لاہور میں کرکٹ اور پروٹوکول!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
لاہور میں کرکٹ اور پروٹوکول!

شیکسپیئر نے کہا تھا ’’جس کے سر پر تاج ہوتا ہے اسے تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں‘‘… پاکستان کے کرکٹ کی کپتانی کی بھی ایک دلچسپ تاریخ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبد الحفیظ کاردار تھے اور کرکٹ ایسوسی ایشن کے پہلے چیئرمین ملک کے پہلے صدر سکندر مرزا تھے۔ کرکٹ میں پہلی بغاوت 1977میں ہوئی تھی جب آصف اقبال اور ماجد خان نے ’’شیزان ہوٹل‘‘ لاہور میں دھواں دار پریس کانفرنس کی تھی۔ کرکٹ میں سیاست کا بیج اس وقت ہی پڑا تھا جبکہ ادب میں احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا کی دو علیحدہ علیحدہ گروپ بندیوں کے بعد ادب کی دنیا ابھی تک اس سلسلے سے باہر نہیں نکل سکی۔ کرکٹ میں پہلا ’’انکار‘‘ کسی کپتان کی سربراہی میں کھیلنے سے جو کیا وہ 1983 میں ماجد خان نے کیا تھا اور جاوید میانداد کی سربراہی میں کھیلنے سے انکار کیا تھا۔ کرکٹ کی تاریخ میں ’’ڈریسنگ‘‘ رومز‘‘ کی سیاست کی بھی بڑی کہانیاں ہیں۔ ماضی میں باہمی ریشہ دوانیوں‘ سازشوں اور گروپ بندیوں کا مرکز ڈریسنگ روم ہی ہوا کرتا تھا اب صورتحال بہتر نظر آ رہی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں عمران خان اور میانداد دو لازوال کردار ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان بھی فاصلوں کی خلیج حائل رہتی تھی۔ اس طرح کرکٹ کی دنیا کے ہر دلعزیز وسیم اکرم اور وقار یونس بھی دو ایسے کردار ہیں کہ جو میدان میں اترتے بھی تھے تو ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ 1995ء میں وقار یونس نے وسیم اکرم کی کپتانی میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس قسم کے حالات و واقعات نے پاکستان کو کئی مرتبہ شکست سے دوچار کیا اور میچ فکسنگ یا پیسوں کے لین دین کے الزامات ان باتوں سے علیحدہ اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ اس قسم کے منظرنامے کے درمیان میں سعید انور جیسا کھلاڑی بھی موجود ہے جس نے 30 سال میں دو ہزار سے زیادہ ون ڈے میچ کھیلے۔ سعید انور تعلیم یافتہ نوجوان اور انجینئر تھا لیکن یورپ کی چکاچوند سے کبھی متاثر نہیں ہوا اس کے سارے سفر میں ان کی ’’گرل فرینڈز‘‘ کے قصے بھی سنائی نہیں دئیے حتیٰ کہ وہ باریش دکھائی دینے لگے۔ بیٹنگ لائن انضمام الحق اور یوسف یوحنا کی مثال دی جا سکتی ہے کہ جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کرکٹ کو کسی حد تک ’’گلیمرس‘‘ بھی کر دیا گیا اور یہ ایسا کھیل ہے کہ دنیا بھر کی اداکارائیں بشمول پاکستانی اداکارائیں اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہیں اور جن کی موجودگی کے اثرات بھی مرتب ہوتے رہے۔ اسی طرح کرکٹ کے ستارے اشتہارات کی زینت بھی بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ شاہد آفریدی کرکٹ میچ میں بعض اوقات بغیر رنز بنائے یا محض ایک بنا کر ہی آؤٹ ہوتے رہے لیکن وہ ’’اشتہارات‘‘ میں مسلسل دکھائی دیتے رہے ہیں جبکہ وسیم اکرم بھی ’’ٹاک شوز‘‘ اور اشتہارات کی زینت بننے والے ’’سٹار‘‘ ہیں۔ آج کل وہ اپنی آسٹریلیا کی بیگم کے ساتھ ایک اشتہار میں دکھائی دیتے ہیں۔ کرکٹ میں سیاسی سطح پر بھی ’’ڈپلومیسی‘‘ مشہور ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی ہندوستان جا کر راجیو گاندھی کا ہاتھ دبا کر کرکٹ کے سیزن میں ہی یہ بول کر آئے تھے کہ باز آ جاؤ ورنہ ہم بھی تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور پھر پاکستان بننے کے بعد سے ہندوستان کی طرف سے بدنیتی کہ اس نے ہمیشہ اس ملک کے وجود کو تسلیم کرنے کی بجائے سازشوں کا جال ہی بچھائے رکھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا بھر کی ٹیموں کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے مگر جب ہندوستان اور پاکستان کی ٹیمیں مدمقابل ہوتی ہیں تو دونوں طرف سے جذبہ ایمانی بھی مچل رہا ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی شکست یا کامیابی کو بھی نہایت جذباتی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ آج کل لاہور میں کرکٹ یا پھر الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ پوری قوم ایک ترنگ میں آئی ہوئی ہے اور کرکٹ کی بحالی کو امن کی بحالی بھی قرار دیا جا رہا ہے اور پھر یہ سہانے دن جو طلوع ہوتے ہیں تواس کے پیچھے پاکستانی قوم کی دکھوں اور غموں کو برداشت کرنے کی طویل داستان بھی موجود ہے جو انہوں نے اپنے دل و دماغ پر امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے کے بعد برداشت کی ہے۔ یہ سچ ہے کہ قوم اس وقت ایک ترنگ میں ہے مگر دشمن کی طرف سے بے خبری اچھی بات نہیں ہے۔ فقیر محمد صوفی کا شعر ہے …؎
میں سو گیا تھا تو مرے ساتھ سو گئی تھی دنیا
زمانہ جاگ اٹھا میرے جاگنے کے بعد
تو پاکستانی قوم ماضی کے چین کی قوم کی طرح سوتی رہی تو باقی دنیا بھی سوتی رہتی ہے مگر ہمارے جاگ اٹھنے سے یہ بات سمجھ لیں کہ دنیا بھی جاگ رہی ہے اور دنیا میں ہمارے خیرخواہ کم ہیں اور بدخواہ زیادہ ہیں۔ کرکٹ کا فیصلہ کن معرکہ تو ہو گا لیکن پہلا میچ پاکستان نے اوردوسرا ورلڈ الیون نے جیتا اور پاکستان کے جیتنے کے بعد ہر لب پر یہ بات نہ جانے کیوں آ چکی تھی کہ دوسرا میچ جیتنے کی باری ورلڈ الیون کی ہے۔ میرا شعر ہے کہ …؎
بازی جیت گئے تو کیا
ہم نے کھیل کے ہاری ہے
اور پھر اصل میں ہم اس مرتبہ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں سے محبت اور عقیدت کے اظہار کو ہر بات پر ترجیح دے رہے ہیں اور اس مرتبہ کا کھیل ہار جیت کے ہر احساس سے بالاتر ہو چکا ہے تاکہ ملک میں امن کی بحالی بھی ہو اور پھر دنیا بھر کے کرکٹر پاکستان آتے بھی رہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ کسی دشمن کی نظر نہ لگے تو پاکستان اور پاکستانی بالکل ایسے ہی ہیں کہ جیسے اس وقت دکھائی دے رہے ہیں۔ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں نے ہماری ثقافت اور ہمارے پکوانوں کے بھی مزے لئے۔ مجھے کل جرمن ایمبیسڈر کو پشاور شہر میں ایک عام سی دکان پر ’’نائی‘‘ سے حجامت کرواتے اور شہر میں گھومتے پھرتے دیکھ کر خوشی ہوئی بغیر پروٹوکول کے اس انداز میں زندگی کا مزا لینے کا انداز ہی جداگانہ ہے۔ یہاں مجھے کینیڈا کے وزیراعظم بھی یاد آ گئے ہیں جو مسلمانوں میں ہی یکساں پاپولر اور ہر دلعزیز ہیں اور جو عوامی قسم کی شخصیت ہیں ورنہ پروٹوکول تو ایک بیماری ہے جو آج کل حلقہ این اے 120 میں مریم نواز کے قافلوں میں دکھائی دیتی ہے۔ ایک واقعہ سنتے جائیے کہ ایوب خان کے زمانے میں کسی سرکاری تقریب میں پروٹوکول کے مطابق جنرل موسیٰ خان اور جسٹس ایم آر کیانی صدر ایوب سے دور اکٹھے بیٹھے تھے۔ جسٹس کیانی کی شگوفہ مزاج طبیعت مشہور تھی۔ وہ جنرل موسیٰ کومخاطب کر کے کہنے لگے … اے موسیٰ! کیا یہ وادیء طور نہیں؟ ہم کیوں خدا سے دور ہیں؟ ’’پروٹوکول‘‘ کا مرض جس کو لگ جائے تو پھر یہ بیماری اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی لہذا حقیقی خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرنا چاہئے۔