اقبال کا تصور پاکستان اور قائداعظم ؒ

کالم نگار  |  سید روح الامین

پاکستان کے تشکیلی محرکات کیا تھے اور مذہبی، تہذیبی، ثقافتی اور اقتصادی عوامل کی کارفرمائیاں کیا تھیں؟ حصول پاکستان کی جدوجہد نے کیسی کیس قربانیاں طلب کیں۔ کن خونی حالات میں پاکستان معرض وجود میں آیا اورلاکھوں افراد کیسے آگ اور خون کا دریا عبور کر کے خوابوں کی سرزمین میں وارد ہوئے.... یہ سب اس زندہ تاریخ کے ابواب ہیں جس میں ہم سب کردار کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے اس ضمن میں تکرار اور اعادہ کی ضرورت نہیں لیکن اس امر کا تعین تو کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے؟ اگرچہ اس ضمن میں ان کی شاعری، متعدد تقاریر اور تحریروں سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے تاہم قائداعظمؒ کے نام قلمبند کئے گئے خطوط اس ضمن میں ان کی شاعری، متعدد تقاریر اور تحریروں سے بھی اس پر روشنی پڑی ہے تاہم قائداعظمؒ کے نام قلمبند کئے گئے خطوط اس ضمن میں اساسی حوالہ کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ مئی 1936ءسے نومبر1937ءکے درمیان قلم بند کئے گئے14 خطوط ان معنی میں یکطرفہ ہیں کہ قائداعظم کے جوابات مفقود ہیں تاہم مسلم لیگ اور پاکستان کے نقطہ¿ نظر سے ان میں خاصا اہم مواد ملتا ہے۔ یہی تمہیں بلکہ جداگانہ وطن کا تصور پیش کرنے کے بعد قلمبند کئے جانے کی وجہ سے ان خطوط کی سیاسی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ 1942ءمیں جب ان انگریزی خطوط کا مجموعہ مرتب ہوا تو اس کا دیباچہ قائداعظم نے تحریر کیا اسی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قائداعظم ان خطوط کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ قارئین کے لئے ذیل میں ان خطوط سے منہ بولتی سطریں بلاتبصرہ پیش ہیں۔
”ہندوستان کے اندر اور باہر کی دنیا پر اس امر کی وضاحت از حد ضروری ہے کہ اس ملک میں محض معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے نقطہ نظر سے تہذیبی مسئلہ ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں کےلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کم از کم اسے معاشی مسائل سے بلحاظ اہمیت کسی طرح سے بھی کم تر قرار نہیں دیا جا سکتا.... میں ہندوﺅں پر یہ حقیقت واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ان کی سیاسی چالیں خواہ وہ کتنی ہی لطیف کیوں نہ ہوں۔ ہند کے مسلمنوں کو اپنے تہذیبی تشخص سے باز نہیں رکھ سکتیں“۔ (20 مارچ 1937)
”اسلامی قوانین کے طویل اور محتاط مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر ان قوانین کو صحیح طور پر سمجھ کر بروئے کار لایا جائے تو کم از کم ہر شخص کی بنیادی احتیاجات پوری کرنے کی ضمانت دی جا سکتی ہے لیکن اسلامی شریعت کا نفا اور اس کی نشوونما ایک مسلم مملکت یا مملکتوں کے قیام کے بغیر ناممکن ہے۔ کئی برسوں سے میرا یہ ایماندارانہ عقیدہ رہا ہے اور اب بھی میں اسے درست جانتا ہوں کہ مسلمانوں کےلئے روٹی اور ہندوستان کےلئے امن و امان اسی طرح سے حاصل کیا جا سکتا ہے“۔ (28 مئی 1937)
