مزاحمت کی نوبت نہیں آئے گی؟........

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک زخم خوردہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ہمارے موجودہ وزیراعظم کو بھی گھر بھجوانے کی کوشش کی تو اس کوشش کے خلاف مزاحمت کریں گے۔
یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان بظاہر تو اس بات کی چغلی کھا رہا ہے کہ سپریم کورٹ راجہ پرویز اشرف کو بھی گھر بھجوانے کا فیصلہ کرچکی ہے لیکن سیاسی حالات و مشاہدات اس سوچ کے برعکس محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اہل نظر اس رائے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ پاکستان کی سپریم کورٹ راجہ پرویز اشرف کو بھی نااہل قرار دے کر اقتدار سے محروم کر دے گی بلکہ شواہد بتا رہے ہیں کہ اس بار دونوں ہی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالا اور اختیار کیا جائے گا اور میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ 27 اگست کے لئے کوئی درمیانی اور مناسب راستہ شاید تلاش بھی کرلیا گیا ہے‘ جس کے مطابق سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی محفوظ رہے۔
کوئی مانے نہ مانے لیکن وقت منوا لے گا کہ خفیہ انڈرسٹینڈنگیں ہمارے رگ و پے میں سرایت کرچکی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی اقتدار سے علیحدگی بھی ایک انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ لگتی ہے اور راجہ پرویز اشرف کے ساتھ جو ہونے والا ہے‘ اہل دانش و نظر بھانپ چکے ہوئے ہیں۔ اسی لئے تو یوسف رضا گیلانی کی ایک کھوکھلی بڑھک سامنے آئی ہے کیونکہ موصوف اندازہ لگا چکے ہیں کہ مزاحمت کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
 گیلانی صاحب اس خاموشی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سے الگ ہوئے یا الگ کئے گئے کہ ایک پتہ تک نہ ہلا۔ مسائل زدہ عوام نے بالکل نوٹس نہ لیا‘ عوام نوٹس لیتی ضرور اگر گیلانی صاحب ان کے لئے اچھی یادیں چھوڑ جاتے‘ عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا ہوتا۔ سید یوسف رضا گیلانی خوش قسمت ہیں کہ اقتدار سے الگ ہوگئے یا الگ کر دیئے گئے اگر وہ آج بھی اقتدار میں ہوتے تو ان پر لگنے والے الزامات میں اضافہ ہی ہونا تھا‘ کمی ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یوسف رضا گیلانی خوش قسمت ہیں کہ ساڑھے 4 سالہ اقتدار کے دوران اپنی آنے والی نسل کا مستقبل سنوار گئے۔ تمام تر الزامات کے باوجود بیٹوں کو پیپلزپارٹی کا لیڈربنوا دیا۔ یوسف رضا گیلانی لکی ہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت تک ان پر لگے ہوئے الزامات بارے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نہ رہی تو یوسف رضا گیلانی پر لگنے والے الزامات قصہ پارینہ بن چکے ہوں گے اگر ایسا نہ بھی ہوا تو فرزندان گیلانی تیار ہوچکے ہیں کرپشن کے الزامات کا مقابلہ اور دفاع کرنے کے لئے۔
وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد سے گیلانی صاحب ایک خاص مشن کے تحت ایوان صدر میں براجمان ہیں۔ لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ آصف زرداری نے یوسف رضا گیلانی کو ملتان اور لاہور منتقل ہونے سے کیوں روک رکھا ہے‘ اس بارے کھلم کھلا باتیں کرنا مناسب نہیں۔ وقت اس سوال کا جواب خود ہی مہیا کرے گا البتہ ایک بات قابل بیان ہے۔ لگتا ہے کہ ایوان صدر میں قسم قسم کے جال بنے جا رہے ہیں‘ ان جالوں کا مرکزی خیال جناب آصف زرداری کا ہے اور ان جالوں کی نگرانی جناب گیلانی کر رہے ہیں۔
دوست مانیں نہ مانیں مگر عنقریب انہیں ماننا پڑے گا کہ ایوان صدر میں بنا گیا ایک جال فیصل رضا عابدی استعمال کر رہے ہیں‘ دیکھئے نوجوان جیالا اس جال میں کسے کسے پھانسنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
پاکستانی آج ضرورت سے زیادہ باشعور ہوچکے ہیں‘ انہوں نے ذوالفقار مرزاکی بڑھکوں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ ایوان صدر میں بنے گئے جال میں کسے پھنسانا چاہتے ہیں۔
ذوالفقار مرزا کو استعمال کیا گیاتھا۔ ایم کیو ایم کے کینڈے میں رکھنے کے لئے بالکل اسی طرح فیصل رضا عابدی کو استعمال کیا جا رہاہے۔ یہ پیغام دینے کے لئے کہ اپنی سوچ بدل لیں ورنہ ہم بھی تیار ہیں دما دم مست کے لئے۔
نوٹ کرلیجئے کہ انتخابات ہونے تک اسی قسم کے بے شمار جال بنے جانے کی صدائیں سننے میں آتی رہیں گی اور جب تک جالوں کی فیکٹری کام کررہی ہے‘ یوسف رضا گیلانی وہیں رہیں گے۔
جہاں تک یوسف رضا گیلانی کی مزاحمت والی بڑھک کا تعلق ہے تو اس ضمن میں صرف اتنا کہ لگتا ہے کہ سپریم کورٹ ٹرین مارچ کی نوبت نہیں آنے دے گی اور اگر یہ نوبت آبھی گئی تو کیا ہوگا بھلا؟ مسائل زدہ لوگوں کی طرف سے پیشگی معذرت قبول فرمائیں۔
پاکستان زندہ باد............ پاکستان کھپے
٭............٭............٭