آخر حکمرانوں کا ایجنڈا کیا ہے؟

کالم نگار  |  سید روح الامین

وکی لیکس کے مطابق صدر آصف زرداری نے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے واشنگٹن والوں کا شکریہ ادا کیا اور ان سے عہد بھی کیا تھا کہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق پاکستان کو چلایا جائے گا۔ لگتا ہے کہ آصف زرداری اسی مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ امریکی وفاداری اور انڈیا سے محبت کی پینگیں بڑھانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے ساڑھے چار سال میں ان کی حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملہ، ڈرونز میں 35 ہزار معصوم پاکستانیوں کی شہادت، سلالہ میں 24 آرمی کے جوانوں کی شہادت پر آصف زرداری کی طرف سے زبانی طور پر ”مذمت“ کے الفاظ بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ سلالہ واقعہ پر نیٹو سپلائی بند کرنے کا ڈرامہ ڈالرز کیلئے تھا۔ جب امریکہ نے ڈالرز دینے کا وعدہ کر لیا تو نیٹو سپلائی کو کھول دیا گیا۔ کہا یہ گیا کہ سلالہ واقعہ پر امریکیوں نے ”معافی“ مانگی ہے۔ کیا یہ ڈرامائی ”معافی“ 24 جوانوں کے خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے کافی ہے؟ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے جس کشمیر کے حصول کیلئے ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عہد کر رکھا تھا۔ آصف زرداری نے اسے بالائے طاق رکھ کر امریکی خوشنودی کے لئے پاکستان کے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو پسندیدہ قرار دیدیا ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی، کرپشن عروج پر ہیں۔ گیس کی بندش اور لوڈشیڈنگ نے تو قوم کا جینا بھی محال کیا ہوا ہے۔ آئے روز لوڈشیڈنگ کے بارے آصف زرداری کے نوٹس لینے کی خبریں جب منظر عام پر آتی ہیں ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ رمضان شریف کا مقدس بابرکت مہینہ ہے۔ لوڈشیڈنگ عام مہینوں سے بھی کئی گنا زیادہ کر دی گئی ہے۔ حکومتی دعوے سب کے سب حسب روایت جھوٹے اور من گھڑت ثابت ہوئے۔ حدیث نبوی ہے کہ ”تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور قیامت کے روز ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا اور حکمرانوں سے بھی رعیت (عوام) کے بارے سوال کیا جائے گا“۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کو خوف خدا اور فکرت آخرت اس قدر تھی کہ فرمایا اگر میرے عہد میں فرات کے کنارے کوئی بکری کا بچہ بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے روز مجھ سے پوچھا جائے گا۔ ادھر ہمارے حکمرانوں کو نہ ہی خوف خدا رہا اور نہ ہی فکر آخرت ہے۔ عوام کے حقوق پامال کرنا کوئی ہمارے حکمرانوں سے سیکھے۔ صدر آصف زرداری کی سرپرستی میں ریلوے کا ادارہ بلور کے ہاتھوں تباہ ہو گیا ہے۔ پی آئی اے بھی برباد ہو چکا ہے۔ صدر پاکستان کے تمام اتحادی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے اے این پی ہو یا ایم کیو ایم یا ق لیگ ہو آج تک کسی نے بھی عوامی مسائل پر صدر سے بات تک نہیں کی سوائے ڈرامے بازیوں کے۔ اگر یہ اتحادی چاہتے تو لوڈشیڈنگ چوبیس گھنٹوں میں ختم ہو سکتی تھی۔