ملکی بقاءاور قومی معاشی کانفرنس

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام قومی معاشی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ اگر آئندہ برسوں میں پاکستان سالانہ آٹھ سے دس فیصد ترقی کے اہداف حاصل نہ کر سکا تو اس کی بقاءممکن نہیں ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی خودمختاری کا تحفظ ممکن نہیں جبکہ پاکستان کی معاشی صورتحال گذشتہ کئی سالوں سے زوال پذیر ہے۔ عام طور پر تمام معاملات حکومت پر ڈال دیئے جاتے ہیں مگر معاشی بحالی کےلئے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ دنیا بھر میں تمام معاشی انقلاب ٹیکسٹائل شعبہ کے مرہون منت رہے اس ضمن میں پیداواری مہارتوں کا حصول اور ویلیوایڈڈ کو فروغ دینا ہو گا۔
 ڈاکٹر سلمان شاہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دوراقتدار کے دوران وفاقی وزیر خزانہ رہے۔ ان کا شمار ملک کے معروف ماہرین معاشی و اقتصادیات میں ہوتا ہے مگر ہمارے ملک میں جس معاشی بحران کا وہ تذکرہ کر رہے ہیں اس کی سنگین اور بھیانک ابتدا بڑی حد تک اس دور میں شروع ہوئی تھی جب پرویز مشرف اور ان کے حواری عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے ملک کی معیشت کو مصنوعی زاویوں سے چلا رہے تھے اور اس وقت ملک کے وزیرخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ تھے۔ کون نہیں جانتا کہ اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپئن ثابت کرنے اورانسانی حقوق کی بحالی کے دعوے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کےلئے پرویز مشرف حکومت نے کیا کیا نہیں کیا اور اس کا مقصد صرف اور صرف عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے زیادہ سے زیادہ حصول کو یقینی بنانا تھا۔ اس وقت ملک میں کرپشن اور اقربا پروری کا شور ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کے وزراءکو علی بابا چالیس چوروں کا نام دیتے ہیں لیکن اسی ملک میں سابقہ حکومت یعنی پرویزمشرف کی حکومت کے حوالے سے ہی سیاسی حلقوں میں یہ بات عام رہی ہے کہ جتنی کرپشن پرویزمشرف دور میں کی گئی اس کی بدترین نظیر ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پرویزمشرف دور میںہونے والی یہ ساری کی ساری کرپشن عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کی صورت میں جو آج قوم کے بچے بچے پر سود کی صورت میں موجود ہے۔ اگر پاکستان اس وقت اپنے معاشی اہداف حاصل نہیں کر رہا۔ ملک میں بجلی کا بحران، گیس کا بحران روز بروز بڑھ رہا ہے۔ صنعتی، تجارتی اور زرعی سرگرمیاں تباہی کے آخری دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔
 ملک سے صنعتیں دیگر ممالک منتقل کی جا رہی ہیں۔ ملک بھرمیںلاکھوں افراد بیروزگاری کا شکار ہیں۔ سرکاری محکموں اور نجی شعبہ جات میں چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا بندوبست کرنے میں حکومت ناکام ہے اور نتیجہ میں خودکشیوں اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے کے علاوہ ملکی معیشت دیوالیہ پن کا کچھ اس انداز میں شکار ہو چکی ہے کہ اس کی بحالی کےلئے زرمبادلہ کے ذخائر بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور اندرون ملک بھی سرمایہ کاری نہیں کی جا رہی۔ سرمایہ داروں اور کاروباری طبقہ میںایسا خوف و ہراس ہے کہ وہ ایک پائی بھی سرمایہ کاری کےلئے صرف کرنے کو تیار نہیں تو اس کی ذمہ داری سابقہ اور موجودہ حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اٹھارہ فروری 2008ءکے بعدپیپلزپارٹی کی جب موجودہ حکومت معرض وجود میں آئی تو اس وقت بجلی اور گیس کے بحرانوں پر صنعتی، تجارتی حلقوں کے ساتھ عوام اور ورکرز کے شدید اور پرتشدد احتجاج پر وفاقی حکومت کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاکہ انہیں یہ بحران ورثے میں ملے ہیں اس میں شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کو تمام تر بحران ورثے میں ملے اور اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پرویزمشرف کی حکومت اور ان کے امپورٹڈ وزیراعظم شوکت عزیز جس مصنوعی انداز میں معیشت چلاتے رہے۔ پیپلزپارٹی کو معیشت انتہائی زبوں حال ملی۔ مگر مزید تلخ حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی اس ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے کچھ نہیںکیا۔ ملک میں توانائی کے بحرانوںکو حل کرنے کے لئے کوئی ایک منصوبہ بھی شروع نہیں کیا جبکہ بار بار مختلف منصوبہ جات کے بارے میں اعلانات اور دعوے کئے جاتے رہے۔ تھرکول کا منصوبہ ہی لے لیں، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمرمبارک مند انکشاف کر چکے ہیں کہ حکومت بجلی پیدا کرنے کےلئے اس ضمن میں فنڈز فراہم کرنے میںناکام رہی ہے۔ کالاباغ ڈیم کو پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت نے مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کا احمقانہ اعلان کر کے اس منصوبے کو مزید اور بلاوجہ متنازعہ بنانے کی سازش کی۔ بھاشا ڈیم سمیت کوئی بھی آبی ذخائر تعمیر کے مراحل میں داخل نہ ہو سکا۔ البتہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز کے حوالے سے گزشتہ چند ماہ قبل ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی سامنے آنے والی شرمناک رپورٹ نے حکومتوں کے دعو¶ںکی مکمل طور پر قلعی کھول کر سب کو مزید فکرمند کر دیا۔ گویا اس وقت ملک میں ایسے بدترین حالات ہیں کہ آئندہ ہماری معیشت کس راہ پر چل نکلے گی اور معیشت کا بکھرتا ہوا شیرازہ کس کس سمت مزید بکھرے گا اس بارے میں کچھ نہیںکہا جا سکتا۔ ڈاکٹر سلمان شاہ درست کہتے ہیں کہ اگر آئندہ آٹھ سے دس فیصد معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہ کئے گئے تو پاکستان کی بقاءمشکل ہو گی۔
یہ ملک اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اور وہ بھی آج تک اس کی حفاظت کرتا چلا آ رہا ہے آئندہ بھی انشاءاللہ کرے گا مگر زمینی حقائق کے مطابق ڈاکٹر سلمان شاہ کیونکہ ایک ماہراقتصادیات ہیں وہ درست بات کر رہے ہیں اسی طرح انہوں نے یہ بھی درست کہا ہے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی خودمختاری کا تحفظ ممکن نہیں۔ حکومت کو اس صورتحال سے نکلنے کےلئے خصوصی اقدامات کرنا ہوں گے۔