دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی نظر میں وہ ایک عام آدمی تھا۔ اس لیے اُس کی موت کی خبر نہ کہیں شائع ہوئی اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل سے نشر ہوئی۔ لیکن جن سے اُن کی دوستی اور تعارف تھا اُن میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جس کی آنکھ اُس کی اچانک موت پر اشکبار نہ ہوئی ہو۔ اس کے بچھڑنے سے شہر ویران ہُوا یا نہیں لیکن اس کے دوستوں کی دنیا اس موت نے ضرور اُجاڑ دی۔ دل کے دریا کو ایک روز ضرور اُتر جانا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم سب نے اپنی آخری منزل کی طرف یقیناً لوٹ کے جانا ہے لیکن پھر بھی کچھ صدمات ایسے ہوتے ہیں جن کے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں۔ خالد نواز جوندہ کی موت کا صدمہ بھی ایک ایسا زخم ہے جس سے تادیر لہو رستا رہے گا۔ اُس کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں لازوال خوشیوں کے صرف دو واقعات ہیں، ایک ناقابل فراموش خوشی یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں میرے والد گرامی چودھری محمد نواز کی خدمات کے اعتراف میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی طرف سے انہیں بعد از موت گولڈ میڈل کا اعزاز دیا گیا اور دوسری لازوال خوشی یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انیس سال کی طویل دعا¶ں کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازا۔ جب تحریک پاکستان کے کارکن چودھری محمد نواز مرحوم کے لیے گولڈ میڈل کا اعلان ہوا تو خالد نواز جوندہ سے یہ خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ وہ اکثر مجھ سے کہا کرتا تھا کہ میرے لیے پاکستان کے شہری ہونے سے بھی بڑا اعزاز یہ ہے کہ مَیں اُس باپ کا بیٹا ہوں جس نے حصول پاکستان کے لیے جدوجہد کی اور قیام پاکستان کے لیے جیل کی سختیاں بھی برداشت کیں۔ خالد نواز نے تحریک پاکستان کے جذبوں کو جوان رکھنے کے لیے دھونکل تحصیل وزیر آباد میں اپنے مکان پر ”مسلم لیگ ہا¶س“ کی تختی نصب کی ہوئی تھی اور نیچے یہ عبارت درج ہے کہ بیادِ چودھری محمد نواز کارکن تحریک پاکستان۔ جس تقریب میں چودھری محمد نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بعد از وفات گولڈ میڈل دینا تھا۔ اتفاق سے اُس تقریب میں مَیں بھی حاضر تھا۔ خالد نواز نے اپنے والد کا گولڈ میڈل خود وصول کرنے کی بجائے اپنے دس سالہ بیٹے اللہ یار کو سٹیج پر بھیجا۔ شاید اُس کی سوچ یہ تھی کہ تحریک پاکستان میراث آنے والی نسلوں کو منتقل کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ تحریک پاکستان کے ایک کارکن کا گولڈ میڈل اُس کا پوتا وصول کرے۔ کارکن تحریک پاکستان کا یہ گولڈ میڈل اس کے دو یتیم پوتوں اور ایک یتیم پوتی کی کفالت بھی کر سکتا ہے یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کیا ان بچوں کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے کسی دانش سکول میں منتقل نہیں کیا جا سکتا؟ مجھے نہیں معلوم کہ دانش سکولوں میں تحریک پاکستان کے لیے بے مثال خدمات سرانجام دینے والے کارکنوں کی آنے والی نسلوں کے لیے کوئی کوٹہ مخصوص ہے یا نہیں۔ تاہم اگر مستقبل میں بھی ایسی کوئی سکیم تشکیل دے دی جائے جس کی رُو سے تحریک پاکستان کے کارکنوں کی اولاد کو حکومت کی سطح پر معیاری تعلیم کی مفت سہولتیں فراہم کر دی جائیں تو اس سے ایک اعلیٰ مثال قائم ہو سکتی ہے۔ آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ سب کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ لیکن جن بچوں کے والدین اُن کی پرائمری تعلیم کے دوران ہی بچھڑ جاتے ہیں اُن بچوں کو تعلیمی وسائل فراہم کرنا تو حکومت کو اپنا فرض سمجھنا چاہیے۔ معلوم نہیں کتنے ہیں خالد نواز پہاڑ جیسے غم اپنے خاندان کے لیے چھوڑ کر ہم سے بچھڑ جاتے ہیں۔ موت کا مقررہ وقت کبھی یہ نہیں دیکھتا کہ اُس کے حرکت میں آنے سے کتنے دل ناشاد ہوئے ہیں، کتنے بچوں نے یتیم ہو جانا ہے اور کتنے گھر ویران ہو جانے ہیں۔ خالد نواز کی موت نے یقیناً ہم دوستوں کی خوشیوں کو مرجھا دیا ہے لیکن جو مستقل غم اور جو قیامت اس کی مختصر فیملی پر گزر گئی ہے اُس کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔ خالد نواز کا جنازہ مَیں نے پڑھا ہے لیکن اُس کو قبر میں اتارنے کا منظر دیکھنا میری برداشت سے باہر تھا۔ اس لیے مَیں اُس کے گا¶ں نہیں گیا۔ جانے کیا بات تھی، یہ راز خالد نواز کے ساتھ ہی دفن ہو گیا ہے کہ وہ بھی اپنے گا¶ں جانے میں خوشی محسوس نہیں کرتا تھا۔ عید پر وہ اپنے بچوں کے ساتھ مری جانا چاہتا تھا لیکن اُس کی موت سے عید اور مری جانے کی سب خوشیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ حفیظ جالندھری یاد آ گئے ہیں۔ انسان کی ساری خوشیاں فقط زندگی کے دم سے ہیں
احباب ہی نہیں ہیں تو کیا زندگی حفیظ
دنیا چلی گئی مری دنیا لیے ہوئے
اور فراق گورکھپوری نے بھی کتنی تلخ حقیقت کو زبان دی ہے
اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں