے کا حکم دیا جس پر برضا و رغبت عمل ہوا۔ مغرب نے چند اسلامی اصول ضرور اپنائے ہیں‘ اسلام صرف چند اصولوں کا نام نہیں ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسکی امریکی معاشرے میں کارفرمائی ہوتی تو اوباما کو اسلحہ کلچر کے خاتمے کیلئے کسی قسم کی جھجک اور ہچکچاہٹ نہ ہوتی۔ موجودہ حالات اور مصلحتوں کے پیش نظر شاید امریکہ اور امریکیوں پر اسلحہ کلچر قیامت تک مسلط رہے۔