عوام کی کھال کس کودیں ؟؟؟

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

آپ کو سب کو حج اور عید الاضحیٰ کی دلی عید مبارکباد! خوشیاں بھی ہماری رہائشی کالونیوں کی طرح چھوٹی چھوٹی کالونیوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہیں ۔ اب تو خوشیاں خوف کے سائے میں گزرتی ہیں ہمارا حال ہر لمحہ سہما سہما رہتا اورمستقبل ایک ڈراﺅنا خواب لگتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بے ایمانوں‘ راشیوں‘ سفارشیوں‘ چاپلوسوں کے لئے جنت اور آئیڈیل ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے خواہ وہ مجبوری ہو یا کسی ڈکٹیٹر کی ہو۔ ہر بار آپ کو وزیروں مشیروں اور کلیدی عہدوں پر ابن الوقتوں کا راج نظر آئے گا۔ پاکستان میں ایماندار آدمی تو دو وقت کی روٹی کے لئے بھی ذلیل ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے کولہو کا بیل بن جاتا ہے اور جب بچے اس کے خون پسینے کی کمائی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیتے ہیں تو انہیںسفارش‘ اور تعلق داری نہ ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں ملتی۔ ان کے خواب ملیا میٹ ہو جاتے ہیں اور پاکستان میں آج بی اے‘ ایم اے پاس لاکھوں نوجوان کلریکل بلکہ اس سے بھی کم تر درجے کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں کئی بچارے تو ٹھیلے لگا کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں یا پھر کہیں مزدوری کر رہے ہیں یا پھر اپنی ڈگریوں پر نوکر ی نہ ملنے کی وجہ سے نشہ کر کے خودکو برباد کر لیتے ہیں یا پھر ماں یا بیوی کا زیور بیچ کر باہر جانے کے لئے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ہر سال کنٹینروں کے ذریعے جانیوالے سینکڑوں پاکستانی نوجوان دم گھٹنے سے مر جاتے ہیں یا پکڑے جانے کی صورت میں ڈیپورٹ کر دئیے جاتے ہیں۔ جس کے بعد ان نوجوانوں کے لئے خودکشی واحد راستہ بچتا ہے۔ پاکستان میں اکثریت اپنا پیٹ کات کر پنے بچوں کو اعلٰی تعلیم دلواتی ہے کہ شاید اس طرح ان کا مقدر بدل جائے۔ آج پاکستان کی ہر دوسری گلی میں سکول کالج کھلے ہوئے ہیں اور درجنوں یونیورسٹیاں لاکھوں روپے لے کر ہزاروں لاکھوں طالب علموں کو ایم اے‘ ایم ایس سی‘ ایم ای اے‘ ایم بی بی ایس‘ ایم فل‘ پی ایچ ڈی‘ ایل ایل ای‘ سی اے وغیرہ کی ڈگریاں جاری کر رہی ہے لیکن جب یہ طالب علم دن رات کی انتھک محنت اور ماں باپ کی قربانیوں سے دی گئی فیسوں کے بعد فارے التحصیل ہوتے ہیں تو سال ہا سال گزرنے کے بعد بھی اکثریت کو مطلوبہ مقام اور عہدہ نصیب نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بالآخر مایوس ہو کر‘ پنی فیملی کی بقاءکی خاطر‘ بادلنخواستہ کمتر اورتوہین آمیز مقامات پر روزگار کی خاطر ذلیل و خوار ہوتے یہ ایک دو لوگوں کی کہانی نہیں۔
