سپریم صرف اللہ ہے

کالم نگار  |  غیاث الدین جانباز

نہیں ، نہیں سینیٹر مشاہداللہ خان قرآن مجید اللہ کی تخلیق نہیں اللہ سبحانہ ُکا کلام ہے ، اللہ کا فرمان ہے اللہ کے احکامات و ہدایات پر مشتمل کتاب الٰہی ہے ، نجی ٹی وی پر بحث ہورہی تھی ،چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے بیانا ت پر ،مشاہداللہ خان کا کہنا تھا قرآن اللہ کی تخلیق ہے اس لیے خالق سپریم ہے ،اسی طرح آئین کی خالق پارلیمنٹ ہے اور سپریم پارلیمنٹ ہے ، آئین نہیں،مشاہد صاحب کھلے دل اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ جل شانہ ُ کو مان رہے تھے ،جس کا آئین بھی اقرار کرتا ہے ، جب آئین اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ کو تسلیم کرتا ہے تواس آئین کے تحت تخلیق پانے والی پارلیمنٹ اور حکومت اقتدار اعلیٰ کے مالک اللہ رب العالمین کے نمائندے ہوئے اور وہ پابند ہیں اپنے مالک کے احکامات پر عمل کریں ،اور آئین میں درج قرآن و سنت کی روشنی میں قوانین بنائیں اور حکومت کریں ،آئین بناتے وقت دس سال کے اندر قرآن و سنت کے مطابق قوانین بنانے کا عہد کیا گیا تھا ،کیا اس عہد پر عمل کیا گیا ؟ یقیناجواب نفی میں ہے ،قرآن میں اللہ نے سو د کو حرام قرا ر دیا ہے اور سود کے لین دین کو اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے ، آئین اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ کو قرار دیتا ہے اوراس آئین کے تحت وجود میں آنے والی پارلیمنٹ اور حکومت اقتدار کے اصل مالک کے خلاف 1973ءسے اب تک کھلی جنگ میں مصروف ہے ، اسی کھلی جنگ کا نتیجہ ہے کہ ملک میں ہر میدان سے برکت ختم ہو چکی ہے اور معیشت و معاشرت تباہ ہو چکی ہے ، امن و امان کہیں نظر نہیں آتا ہے اللہ رب العزت نے قرآن میں اپنے حبیب ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ آپ کی تشریف آوری اور رحمت للعالمین کی حیثیت دینے کے بعد اب وہ عذاب موقوف کر دیے گئے ہیں جو پہلے قومو ں پر نازل ہوتے رہے ہیں ،لیکن اپنی امت کو فرما دیجیے کہ میرے احکامات سے اگر سرتابی کی گئی تو معیشت تنگ کر دونگا اور امن و اما ن قائم رکھنا میری ذمہ داری نہیں ہو گی ،اللہ جل شانہ ُ کی مسلسل نافرمانی کے نتیجہ میں معیشت کس حال میں ہے اور امن و امان کی کیا حالت ہے ، حکمران فرعون بن گئے ہیں اور دولت پر قابض سرمایہ دار قارون بن چکے ہیں اور دین کے نام پر فرقہ پرست ہامان کا روپ دھار چکے ہیں ، اللہ کی رحمانیت کا دست رحمت اٹھتا جارہا ہے اور اللہ کی عطا کرد ہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو فرعونوں ، قارونوں اور ہامانوں نے چیستاں بنا دیا ہے ، اس بدترین صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ اللہ کی بارگاہ میں اجتماعی اور انفرادی توبہ ہے ، اللہ کے برگزیدہ بندے سجدہ ریز ہیں اور رب سے رحم اور رحمت کی بھیک مانگ رہے ہیں ، اللہ کے ایک بندے اور فقیر سید سرفراز احمد شاہ صاحب کا کہنا ہے پاکستان اللہ کا انعام ہے اور تاقیامت قائم رہے گا بلکہ دنیا میں اس کا اہم کردار ہو گا ا ور عالم اسلام کی رہنمائی کرے گا ، پروفیسر رفیق اختر اور بابا یحییٰ سے ملنے والے بھی ایسی ہی خوشخبری دے رہے ہیں اور میرے جیسے بے یقینوں کو اللہ کے پراسرار بندوں کی باتوں سے تسلی ملتی ہے ،جہاں تک ہماری حکمران اشرافیہ کا تعلق ہے انہیں صڑف اقتدار کی چاہت ہے اور اقتدار کے لیے دولت لوٹ رہے ہیں ، منظور وٹو بھڑکیں مار رہے ہیں اور فاتح پنجاب بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ، خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن فرعونیت اتنا غلبہ پاچکی ہے کہ اب اس کے غرق ہونے کا وقت آچکا ہے ، اللہ ہی جانتا ہے کہ اگلے تین چار ماہ میں کیا کچھ ہونے والا ہے ۔۔۔۔ اللہ کے سارے ہی پراسرار بندے بتارہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے کیونکہ اللہ کفر کی حکمرانی
 برداشت کر لیتا ہے لیکن ظلم کی حکمرانی برداشت نہیں کرتا ہے ،ظلم اب انتہا پر ہے ، اور فساد بڑھتا نظر آرہا ہے ، ہمیشہ فساد کے خاتمہ کے لیے اللہ حکمرانوں کو بدلتا ہے ،اب تبدیلی ناگزیر ہے ، دیکھنا یہ ہے یہ تبدیلی انتخابات کے ذریعے ہوتی ہے یا کسی اور طریقہ سے ہوگی ، اللہ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اٹھارہ کروڑ اہل پاکستان کو ایسے حکمران عطا فرما دے جو اس کے پسندیدہ ہوں۔