فیصلہ عوامی عدالت میں

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

جنرل اسد درانی نے ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ اپنا یہ بیان دہرایا ہے کہ کراچی کے تاجروں نے جمع کرکے رقوم فراہم کی تھیں جو انہوں نے اپنے ماتحت فوجی افسروں کے ذریعے پیپلز پارٹی کے مخالف سیاست دانوں میں تقسیم کی تھیں۔ بریگیڈئر حامد سعید اختر نے بھی بطور گواہ سپریم کورٹ میں اپنا تفصیلی تحریری بیان داخل کروایا تھا جس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاسی لیڈرز میں تقسیم کی گئی رقوم کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ یہ ساری تفصیلات اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کی شکل میں قوم کے سامنے آچکی ہیں۔ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کی طرف سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ اپنی پسند کے سیاست دانوں میں الیکشن پر اثرانداز ہونے کےلئے جو سرمایہ بانٹا گیا تھا۔ اس عمل کو دو فوجی جرنیلوں کا ذاتی فیصلہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ فریضہ فوجی کمانڈر نے بطور ادارہ کیا تھا جبکہ سپریم کورٹ کی یہ رائے ہے کہ قصوروار صرف جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی ہیں فوج نہیں۔ یا وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے یہ رقوم وصول کیں۔ میری کچھ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں سے براہ راست گفتگو بھی ہوئی ہے اور کچھ کے بیانات میں نے اخبارات میں بھی پڑھے ہیں۔ ان کا یہ موقف ہے کہ وہ حالات بھی دیکھنے چاہئیں جن سے مجبور ہو کر جنرل اسلم بیگ‘ جنرل اسد درانی اور ان کے ساتھیوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے سیاسی رہنما¶ں کو 1990ءکے الیکشن کے موقع پر سرمایہ (الیکشن فنڈ) فراہم کیا۔ بائیس سال پہلے 1990ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت اگست کے مہینے میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق نے توڑی تھی۔ ان کے اس اقدام کو اعلیٰ عدالتوں نے بھی آئینی طور پر درست قرار دیا تھا۔پیپلز پارٹی کا 1988ءسے 1990ءکا دور یقیناً اندھیر نگری چوپٹ راج کا دور تھا۔ ناانصافی اور لاقانونیت کی حکومت تھی۔ صرف حکمرانوں کی غفلت سے اندھا دھند لوٹ مار نہیں مچی ہوئی تھی بلکہ حکمران خود بھی لوٹ مار میں سب سے آگے تھے۔ جناب آصف زرداری کےلئے مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب اسی دور کی یادگار ہے۔ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں‘ سینٹ اور صدر پاکستان سے مستقل محاذ آرائی بھی اسی دور کا مستقل عنوان تھی۔ راجیو گاندھی (بھارتی وزیراعظم) نے اسی عہد حکومت میں اسلام آباد کی سرزمین پر بیٹھ کر ”کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ“ قرار دینے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے اندھیر نگری کے اس دور کا سب سے شرمناک واقعہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں جب سلمان رشدی کی شیطانی کتاب کے خلاف جلوس اور احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تو پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کرکے سات عاشقان رسول کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا اور اخبارات میں ملعون و مردود سلمان رشدی کا یہ بیان شائع ہوا کہ میرا ووٹ پاکستان میں ہوتا تو میں بے نظیر بھٹو کو دیتا۔ اس دور میں بے نظیر بھٹو کی واشنگٹن میں لابی کرنے والے مارک سیگل اور پی پی پی کی حمایت میں امریکی امداد بند کرانے کی دھمکی دینے والا کانگرس مین سٹیفن سولارز یہ دونوں یہودی تھے۔ سندھ میں نسلی فسادات میں صرف 6 ماہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1187 تھی اور زخمیوں کی اس سے بھی دوگنا زیادہ تھی۔ (بدقسمتی سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مشترکہ موجودہ دور حکومت میں بے گناہ مرنے والوں کی تعداد کی گنتی بھی ممکن نہیں۔) فوجی قیادت کو بے نظیر بھٹو کی حکومت سے سب سے زیادہ تحفظات پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تھے۔ فوجی قیادت کی یہ سوچ تھی کہ پی پی پی اپنے اقتدار کے تحفظ کےلئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے کچھ بھی سلوک کر سکتی ہے۔ حتیٰ کہ بے نظیر بھٹو اپنی کرسی پر کہوٹہ کو قربان بھی کر سکتی ہے اور کہوٹہ پروگرام کی پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے جو اہمیت اس دور میں تھی اور آج بھی ہے اس سے تو کوئی محب وطن پاکستانی انکار نہیں کر سکتا۔ کہوٹہ پر آنچ آنے کی بات ہو تو صرف فوج نہیں پوری قوم کہوٹہ کی حفاظت کےلئے اپنا سب کچھ قربان کر سکتی ہے کیوں کہ یہ کہوٹہ ہے جس نے پاکستان کے دفاع کو اللہ کے فضل سے ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ فوج ہی کے ایک سربراہ جنرل پرویز مشرف نے محض امریکہ کی خوشنودی کےلئے کہوٹہ کی آن اور شان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ انتہائی نامناسب اور ناپسندیدہ طرز عمل اختیار کیا۔ بہرحال بات ہو رہی تھی کہ کہوٹہ پروگرام کے حوالے سے کہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو جو خطرات لاحق تھے اس کے خلاف ردعمل کے طور پر جنرل اسلم بیگ وغیرہ نے اسلامی جمہوری اتحاد کو 1990ءکے انتخابات کے موقع پر الیکشن فنڈز فراہم کئے تھے۔ یہ بات بھی محل نظر اور لائق توجہ ہے کہ اس دور میں پیپلز پارٹی کی حمایت میں امریکی پارلیمنٹ کے رکن امریکہ میں یہ مہم کیوں چلا رہے تھے کہ اگر پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی حکومت نہیں بنتی تو پاکستان کی تمام فوجی اور اقتصادی امداد بند کر دی جائے۔ بھارتی وزیراعظم رجیو گاندھی جب پاکستان کے دورہ پر آیا تو اسلام آباد سے کشمیر ہا¶س کے بورڈ غائب کروا دئیے گئے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اگر بھارتی وزیراعظم کے خوف سے پاکستان کے حکمران پاکستان کے دارالحکومت سے کشمیر ہا¶س کے بورڈ اتار دیتے ہیں تو ان کی کشمیر جیسے حساس قومی مسئلہ پر کیا پالیسی ہو سکتی ہے۔ اس عمل کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
1988ءسے لیکر 1990ءکی پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف الزامات کی درج بالا طویل فہرست کے باوجود میں اپنا یہ سوال عوامی عدالت میں رکھنا چاہتا ہوں کہ کیا فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ یا اس دور کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی کو 1990ءکے الیکشن میں اسلامی جمہوری اتحاد کی کامیابی کے لئے اور پیپلز پارٹی کی ناکامی کے لئے الیکشن فنڈز کے طور پر سیاست دانوں میں سرمایہ تقسیم کرنا چاہئے تھا یا نہیں؟ کیا یہ فیصلہ عوام کے شعور پر نہیں چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ قومی غیرت کے تقاضوں کے مطابق جس جماعت کو چاہیں منتخب کر لیں اور جس کو چاہیں مسترد کر دیں۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ صدر غلام اسحاق خاں نے پیپلز پارٹی کے خلاف جب انتہائی سنگین الزامات عائد کرکے قومی اسمبلی کو توڑا تھا تو پھر 1993ءمیں دوبارہ قومی اسمبلی کو توڑ کر جناب آصف زرداری کو نگران حکومت میں وفاقی وزیر کیوں بنایا تھا اور پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں جنرل اسد درانی نے سفارت کی نوکری کیوں قبول کی تھی؟ جنرل اسد درانی نے عرصہ سفارت کے دوران جنرل بابر (وزیر داخلہ پیپلز پارٹی) کو آئی جے آئی کے سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی رقوم کی تفصیلات بھی فراہم کر دیں اور پھر نواز شریف کے دور حکومت میں ان کی طرف سے سعودی عرب میں سفارت کا عہدہ بھی حاصل کر لیا۔ اب یہی جنرل اسد درانی نئی شطرنج بچھا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں سے کسی بھی طرف جا سکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جنرل اسد درانی یا کسی اور فوجی جنرل نے یونیفارم میں ہوتے ہوئے وہ کردار ادا ہی کیوں کیا جس کے نقصانات 22 سال گزرنے کے بعد بھی سمیٹے نہیں جا رہے۔ میرے ایک انتہائی محب وطن اور قومی سیاست کا گہرا شعور رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی افسر کا یہ اصرار ہے کہ پیپلز پارٹی کے 1990ءوالے سیاہ ترین دور حکومت کے خلاف اگر جنرل اسلم بیگ جیسا کردار آئندہ بھی کسی فوجی سربراہ کو ادا کرنا پڑے تو وہ اس کی حمایت کریں لیکن شرط یہ ہے کہ جب معاملہ ملکی سالمیت کا ہو تو پھر ایسا کردار ادا کرنا چاہئے۔ تاہم میرا سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ خالصتاً قومی سلامتی کا ہو تو پھر فوج میں انفرادی طور پر کوئی فیصلہ کر لینا درست ہے یا فیصلہ سازی کے لئے کوئی اجتماعی فورم ہونا چاہئے۔ لیکن جب مخصوص فوجی جنرل خود ہی سنگین الزامات لگا کر دوبارہ انہی سیاست دانوں سے سفارت یا کسی اور صورت مراعات حاصل کر لیں گے یا جنرل اسد درانی اور جنرل اسلم بیگ کی طرح ایک دوسرے پر فیصلے کی ذمہ داریاں ڈالنا شروع کر دیں گے تو پھر الزامات درست ہونے کے باوجود بھی قوم کیسے اعتماد کرے گی؟