پاکستان میں ہزاروں بلکہ لکھوں لوگوں کی یہی کہانی ہے اور المیہ ہے لیکن وزیراعظم کی اہلیہ اور خاتون اول نے دورہ امریکہ میں حیران کن ! شکوے کر کے پاکستانیوں کو مزید دکھی اور افسردہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف تو بہت اہل اور مخلص ہیں لیکن پاکستان میں قحط الرجال ہے۔ قحط الرجال کی وجہ سے نوازشریف کی محنت رنگ نہیں لا رہی۔ کام کرنے والے لوگوں کی قلت ہے۔ محنتی ایماندار اور باصلاحیت افراد چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو ملنا مشکل ہے۔ بیگم کلثونواز کو شاید ”قحط الرجال“ کے صحیح معنی نہیں معلوم پاکستان میں ”قحط الرجال“ نہیں قحط القیادت اور ”قحط العقل“ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں کبھی مخلص اور دانشور قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ اس ملک میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان‘ ڈاکٹر عبدالسلام خواہشمند‘ اشفاق احمد‘ ممتاز مفتی ‘ قدرت اللہ شہاب‘ احمد ندیم قاسمی‘ سعادت حسن منٹو‘ میجر عزیز بھٹی‘ راشد منہاس‘ کرنل شیر خان‘ علی رﺅف مگسی‘ جہانگیر خان‘ جان شیر خان‘ عمران خان‘ شاہد آفریدی‘ وسیم اکرم ارفعٰ کریم‘ شرمین عبید چنائے‘ راحت فتح علی خان‘ عاطف اسلم‘ ملالہ یوسفزئی غرض کہایک طویل ترین فہرست ہے‘ یسے لوگوں کی جن کی ذہانت اور خدمات نے پاکستان کو عزت اور شانسے متعارف کرایا۔ پاکستان میں ہر سال ایسے طالب علموں کی بڑی تعداد ہوتی ہے جو دس اور بارہ سے زیادہ اے پلس‘ اے او لیول میں حاصل کرتے ہیں۔
آج مسلم لیگ ن میں وہ تمام لوگ اہم مناسب پر بیٹھ کر دن رات دونوں ہتھوں سے مال و متاع لوٹ رہے ہیں جو کل تک پرویز مشرف اور ق لیگ کی سیڑھیوں سے وزیر مشیر بنے تھے۔ حکومت اہم سربراہوں کی تقرری میں تاخیر کر رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیانات کے باوجود حکومت تعلیم کے لئے 3 ارب کیوں نہیں دے رہی؟ اس کے ساتھ مہنگائی بیروزگاری کی شرح میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکرٹری خارجہ جلیل عباس نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ خطہ کی صورتحال تشویشناک ہے۔ دوسری طرف بھارت کی الزام تراشیاں اور دراندازیاں ماضی سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ دہشت گردی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک ہی دن میں چاروں صوبوں میں دھماکے حکومت کی ناکام پالیسیوں کا بھانڈہ پھوڑ چکے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب گذشتہ 66 برسوں کی نسبت آدھے سے بھی کم لوگ قربانی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف قربانی کے جانور اس قدر مہنگے ہیں کہ اکثر لوگوں نے کان پکڑ لئے ہیں۔ اس پر بعض سیاسی جماعتیں کھال کے لئے تشہیری مہم چلا رہی ہیں۔ ہر جگہ کھالیں مانگی جا رہی ہیں۔ قربانی صرف رزق حلال کی قبول ہوتی ہے جبکہ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز نے کہا ہے کہ متمول مسلمان بار بار حج کی بجائے یہ رقم ضرورتمند مسلمانوں کی امداد پر خرچ کریں۔ افسوس ہمارے ہاں مذہبی تہوار اور فرائض میں بھی نمائش اورتعیش کا جذبہ غالب رہتا ہے مگر اکثریت خواب میں بھی یسا نہیں سوچ سکتی۔ پاکستانی عوام سے بار بار کھالوں کا مطالبہ کافی عجیب لگتا ہے۔ حکومت صرف یہ فیصلہ سنا دے کہ عوام کی کھال کس کوجانی ہے۔ کیونکہ پچھلے چار ماہ سے عوام کی کھال ہی تو کھینچی جا رہی ہے۔