”بالآخر مسلم لیگ کو اس امر کا فیصلہ کرتا ہو گا کہ اسے ہندوستان کے مسلمانوں کے بالائی طبقہ کے مفادات کی نمائندگی کرنی ہے یا مسلمانوں کی اکثریت کی، جنہوں نے بہتر وجوہات کی بنا پر اب تک اس میں کسی طرح کی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ ذاتی طور پر میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ سیاسی جماعت جو مسلم عوام کی بہبود کیلئے کوئی منصوبہ نہیں رکھتی وہ عوام کی کثیر تعداد کےلئے باعث کشش ثابت نہیں ہو سکتی۔ نئے آئین کے بموجب اعلیٰ عہدے بالائی طبقہ کے بیٹوں کو جاتے ہیں، نسبتاً کم بڑے عہدے وزیروں کے دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے مخصوص ہو جاتے ہیں دیگر معاملات میں بھی ہمارے سیاسی اداروں نے بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی بہبود کےلئے کبھی نہیں سوچا چنانچہ روٹی کا مسئلہ شدید سے شدید تر ہو تا جا رہا ہے.... اس لئے مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کیسے دور ہو؟ لہٰذا مسلم لیگ کے تمام مستقبل کا انحصار اس کارکردگی پر ہے جو اس مسئلہ کے حل کےلئے ہو گی۔ اگر مسلم لیگ اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کر سکتی تو مجھے یقین ہے کہ پہلے کی مانند اب بھی مسلمانوں کی اکثریت اس سے غیر متعلق رہے گی“۔ (28 مئی1937)
اس خط کی آخری سطریں علامہ کی جس سیاسی بصیرت کی مظہر ہیں اس کا عملی مظاہرہ مسلم لیگ گزشتہ 65 برس سے پیش کرتی آ رہی ہے۔ آج وہی مسلم لیگ الف سے ی تک لیگز میں بٹ چکی ہے سب کے ذاتی مفادات اور مقاصد ہیں جو مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے منسوب ہے اس کے قائدین میں بھی اصول، قانون، نظم و ضبط نام کی کوئی بات نظر نہیں آتی اور جس اقربا پروری ، بے انصافی اور معاشی عدم مساوات کی طرف علامہ اقبال نے توجہ دلائی تھی اس مسلم لیگ کا ٹریڈ مارک قرار پائی۔ جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں اور پیروں پر مشتمل مسلم لیگ نہ صرف یہ کہ ہر آمر کےلئے ریڈ کارپٹ میں تبدیل ہوتی رہی بلکہ اس نے عملاً تصور پاکستان کے مقاصد کی جس طرح سے نفی کی ہے وہ ہماری قومی تاریخ میں المیہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ن لیگ کو ہی لیجئے، نواز شریف اور شہباز شریف پاکستان کو قائد و اقبال کا پاکستان بنانے کے دعویدار ہیں؟ مگر پاکستان کی قومی زبان اردو جو کہ حضرت قائداعظمؒ کی مسلم لیگ کےلئے ”مقاصد و حصول پاکستان“ کا ایک اہم جزو تھا مگر ن لیگ اردو سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ اگر قائداعظم اور اقبال سے محبت و عقیدت کے دعوے ہیں تو من و عن ان کے ارشادات و تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہو گا صرف زبانی دعوے محبت کے بے سود ہوں گے پہلی سے انگریزی کا نفاذ، قومی زبان کی اہمیت سے انحراف، عربی مضمون کا تعلیمی نصاب سے خاتمہ، فارسی مضمون کا ہائی کلاسز سے اخراج، اسلامیات کی کتب سے جہاد کے بارے قرآنی آیات کو نکالنا کیا یہ پاکستان سے محبت کے عملی تقاضے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے بدترین اندیشے کیوں اس طرح درست ثابت ہوئے؟
مختصریہ کہ پاکستان مسلم لیگ نے بتایا تھا مگر آج اس کی بے بنیادی کی ذمہ دار بھی مسلم لیگ ہی قرار پاتی ہے اگر آج بھی تمام ”مسلم لیگز“ کے قائدین ”ذاتی“ مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو پاکستان کو قائدؒو اقبالؒ کے خوابوں کی عملی تعبیر بنایا جا سکتا ہے۔