’’علا مہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کا تصور پاکستان

’’علا مہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کا تصور پاکستان

گزشتہ روز مجھے ایوان صدر اسلام آ باد سے محترم احمد فاروق سیکرٹری صدرِ مملکت کی طرف سے ایک مراسلہ مو صول ہوا جس کے دوسرے دن جنا ب محمد طاہر حسن ڈائریکٹر P.R کا ٹیلی فون بھی آیا کہ یو م پاکستان کی تقریبات کے سلسلہ میں تحریک پاکستان کے چند سینئراور نامور کارکنوں کے ساتھ ایک خصو صی نشست منعقد کی جا رہی ہے جس میں تحریک آزادی کی و لو لہ انگیز یادوں کو تازہ کر نے کیساتھ ساتھ اہم قو می امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جناب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اس نشست میں آپ کی شر کت کے خواہش مند ہیں۔ یہ نشست 20مئی 2015کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہو گی۔ وطن عزیز کچھ عر صہ سے جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اُن کے پس منظر میں کسی بھی پاکستانی شہری کے لیے صدر مملکت کے ساتھ اہم قو می امور پر تبادلہ خیال کی دعوت ایک بہت بڑا اعزاز ہے اس کے لیے میں صدر مملکت کا دل کی گہرائی سے شکر گزار ہو ں اور میری چونکہ جنا ب ممنون حسین سے یہ پہلی ملا قات ہو گی اس لیے میں اُن مہر بان احباب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے خاکسار کا نام اس قو می سطح کی اہم خصو صی تقریب میں شامل کیا۔ سابق وزرائے اعظم جنا ب معین قریشی اور شہید بے نظیر بھٹو کا پریس سیکرٹری ہونے کے باعث وز یر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر ہر دو کے ان جگہوں پر پرانے سٹا ف ممبران ابھی تک مجھے عز ت و احترام سے یاد رکھتے ہیں ۔ جس کے لیے میں اُن کا بے حد مشکور ہوں۔ جناب ممنون حسین کی طرف سے دعوت نامہ دو خصو صیات کا حامل ہے اول تو یہ کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ہونے کے علاوہ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اور پاکستان چونکہ حالت ِ جنگ میں ہے اس لیے پاکستان کی انٹرنل اور ایکسٹرنل سکیورٹی کو جو چیلنجز در پیش ہیں اس دورانیہ میں حالیہ نازک دور میں جو فوج کے ایک سپاہی سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کے رینک تک اپنی جانوں کا بے مثال نذرانہ فوجی قیادت اور ہزاروں جوانوں نے دفاع وطن میں شجاعت کا جو بے مثال نمونہ پیش کیا ہے پوری قوم کے سر فخر سے سر بلند ہیںجس کے لیے افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پاکستان فو ج کے سینئرترین ریٹائرڈ سپاہیوں میں شامل ہونے کے باعث مجھے یہ فخر حا صل ہے کہ میری پلