سازشیں، بھٹو خاندان کا نصیب

کالم نگار  |  خواجہ عبدالحکیم عامر

سلام پہنچے امام صحافت حضرت مجید نظامی کے جرا¿ت مندانہ اور صاف ستھرے اسلوب صحافت کو جس کی تقلید کرتے ہوئے ٹی وی چینل نے ماضی کے ایک معروف براڈ کاسٹر حمید اختر کو دل اور دماغ کا بوجھ ہلکا کرنے کا موقع دیا۔ حمید اختر تو ہلکے ہو گئے مگر م¶رخ کے لئے کافی مواد چھوڑ گئے ہیں۔ ابھی تو اصغر خان کیس کے فیصلے کی بازگشت کافی شدت کے ساتھ سنی جا رہی ہے کہ حمید اختر کے انکشافات نے مزید کئی بھیانک چہروں کے نقاب اتار پھینکے ہیں۔ کوئی مانے نہ مانے مگر یہ سچ ہے کہ بھٹو خاندان روز اول ہی سے سازشوں کا شکار رہا ہے اور یہ سازشیں بھٹو اور انکے خاندان کی بڑائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
میں نہیں مانتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ دار پر جھول جانا صرف ضیاءالحق کا کمال تھا ضیاءالحق کو طاقت عطا کی تھی ان طاقتوں نے جو بھٹو سے خوفزدہ تھیں۔ اگر یہ سازشی ٹولہ جو بعض جرنیلوں،بکاﺅ سیاستدانوں، چند دین فروش اور سیاسی ملاﺅں اور کچھ بے ضمیر قلمکاروں پر مشتمل تھا۔ ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے ہاتھ مضبوط نہ کرتا تو آمر اتنا بڑا فیصلہ نہ کر پاتا۔
کہتے ہیں برائی مستقل طور پر دبی نہیں رہ سکتی اور چلا پڑتی ہے۔ برائی، بدی اور گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کی زبانیں اعتراف گناہ کرنے لگی ہیں۔ لوگ اسے فطری امر بھی کہتے ہیں کہ گناہ اور برائی کو جس قدر دبانے کی کوشش کی جائے اسی شدت سے سامنے آتی ہے۔ جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ کا اعتراف ہی یہ ثابت کرنے کےلئے کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بڑی سازش کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ خون ناحق بولتا ہے رائیگاں نہیں جاتا۔ اللہ بھی تو ظالموں اور قاتلوں کو معاف نہیں کرتا۔ بھٹو کا ناحق قتل کرنے والے کئی تو نشان عبرت بن چکے اور کچھ انتظار کی لائن میں کھڑے ہیں۔ بھٹو ریفرنس کیس سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دکھایا ہے کہ 1990ءمیں بھٹو خاندان کو دوبارہ نشانہ ستم بنایا گیا۔ بھٹو کی بیٹی سے خوفزدہ عناصر ایک بار پھر اکٹھے ہوئے اور پیسے کے زور پراسے سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی اور دولت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ بے شمار سیاستدانوں کے ضمیروں کی بولی لگائی گئی آج قوم ان کا کردارجان چکی ہے یہ کن چہروں کے ساتھ عوام کا سامنا کریں گے آنے والے انتخابات میں نتیجہ سامنے آنا چاہئے دیکھنا یہ ہے کہ قوم ان مکروہ چہروں کو مسترد کر دیتی ہے یا ماتھے کا جھومر بناتی ہے۔ براڈ کاسٹر حمید اختر نے دل اور دماغ کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس نے بعضوں کے حکم پر بے نظیر بھٹو کے خلاف اشتہاری مہم چلائی تھی۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی پارٹی کو بدنام کرنے کےلئے اخلاقی و غیر اخلاقی الزامات کی بوچھاڑ کی۔ یہ انکشاف خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اسے دیگر طاقتور لوگوں کے علاوہ حسین حقانی کی بھی آشیر باد حاصل تھی اور حسین حقانی ہی کے تیار کردہ اشتہارات کو OK کیا جاتا تھا۔ حمید کہتا ہے کہ اسے اشتہار تیار کرنے کا معاوضہ بھی ملتا تھا۔
بھٹو خاندان کی بدقسمتی ر ہی کہ اسے غیروں نے تو نقصان پہنچایا ہی بے شمار اپنوں نے بھی ڈسنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یاد کیجئے کہ بھٹو کی پھانسی اوربے نظیر کی شہادت سے پہلے اور بعد کون کون سا دوست اور سجن کہاں کہاں کھڑا پایا گیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چند ہی ہاتھوں نے بیوہ اور یتیم بچوں کے آنسو پونچھنے کی جرا¿ت کی تھی اکثریت تو منظر سے غائب ہی ہو گئی تھی۔
لوگ کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کافی کلیئر تھی۔ پارٹی معاملات میں منافقت کم تھی۔ بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی قیادت نے ایسے ایسے لوگوں پر دروازے کھول دیئے جو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بھٹو کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ خفیہ اداروں کے بے شمار سپوت بھی بھٹو کی پارٹی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مصلحتوں نے ضرورتوں کا روپ دھار لیا۔آج بے نظیر کے قاتل تصور کئے جانے والے لوگ پارٹی کا جزو لاینفک بنے بیٹھے ہیں۔ ضیاءالحق کا منسٹر رہنے والا شخص PPP حکومت کا وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے۔ بے نظیر کے کردار کو اشتہاری مہم کے ذریعے پامال کرنے والا حسین حقانی آج پارٹی کی آنکھوں کا تارا بنا بیٹھا ہے۔ بھٹو کی پھانسی کا حکم لکھنے والے قلم کو خریدنے والا خاندانPPP حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔ پارٹی کے اصل جانثاروں کو بے وقعت کر دیا گیا ہے۔
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں
پاکستان زندہ باد.... پاکستان کھپے