او آئی سی خون آلودہ شام اور صدر زرداری کا مکہ مکرمہ میں ہونا

کالم نگار  |  محیی الدین بن احمد دین

 او آئی سی کانفرنس مکہ مکرمہ کا اختتام 15اگست کو ہوگا۔کانفرنس کے فیصلے اس آخری اجلاس میں سامنے آئیں گے کل کے اخبارات اور میڈیا میں یہ سب کچھ ہوگا مگر مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے مسلمان ممالک کے حکمران جمع ہیں۔ لہٰذا تحریر ہذا اسی حوالے سے سپرد قلم ہورہی ہے۔صدر آصف علی زرداری اپنے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر،وزیر داخلہ رحمان ملک اور سیکرٹری خارجہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں ہیں۔انہوں نے اپنے رفقاءکے ساتھ عمرہ ادا کیا ۔ حنا ربانی کھر نے تہران کانفرنس جسے شام کے حوالے سے ایران نے منعقد کیا اور 25ممالک کو شرکت کی دعوت دی تھی اس میں شرکت کرکے ایران نقطہ نظر سے آگاہ ہوئی تھیں۔ سعودی عرب اور ایران میں چونکہ خلجی تعاون کونسل اور عرب دنیا کے مسائل اور ایجنڈوںپر شدید اختلاف رہا ہے لہٰذا ایران نے اپنے طور پر تہران کانفرنس میں شام کے حوالے سے دوستوں کے ذہن کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔ہماری نظر میں یہ کوشش غیر موثر ہوچکی تھی۔بہر حال ایرانی صدر احمدی نژاد14 اگست کو مدینہ منورہ میں ہیں اور 15اگست کو عمرہ کرکے کانفرنس کے آخری اجلاس میں شرکت کریں گے۔ایرانی نقطہ نظر مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد میڈیا کے ذریعے سامنے آگیا ہے جبکہ جدہ میں سعودی عرب،ترکی اور خلیجی تعاون کونسل ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی شرکت کی ہے یہ گروپ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمہ کا داعی ہے کیونکہ شا م میں دوسری مرتبہ اکثریتی آبادی شامی آمر مطلق صدر کے ظلم و ستم کا شکار ہوئی ہے۔شائد دونوں اطراف کی داخلی کشمکش اور صدر بشار الاسد کی حکومتی کارکردگی سے بیس ہزار سے زیادہ معصوم شامی شہرت موت کی وادی میں اترچکے ہیں۔صدر بشار الاسد کا جانا اب شائد فطری بات ہے لیکن روس اور چین نے سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے اس قرارداد کو ناکام بنادیا تھا جو بشار الاسد کے خلاف جارہی تھی۔روس اور چین کے اس اقدام سے ایرانی سیاست کو کافی حوصلہ بھی ملا ہے جبکہ مکہ مکرمہ کانفرنس میں میانمار کے مظلوم مسلمانوں اور شام کے مظلوم مسلمانوں کا مقدمہ زیر بحث آرہا ہے حیر ت ناک مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ میانمار کی حکومت غیر مسلم بد ھ مت حکمران کی ہے انکی مسلمان دشمنی پر اگر تھو تھو ہورہا ہے تو شام کے حوالے سے ایسا کیوں نہ ہوگا؟ جبکہ شام کے حکمران خود کو مسلمان کہتے ہیں اور عرب بھی ہیں۔شامی صدر مسلما ن ہوکر اور عرب ہوکر اپنے ملک میں اکثریت پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے تو کیا مظلوموں کے حق میں مکہ مکرمہ سے آواز اٹھانا امریکی ایجنڈے کی تکمیل ہے؟ افسوس ہے کہ کچھ اذہان مکہ مکرمہ کانفرنس کو شام کے حوالے سے امریکی ایجنڈے کی تکمیل بتا رہے ہیں مگر اس سوچ کا صرف ماتم ہی کیاجاسکتا ہے۔میانمار کے حوالے سے سعودی عرب نے کافی مالی مدد فوراً بھجوا دی ہے جبکہ ترکی کی خاتون اول نے میانمار کا دورہ کرکے مظلوم مسلمانوں کے آنسو پونچھے ہیں۔ہم سعودی عرب کی مالی مدد اور ترک خاتون اول کی مسلمان دوستی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔صدر زرداری سعودی عرب اور ایران کے حوالے سے محتاط پالیسی پر کاربند رہے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں انہوں نے افغانستانی صدر کرزئی سے ملاقات کی ہے جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم سے بھی بات چیت کی ہے ۔گویا صدر زرداری کا مکہ مکرمہ کانفرنس میں خود شریک ہونا پاکستانی خارجہ پالیسی کو نمایاں کرنے کا راستہ بھی بنا ہے جبکہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے وزراءخارجہ کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستانی موقف پیش کیا ہے۔یوں صدر زرداری اور ان کے وفد کا مکہ مکرمہ میں ہونا کشمیری مسلمانوں کی اخلاقی اور سیاسی مدد کا راستہ بھی بن گیا ہے۔ہم صدر زرداری کو اس کردار کے حوالے سے مبارکباد دیتے ہیں۔صدر زرداری نے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حوالے سے ایک جریدے سے گفتگو میں بہت اچھی باتیں کہی ہیں جبکہ ان کے بقول پاکستان اور سعودی عرب میں قدیم تاریخی تعلقات ہیں۔ یوں مکہ مکرمہ اور جدہ میں پاکستان نے اپنا کردار اور موقف کافی بہتر اور محتاط انداز میں پیش کیا ہے۔وزرائے خارجہ کانفرنس کے حوالے سے جو خبریں آج کے اخبارات میں شائع ہوئی ہیں اس کی روشنی میں شام کی او آئی سی ممبر شپ منسوخ ہونے کی سفارش تیار ہوچکی ہے۔ ہماری نظرمیں شام کے حوالے سے چین اور روس کی سیاست اپنے مقاصد کیلئے ہے یہ ایرانی مقاصد کیلئے نہیں ہے۔چین شائد اب مشرق وسطیٰ میں امریکہ مخالف قوت کے طورپر خود کو نمایاں کر رہا ہے۔بھلا وہ ” آخر“ میں مشرق وسطیٰ میں اکثریتی عربوں کے ساتھ کیونکہ اپنے تعلقات کشیدہ کرسکتا ہے ۔کانفرنس کے فیصلوں کے سامنے آنے پر نئی تحریر انشاءاللہ کل لکھیں گے۔