قربانی کی کھالیں یا سیاسی چالیں

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

قیامِ پاکستان سے ہی لے کر اس قوم کو بتا دیا گیا کہ اس کو بے شمار قربانیوں کے دریا عبور کرنا ہوں گے۔ ابتلا اور آزمائشوں کے درمیان سے جگہ بناتی ہوئی اس قوم کو پچھلے 66 سال سے قربانیاں دینے کا بار بار تجربہ ہُوا۔ بڑے مختصر ترین عرصے میں 5 جنگیں، 4 مارشل لا، متعدد زلزلے اور آسمانی آفات اور ہر بارقوم کا ایثار اور قربانی داﺅ پر لگائی گئی۔ آزادی کے بعد بھارت نے تو متعدد اصلاحات کرکے اپنے سسٹم کو مضبوط بنایا۔ وہاں پر راجوں، مہاراجوں اور جاگیر داروں سے زمینیں واپس لے کر زمین حد ملکیت مقرر کی گئی۔ ایجوکیشن کا اتنا مستند نظام متعارف کرایا گیا کہ بلاشبہ بھارت ہم سے تعلیم کے میدان میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بھارتی مین پاور اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں ڈیمانڈ ہے۔ سیاست میں ان کی کریڈبیلٹی پر ہے کہ آج تک کوئی طالع آزما وہاں مارشل لاءلگانے کی جرا¿ت نہ کر سکا۔ 35 کروڑ مسلمان 5 کروڑ عیسائیوں سمیت چھوٹے بڑے مذاہب اور درجنوں اقوام اور سینکڑوں زبانوں پر مشتمل بھارت میں اخوت اور یکجہتی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنے ملک میں 5 ہزار سے زائد ڈیمز بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں اپنے وطن سے محبت ہے جب کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والی مملکت پاکستان میں ہم نے پچھلے 7 عشروں میں فرقہ واریت، ذات برادری کو ہَوا دی ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت 22 خاندان تھے جنہیں امیر کہا جاتا تھا آج امراءکی تعداد شاید 2000 ہو گی مگر 20 کروڑ کی آبادی کا یہ ملک جس میں 60 فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر پاکستانی لاکھوں روپے کا مقروض ہے قرضوں کے بوجھ کا یہ عالم ہے کہ اگر ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھتی ہے تو پورا ملک 70 ارب روپے کا مزید مقروض ہو جاتا ہے۔ ہر جمہوری یا عسکری طالع آزما کشکول توڑنے کے جھوٹے دلاسے دے کر قوم کی عزتِ نفس سے کھیلتا ہے۔ امداد اور صدقات پر پلنے والی اس قوم کی کوئی بھی مشترکہ سوچ نہیں کہ جس سے ثابت کیا جا سکے کہ یہ ایک قوم ہے۔ جو قوم پچھلے 40 سال کے دوران کالا باغ ڈیم کے منصوبے پر عمل نہ کر سکی کیا وہ قوم کہلانے کی مستحق ہے۔ آج کا پیدا ہونے والا پاکستانی بچہ یہ کیسے تصور کرے کہ وہ اکیسویں صدی میں پیدا ہوا ہے کیونکہ پیدا ہوتے ہی وہ جو سب سے پہلی روشنی دیکھتا ہے وہ بجلی کی نہیں موم بتی کی روشنی ہوتی ہے۔ جہاں سے ہمیں اچھی زکوٰة اور صدقات مل جائیں اس ملک کو بھی ہم دوست سمجھ لیتے ہیں۔ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والی اقوام نے ترقی کی وہ منازل طے کی ہیں کہ آج ان کا نام عالمی برادری میں لیڈ کرنے والے ممالک میں سہرفہرست ہے جبکہ ہم ابھی تک قربانی کی کھالوں پر لڑ رہے ہیں۔ میں نے متعدد اسلامی ممالک کا وزٹ کیا ہے اور میں نے وہاں پر دیکھا ہے کہ ان ممالک میں قربانی کی کھالیں شہر کی بلدیہ کولیکٹ کرتی ہے اور اس سے جمع ہونے والی رقوم سے سوشل ویلفیئر کے نیم سرکاری پراجیکٹ کام کرتے ہیں۔ اسی طرح پورے یورپ اور نارتھ امریکہ میں بھی سوشل ویلفیئر کے ادارے حکومتی سطح پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا یہ نظام اس حد تک شفاف اور کارآمد ہے کہ اس کے اثرات ہر شہری تک پہنچتے ہیں جبکہ پاکستان میں صدقے، خیرات، فطرانے اور قربانی کی کھالیں جمع کرکے متعدد اداروں، مذہبی و سیاسی جماعتوں نے مملکت کے اندر ایک متبادل نظام بنا رکھا ہے۔
 میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں موجود تمام مسجدوں اور مدرسوں کو سرکاری سرپرستی میں ہونا چاہیے اور یہ ذمہ داری مملکت کی ہونی چاہیے کہ وہ مسجدوں میں امام اور اساتذہ کے مشاہرات مقرر کرکے اور مسجدوں اور مدرسوں کے یوٹیلٹی بلز اور خراجات کا ذمہ اٹھائے۔ جیسا کہ پچھلے کچھ سالوں سے مزارات کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکومت اسلامی اقدار کو مدنظر رکھ کر ایسے اقدامات کرے کہ جس سے مذہب کو بیچنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہو تو صدقے، خیرات اور قربانی کی کھالوں کو تجارت بنانے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے اور مساجد میں لاﺅڈ سپیکر پر مذہبی اور فرقہ واریت کی منافرت پھیلانے والوں کا سدِ باب کیا جا سکتا ہے۔ دراصل پچھلے 66 سال میں وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی مفقود ہے جس کی وجہ سے مذہبی ، سیاسی اور عسکری طالع آزما اپنی اپنی دوکانیں سجائے بیٹھے ہیں۔ اگر ہم نے باقی ماندہ پاکستان کو بچانا ہے تو ہمیں انقلابی بنیادوں پر بے شمار اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ہمیں ایجوکیشن کو عام کرکے جہالت پسند دانشوروں قائدین کا راستہ روکنا ہو گا، ہمیں پالیسی نافذ کرنا ہو گی۔ ہمیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔ ہمیں اپنے درمیان کوئی ”اتاترک“ تلاش کرنا ہوگا اور اگر نہ ملے تو ہمیں خود کوئی اتاترک پیدا کرنا ہوگا۔