کیا رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

جرم کے محرکات ہمارے معاشرے میں ہی موجود ہوتے ہیں ان محرکات کی وجہ سے انسان جرم کرنے پہ آمادہ ہوجاتاہے اگر معاشرے کی تعریف کی جائے تو معاشرہ ایک دوسرے کی برابری کی سطح پہ تعلقات، رسم ورواج کا خیال رکھنے سے تکمیل پاتاہے۔جہاں رسم ورواج اور تہذیب واقدار اور اخلاقیات میں بگاڑ پیدا ہو جہاں ہم اپنی اسلاف کی روایات کو بھلا دیں وہاں معاشرے میں جرم پنپتاہے۔ اس جرم کا فائدہ اپنوں کو توکہاں ہوگا مگر بیرونی طاقتیں ان بڑھتے ہوئے جرائم سے مضبوط فصیلوں میں کیل ٹھونکنے لگتی ہیں۔ آج کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے آج ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں کے ہم نے خود پہ عرصہ حیات تنگ کردیاہے۔
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
یہ کیفیت اس قوم کی ہے جس کی تہذیب وثقافت کا آفتاب افق مشرق سے اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوا اور اس کی کرنیں دنیا کے ہر خطہ پر پہنچیں مگر آج ہماری لامرکزیت نے ہماری جمعیت کو پریشان اور ہماری توانائیوں کو بے کار کردیا ہماری بے عملی نے یہ دن دکھایا کہ ہم اپنے دائیں بازو سے محروم ہوگئے آج ہم میں مسجد اقصیٰ کی بازیابی کےلئے کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں ہے آج امریکہ ہماری ارض مقدس میں چھپا بیٹھاہے ابھی ہم کشمیر کے زخموں سے چور تھے کہ ہمارے ملک میں دوبارہ بٹوارے کی شورش سر اٹھانے لگی ہے آج وحشت وبربریت، انسانیت سوز اورحیا سوز تہذیب نے ہمارا حال ”کوے“ کی مانند کردیاہے۔ ہماری وضع کردہ بودوباش،رنگ وروپ،چال چلن سب فرنگیانہ،اعمال باغیانہ، کردار کا فرانہ اور رسم ورواج ہندوانہ ہیں۔ آج ہمارے مذہب کی کتابیں الماریوں میں بند گرد کی دبیز تہ میں دب چکی ہیں۔آج لوگ قرآن کی بات تو کرتے ہیںمگر اس پر عمل نہیں، آج اقبال کے شاہین اور مومن کی تقاریریں بڑے جوش وجذبے سے بیان کرتے ہیں مگر کردار وگرفتار میں اس کو شامل نہیں کرتے۔
مگر کیا ہوا جو:
ثریا سے زمین پہ آسماں نے ہم کو دے مارا
اگر ہم آج دیکھیں تو ہم فولاد سے کم نہیں
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ِ ویراں سے
ذرا نم ہو تویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی
انسان کی درسگاہ اول”ماں کی گود“ توہے تا دم مرگ درس گاہ آخر کوئی نہیں۔ اس لیے سیکھنے سمجھنے اور سنبھلنے کا لامحدود وقت ہمارے سامنے ہے جس طرح ایک نکتے کی تبدیلی سے محرم سے مجرم بن جاتے ہیں اسی طرح سے زندگی کا ایک غلط فیصلہ انسان کو راستے کا پتھر بنادیتاہے آج من حیث القوم اگر ہم نے مجرم اور محرم میں فرق محسوس نہ کیا تو ضیاپاش مستقبل سے محروم ہوکر سیہ پوش راستوں میں گم ہوجائیںگے اورپھر سے نئی تاریخ نیا عہد لکھنے کےلئے ہمیں نودمیدہ کلیوں کی طرح سے پھوٹنا ہوگا پھر باغباں ڈھونڈیںگے چمن بنے گا آبیاری گلستان کےلئے پھر سے لہو بہے گا ایسے جگنو ظلمت کدوں سے نکالنے ہونگے جو چراغوں کو روشنی دکھائیںگے یا پھر مولانا روم کی طرح چراغ لے کر گلی کوچے چھاننے ہونگے سورج کی روشنی میں انسان ڈھونڈنے کےلئے مگر ایسا کیسے ہوگا۔ ہر چیز پر بالادستی ہونے کے باوجود بھی اگر ہم ایک بار مٹنا چاہتے ہیں تویاد رکھیں کہ ہم من حیث القوم کبھی زندہ نہ ہو پائیںگے۔