پاکستان کوئی سوکھا بنیا

کالم نگار  |  ملک یسٰین

آزادی پاکستان کے اعلان کے بعد نہ جانے کیوں قتل و غارت شروع ہو گئی۔ وہی لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے جو صدیوں سے مل جل کر رہ رہے تھے۔ ہمارے گاﺅں پر جب حملہ ہوا تو ہم بھاگ کر بٹالہ شہر کے انارکلی تالاب میں کیمپ لگا ہوا تھا، پہنچ گئے۔ تین دن بعد سرکاری گاڑیاں آئیں۔ عورتوں اور بچوں کو اس میں سوار ہونے کی اجازت تھی لیکن میں عورتوں میں چھپ کر بس میں سوار ہو گیا۔ راستہ میں ہماری بس نالہ میں دھنس گئی تو بلوائیوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ میں زخمی حالت میں بھاگ نکلا۔ میری بیوی جو زخمی حالت میں سڑک کے کنارے بے ہوش پڑی تھی شام کے وقت ایک ہندو جوڑا وہاں سے گزرا تو انہوں نے میری بیوی کو اٹھایا اور قریبی مسجد میں لٹا دیا اور گھر سے گرم دودھ میں گھی اور ہلدی ڈال کر لائے اور میری بیوی کو پلایا اور اپنے گھر واپس چلے گئے۔ دوسرے دن فجر کے وقت دونوں میاں بیوی میری بیوی کو دیکھنے آئے تو وہ کافی سنبھل چکی تھی تو انہوں نے گورداسپور سرکاری ہسپتال میں اپنی بیٹی ظاہر کرکے داخل کروا دیا۔ میری بیوی پندرہ دن بعد صحت یاب ہو گئی تو یہ ہندو جوڑا اسے اپنے گھر لے گیا۔ پھر ایک ماہ بعد بذریعہ فوج میری بیوی ہمیں مل گئی۔ یاد رہے کہ یہ ہندو جس کا نام کستوری لال تھا جہلم پاکستان سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا ہوا تھا۔ یہ ساری داستان میری بیوی نے ہم سے ملنے کے بعد سنائی۔