اپنا اپنا کام

عمر فاروقی
 جناب مجید نظامی کاحکمرانوں کے ساتھ بات کرنے کا اپنا ایک خاص انداز ہے ۔اپنے وقت کے ڈکٹیٹروں اور مہم جو طالع آزماﺅں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ بڑی سے بڑی بات کہہ جاتے ہیں۔ ایک تقریب میں انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو کہہ دیا کہ آپ نے ایک ہی کال پر سرنڈر کردیا جسے سن کر وہ اچھل پڑاکیونکہ سرنڈر کا لفظ کسی فوجی کیلئے گالی ہوتا ہے ۔
مشرف نے اس بات کا جواب دینے کی بجائے جناب مجید نظامی سے سوال کیا کہ ا گر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے تو نظامی صا حب نے اپنے انداز سے جواب دیا کہ میں” آپ کی جگہ پر ہوتا ہی کیوں ۔ میں اپنا کام کرتا ہوں آپ بھی اپنا کام کرتے تو آج یہ مشکلات پیش نہ آتیں“ ۔دیکھا جائے تو اس وقت کے حالات و واقعات کے پس منظر میں یہ ایک واضح روڈ میپ ہے جسے آج بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے ۔
موجودہ صورتحال میں یہ حقیقت راسخ ہونی چاہئے کہ پاکستان کا دفاع ا فواج پاکستان کی پہلی اور آخری ذمہ داری ہے ”اپنا اپنا کام“ کو روائتی سچائی کا درجہ دے کر اسکی پاسداری کرنے کی ضرورت پہلے سے بھی ضروری ہے ۔دوسری صورت میں ایوب خان‘ ضیاالحق اور پرویز مشرف جیسے کرداروں کا سامنا قوم کا مقدر بنتارہے گا
 ہمارے ہاں قومی مسائل کا بڑا سبب بننے والی وہ فوجی مشقیں ہیں جن کے پس منظر میں اقتدار پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ عوامی یکجہتی کا فقدان ہمارا ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے باعث طالع آزماﺅں کی مہم جوئی کے سامنے بند نہیں باندھا جا سکا۔ ایک متفقہ آئین کی موجود ہے اور ریاست کی ہر اکائی کے حقوق فرائض حدود اور دائرہ کار کا تعین کر دیا گیا ہے اس کے باوجود گزشتہ عشروں کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہم جو طالع آزما آئین کو پامال کرتے ‘ سیاسی روایات کا مذاق اڑاتے ہوئے آتے ہیں اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو جاتے ہیں۔
ضیاءالحق کے1977ءکے فوجی آپریشن کے ٹھیک 22 سال بعد اکتوبر 1999ءمیں ایک اور فوجی آپریشن کے ذریعے عوام کی منتخب جمہوری حکومت پر شب خون مارا گیا۔ فوجی جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ جیل میں ان پر طیارہ ہائی جیکنگ کا ٹرائل چلایا گیا۔ جس کا مقصد انہیں سزائے موت دینا تھا ۔ لیکن دو تہائی اکثریت حاصل کرکے ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی مسلم لیگ اپنے کارکنوں کو اس فوجی اقدام کے خلاف کسی سطح پر بھی متحرک نہ کرسکی۔ بچی کھچی قیادت یہ کہہ کر گھروں میں بیٹھ گئی کہ مسلم لیگ فوج کی فطری اتحادی ہے اس لئے ہم کارکنوں کو فوجی اقدام کے خلاف سڑکوں پر نہیں لائیں گے۔ اور مشرف آمریت کیخلاف سیاسی دباﺅ پیدا کرنے کی بجائے مجرمانہ خاموشی کا شکار اختیار کرلی گئی۔ پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت نے دوسرے آپشن کے طور پر ایک نئی مسلم لیگ کو دتخلیق کر لیا جو مشرف کی فوجی حکومت کا ہمنوا بن گئی۔
 میاںنوازشریف کی مسلم لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ضیاءباقیات جیسے ان کے فطری اتحادیوں اور مذہبی عناصر نے خود اپنے تشخص کو ابھارنا شروع کر دیا۔ اور تیسرے آپشن کے طور پر ایم ایم اے بنا کر مشرف کے حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بن گئے ۔ مذہبی جماعتوں کے چند الائنس یا دائیں بازو کے دیگر عناصر ہمیشہ ہی سے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو ہتھیانے کے لئے موقع کی تلاش میں رہے۔ 12 اکتوبر کے فوجی اقدام کے ذریعے انہیں اپنی خواہشوں کی تکمیل کا بھرپور موقع ملا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے بابو اور بی بی کی اصطلاح تخلیق کرکے مخالفانہ مہم کے ذریعے میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ جس کا مقصد دونوں بڑی پارٹیوں کا سیاسی چہرہ مسخ کرنے اور عوام میں انکا اثرورسوخ ختم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی قیادتوں کے حکومت میں آنے کا راستہ روکنے کے لئے مشرف حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کروائی جس میں تیسری مرتبہ وزیراعظم کے انتخاب پر پابندی لگادی گئی۔ اسکا سب سے بڑا نقصان میاںنوازشریف ان کی سیاسی جماعت اور ان کے خاندان کو ہوا۔ تباہ حال مسلم لیگ کا نوازشریف گروپ عوام میں غیر موثر اور سیاسی طور پر غیر فعال ہوگیا۔
 نوازشریف کے حامی بچے کھچے عناصر کے سیاسی تشخص کو محفوظ بنانے کے لئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی ہدایت پرایم آر ڈی (MRD) میں بھرپورکردار ادا کرنے کا موقع دلوایا گیا اور ایک بڑے سیاسی پلیٹ فارم سے نوازشریف اور انکے خاندان کے خلاف ہونے والی انتقامی اقدامات پر قومی سطح پر آواز اٹھائی گئی۔ جس کا مقصد نوازشریف کی زیر قیادت مسلم لیگ کی شکل میںایک بڑے سیاسی اثاثے کا تحفظ تھا۔
 پیپلزپارٹی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان میں طالع آزماﺅں کیلئے اقتدار میں آنے کا راستہ ہر قیمت پر روکا جائے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پیپلزپارٹی کی منتخب جمہوری حکومت نے درجنوں ڈیڈ لائنوں کا سامنا استقامت ،ا فہام و تفہیم اور قوت برداشت سے کیا۔ جمہوریت پر مستحکم یقین اور جمہوریت کی بالادستی کی خواہش رکھنے والے تمام سیاسی عناصر کیلئے یہ امر بلاشبہ خوش آئند ہے کہ پاکستان کی قومی تاریخ میں پہلی بار انتقال اقتدار جمہوری عمل کے ذریعے ہوا ۔