بجلی کی قیمتیں.... حکومتی ساکھ مجروح ہو گی

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر

سپریم کورٹ کے سخت نوٹس لینے اور عوامی احتجاج کے باوجود نیپرا نے بجلی کی بڑھائی جانے والی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سارا کھیل حکومت پاکستان اور وزارت پانی وبجلی کی آشیر باد اور اجازت سے کھیلا گیا۔ سپریم کورٹ اور عوامی حلقے اس یک طرفہ زیادتی پر کسی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔
میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ بجلی کی قیمتوں کو ناقابل برداشت حد تک بڑھائے جانے کو حکومتی مجبوری کا نام دوں‘ حکومتی ہٹ دھرمی قراردادوں یا عوام دشمنی سمجھوں البتہ وجہ کچھ بھی ہو۔ نیپرا اور حکومت کے اس مشترکہ فیصلے کو ناپسند کرنا اشد ضروری ہے اور اس یکطرفہ اور ظالمانہ فیصلے پر صدائے احتجاج کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے جبکہ شواہد بتا رہے ہیں کہ خیبر تا کراچی حکومت کے اس اقدام پر زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ ماہ اکتوبر کا بل آنے پر ایسی ایسی مثالیں قائم ہونے کی توقع ہے۔ جن کا تصور کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سچ ڈنکے کی چوٹ پر بیان کر رہا ہوں کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ بجلی کے بھاری بھر کم ریٹس کر دینے سے پاکستان کا خزانہ بھرتا ہے یا نہیں البتہ مجھے کہنے دیجئے کہ ان بلوں نے پاکستانی عوام کو بجلی چوری کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور ہم عنقریب دیکھیں گے کہ پرامن پنجاب میں کراچی اور خیبر پختونخواہ کی طرح بجلی چوری کرے گا اور وہ بھی ڈٹ کر یہاں بھی جگہ جگہ کنڈے پڑے ہوئے ملیں گے اور یہ سب کچھ واپڈا اہلکاروں کی اجازت سے ہو گا فرق صرف اتنا پڑے گا کہ اس بار واپڈا اہلکار بجلی چوری کرنیوالوں سے ڈبل ریٹس وصول کرینگے اگر آج تک ایک میٹر ریڈر ایک نارمل گھرانے سے دو تین ہزار روپے ماہانہ وصول کرتا رہا ہے تو اکتوبرکے بعد اسکا ریٹ 7/8 ہزار سے کیا کم ہو گا۔ بڑی بڑی فیکٹریوں ‘ کارخانوں اور ملوں کے ریٹس تو لاکھوں میں ہونگے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ عوام کو ریلیف دئیے بغیر بجلی کی قیمت میں جان لیوا اضافہ کہ دنیا ظلم عظیم ہے۔ سیدھا سوال ہے کہ کیا پاکستان میں لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے‘ کیا پاکستان میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔ یہ ظلم نہیں تو کیا ہے کہ روز مرہ استعمال کی اشیاءکی قمیتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے ٹونے والا کوئی نہیں دکاندار من مانیاں کر رہے ہیں۔ غریب اور سفید پوش طبقے کے استعمال کی چیزوں کی قیمتوں کا تصور کر کے ہی کمپلیکس طاری ہونے لگتی ہے دیکھنے کو حکومتیں ہیں مگر رٹ نظر نہیں آتی غربت اور مہنگائی سے نڈھال لوگ تو پہلے ہی خودکشیاں کر رہے تھے۔ بچے بیچ رہے تھے اپنے اعضاءکی بولی لگانے پر مجبور تھے کہ موجود حکومت نے تین مہینوں کے اندر ہی انہیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے۔ دن میں تارے دکھا دئیے ہیں مجھے کہنے دیجئے کہ حکومت بجلی پروڈیوس کرنے والی کمپنیوں کی کٹھ پتلی بن چکی ہوئی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) عوامی مینڈیٹ رکھنے کے باوجود پاکستان کے متوسط اور غریب طبقے کے دلوں میں کوئی بڑا مقام نہیں بنا سکی۔ اس کی دو اہم وجوہات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
(اولاً) مسلم لیگ (ن) کے پاس اعلیٰ پائے کی ٹیم نہیں ہے.... حکومتی ٹیم اور اسکی کارکردگی کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں سب جانتے اور پہچانتے ہیں کہ حکومتی ٹیم کتنی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ اسی سلسلے کا ایک پروگرام ایک بڑے ٹی وی چینل پر چلایا گیا ہے جس میں ن لیگ کے 80/85 فیصد وزراءکی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا اور یہ رپورٹ باقاعدہ تحقیق کے بعد چھوٹی گئی۔
(دوئم) (ن) لیگ کی حکومت کی پرفارنس کی کمزوری کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی خالق اس جماعت نے اقتدار میں آنے سے قبل ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ اس کا نتیجہ سے آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔
لگتا ہے کہ حکومتی ٹیم میں عوامی دماغوں کی کمی ہے۔ اب دیکھئے تاکہ اسحاق ڈار‘ سرتاج عزیز‘ قادر بلوچ ایسے لوگوں کا عوام سے کیا واسطہ عوام جائیں جہنم میں انکی بلا سے۔ اگر ن لیگ کی ٹیم عوام کا دکھ درد محسوس کرتی ہوتی تو کھی ایسے کام نہ کرتی جن سے غریب اور سفید پوش طبقہ براہ راست متاثر ہوتا۔ مان لیا کہ بجلی کا نظام چلانے کیلئے حکومت کو کثیر سرمائے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہے اور بجلی پروڈیوس کرنیوالے سیٹھوں کے پیٹ بھی بھرنے ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھا کر ضروریات کو پورا کیا جائے ضروریات پوری کرنے کیلئے اور بھی تو کئی راستے ہیں میرا دعویٰ ہے کہ حکومت اگر صرف بجلی چوری پر کنٹرول پا لے تو اسے مزید کوئی دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہ ہو گی لیکن لگتا ہے کہ حکومت بجلی رکوانے میں ناکام ہو چکی ہے دوسری طرف واپڈا اہلکاروں کی چاندی ہو گئی ہوئی ہے۔ ہر کام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے ک ےئے ایک دل کا ہونا اشد ضروری ہے مگر چونکہ دل نظر نہیں آتی کامیابی کیا خاک ملے گی۔ آئیے سپریم کورٹ آف پاکستان اور عوامی ردعمل کا انتظار کریں۔ امید ہے کہ حکومت پاکستان عوام کے درد کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں جان لیوا اضافہ واپس لے لے گی۔ عقلمندی کا تقاضہ بھی ہے۔