ایک چاند اور دو عیدوں کا فارمولہ

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی

جوں جوں عیدالفظر قریب آ رہی ہے میری سوچوں میں ”ان بن“ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ فکرمند مَیں اس لئے ہوں کہ ”عیدالفطر“ شاید اس بار بھی ایک ہی دن نہ منائی جا سکے۔ نماز تراویح کے بعد اپنی ٹوٹی پھوٹی دعا¶ں کی مَیں نے جہاں رفتار تیز کر دی ہے وہاں ”ایک ہی دن“ عید منانے کی دعا پر اضافی وقت دینے لگا ہوں۔ معاملہ اب کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بے پایاں کرم و عنایت اور قرب و فضل اگر شامل رہا، علماءکرام، پیران عظام اور مولوی حضرات نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا اور چاند کی پیدائش کے بعد کی عمر کا اگر بروقت تعین ہو گیا تو مجھ سمیت برطانیہ کے ہزاروں وہ مسلمان جنہوں نے ہفتہ کے بجائے ”جمعة المبارک کو پہلا روزہ رکھا --- اتوار 19 اگست کو عیدالفظر منانے کے اس لئے بھی پابند ہو جائیں گے کہ ان کے 30 روزے الحمدللہ پورے ہو چکے ہوں گے جبکہ ”ہفتہ“ کو روزہ رکھنے والوں کے 29 روزے ہوں گے۔
میرے بعض علماءکرام یقیناً یہ سوچیں گے کہ ”سبجیکٹ ٹو مون“ کے بغیر یہ فیصلہ کیسے کر رہا ہوں؟ یہ فیصلہ نہیں بلکہ روزے کی ابتدا اور روزے کے اختتام کی روشنی میں 19 اگست کی تاریخ دی ہے۔ اب آگے کیا ہونے والا ہے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ میری قریبی مسجد کے پیش امام جنہوں نے اسلامیات میں ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے اور ”ولایت نامہ“ کے قاری بھی ہیں رمضان المبارک کے آغاز سے ایک رات قبل ہی مجھ پر واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے روزے کا آغاز ”ہفتہ“ کو کر رہے ہیں کہ ”جمعة المبارک“ کو چاند نظر آنے کی ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں۔ مگر دوسری جانب میری مرکزی جامع مسجد کمیٹی کا یہ م¶قف تھا کہ رمضان المبارک کے پہلے روزے کا چاند ”کہیں دور کسی ملک“ میں نظر آ گیا ہے اس لئے پہلا روزہ جمعة المبارک کو ہی ہو گا۔ اپنی دونوں مساجد کے ان دو مختلف فیصلوں پر رات 12 بجے تک میں سوچتا رہا اور یوں جمعة المبارک کے مقدس دن کی مناسبت اور اضافی ثواب کے حصول کے لالچ میں قریبی جامع مسجد کے فیصلے کو تسلیم کرنا پڑا کہ کل روزِ حشر جب وقت حساب آئے گا تو دونوں مساجد کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے جمعة المبارک کے دن کو گواہ بنا سکوں! ہمارا کوئی ایک مسئلہ ہو تو اُس پر بات کریں۔ ہمارے بعض عالموں اور مولویوں پر دین کے معاملے میں عمل کی بجائے چونکہ فارمولوں پر زندگی گزارنے کا نشہ سوار ہے اس لئے کسی بھی دینی معاملے کو سلجھانے اور اُس کا م¶ثر حل نکالنے میں ہماری اختلاف رائے انتہا کو چُھونے لگتی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ماہ صیام کی ابتدا ہوتے ہی مختلف مذہبی ادارے، تنظیمیں اور سوسائٹیاں ایک دن آغاز رمضان اور ایک ہی دن عید منانے کے لیے مسجدوں اور اخبارات میں اعلانات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ چاند کے نظر آنے یا نہ آنے پر ”متبادل بیانات“ کا سلسلہ خوب زور پکڑتا ہے۔ چاند کی افق پر پیدائش کی باضابطہ اطلاع دینے والے ”ابزر ویٹری سنٹر لندن“ سے موصولہ اطلاعات کی شہادت بھی مل جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بعض علماءاپنا ”پرنالہ“ اپنی جگہ قائم رکھنے پر بضد رہتے ہیں جس سے اتحاد ملی اور یکجہتی کو شدید دھچکا لگ رہا ہے اور بعض اوقات اس “قمری لڑائی“ میں ڈانگ سوٹے تک نوبت آ پہنچتی ہے۔ چنانچہ میں اب اس سوچ میں گم ہوں کہ عیدالفطر ایک ہی دن بغیر ”تنقیدی مسائل“ خیریت سے گزر جائے۔ محبت و اخوت بھی متاثر نہ ہو اور دین کی سربلندی میں بھی اضافہ ہو ”گوروں“ کو یہ طعنہ دینے کی ضرورت باقی نہ رہے کہ تم کس طرح کے مسلمان ہو کہ ایک چاند دیکھ کر بھی دو مختلف دنوں میں عید کا تہوار مناتے ہو۔