نظریہ پاکستان آج بھی زندہ و جاوید! (آخری قسط)

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

یہی وجہ ہے کہ جب 1939ءمیں کانگریس میں نے مکمل آزادی کے نعرے کی بنیاد پر وزارتوں سے استعفیٰ دیا تو حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر 22دسمبر 1939ءکو یوم نجات منایا گیا۔ کانگریسی وزارتوں کے دوران ہندو¶ں کے مسلمانوں پر مظالم، مذہبی پابندیاں، ہندو راج کا نعرہ، یو پی میں نظام تعلیم کی تبدیلی، بندے ماترم کا نعرہ، ترنگا کو سلامی، مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے، اردو ہندی تنازعہ مسلمانوں کی ملازمت میں حصے کی مخالفت، گاندھی کی تصویر کو سلامی، جداگانہ انتخابات پر اعتراض اور وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے قرارداد پاکستان اور مطالبہ پاکستان پوری آب و تاب سے سامنے آیا۔ جس پر قائداعظمؒ کی بصیرت انگیز قیادت کی جدوجہد کے نتیجہ میں 3جون 1947ءتقسیم ہند کا منصوبہ تشکیل پایا۔ جس کی بنیاد پر پاکستان اور ہندوستان معرض وجود میں آئے۔ دراصل جب سیاسی مسائل کے حل نہ ہونے پر وائسرائے ہند کو برطرف کر دیا گیا تو وزیراعظم برطانیہ لارڈ اٹیلی نے 26فروری 1947ءکو اعلان کیا کہ حکومت برطانیہ جون 1948ءتک ہندوستان چھوڑ دے گی جس کے بعد نئے وائسرائے لارڈ ما¶نٹ بیٹن نے قائداعظمؒ اور گاندھی سے ملاقات کی اور قائداعظمؒ کے ٹھوس اور اصولی موقف پر اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں وگرنہ گاندھی تو مسلمانوں کو برصغیر میں قوم تک تصور نہیں کر رہے تھے اور ان کا دوغلہ موقف تھا کہ مسلمان یہاں صرف ایک اقلیت ہیں۔ یہ قائداعظم کی بصیرت انگیز قیادت تھی جو مسلمانوں کو آزادی اور ان کا حق دلوا گئی۔ ہندو مسلمانوں کو آزادی حاصل نہیں ہونے دینا چاہتے تھے اور اپنی اس روش کا قاتلانہ مظاہرہ انہوں نے تقسیم کے دوران نہتے مسلمانوں کا قتل عام کر کے کیا۔ لہٰذا یہ تمام زیربحث حالات و نکات اور تقسیم کے دوران مسلمانوں کی قتل و غارت گری اور تقسیم کے بعد بھارت کی پاکستان کو ناکام کرنے کی سازش عقل و شعور کو یہ برملا کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کو لاکھوں بے مثال اور لازوال قربانیاں دے کر کیوں معرض وجود میں لایا گیا حالانکہ ہندو رہنما بشمول گاندھی آخری وقت تک اس کے قیام کے خلاف تھے اور آج بھی بھارت ہے مگر ہم میں سے ہمارے ہی نہ جانے کیوں عجب سی باتیں کر کے اپنے بزرگوں، ما¶ں، بہنوں اور بھائیوں کی غازی اور شہید روحوں کو تڑپاتے ہیں۔ یہ سب ہمارے ہی تو ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان ہمارا ہے ہم اس کے کیوں نہ ہوں۔ شاید میڈیا جسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا چوتھا ستون قرار دیا تھا اس میں بیٹھ کر ان نظریات کا پرچار کرنا اور شعور اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ ایسی لادینیت پر مبنی باتیں کرنا جو مسائل کے حل کی بجائے مزید بحرانوں کو جنم دیں خصوصی طور پر وہ نظریات جو لوگوں میں دوڑتے خون سے زیادہ اہم ہیں۔ اگر ہم سقراط کا یہاں ذکر صرف اسی بناءپر کریں کہ وہ 467 قبل از مسیح کو اپنے نظریات کے حق میں قانون کی خلاف ورزی سے انکار کر کے زہر کا پیالا پی کر اس جہاں سے عالم جاودانی کو کوچ کر گیا تھا تو پھر نظریہ پاکستان جو نظریہ اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اس کو سوچ اور سمجھ سے باہر قرار دے کر رد کرنا ممکن ہو گا۔ نظریہ ہر حال میں نظریہ ہوتا ہے اس سے انحراف قوموں اور ریاستوں کی موت ہے۔ ہماری پاک سرزمین میں رواں تمام مسائل اور بحران بھی نظریہ پاکستان سے روگردانی ہے۔ ہم حکومت سے صرف اتنا ہی عرض کریں گے ”نظریہ، نظریہ، نظریہ پھر نظریہ اور سب کی جمع نظریہ پاکستان“ اقبالؒ اور قائدؒ کے ویژن کا پاکستان ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی پاکستان بھارت بچے جموروں مقیم پاکستان کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ وہ بھارت کیوں نہیں چلے جاتے صرف یاترا ہی کر آئیں۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے اور شاید نہیں لازمی طور پر نظریہ پاکستان کے بھی قائل ہو جائیں گے۔
آج وطن عزیز کا 65واں یوم آزادی چیخ چیخ کر ہمیں جھنجھوڑتا ہے اور پکارتا ہے کہ نظریہ پاکستان سے اپنا رشتہ مضبوط کرو۔ جس کی وجہ سے آج تک یہ پاک سرزمین اللہ کی خاص مدد اور حضور کے صدقے قائم ہے۔ تحریک پاکستان اور ان ہندو¶ں اور انگریزوں کی طرف سے شہید کئے گئے بے گناہ مسلمان اس عظیم ملک کے دائمی مجاہدین ہیں۔ میرے بزرگوں نے کیونکہ خود تحریک پاکستان میں انتھک جدوجہد کی ہے، قربانیاں دی ہیں، لہٰذا میری دلی خواہش ہے کہ ہمارا 65واں یوم آزادی جو ایک مرتبہ ماہ مقدس رمضان المبارک میں آ رہا ہے۔ اس ماہ صیام میں مسلمانان پاکستان نظریہ پاکستان سے سے عشق کا رشتہ مضبوط کر لیں اور نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کے اس نعرے کو عملی جامعہ پہنائیں ”روکھی سوکھی کھا.... ٹھنڈا پانی پی.... غیرت مند قوم کا فرد بن کر جی“ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی کاوشیں اس ضمن میں خوش آئند اور لازوال ہیں۔ ہم سب کووطن عزیز کا 65واں یوم آزادی اس عہد کے ساتھ مبارک ہو کہ اب ہم صرف ایک ہجوم نہیں قوم بن کر رہیں گے!!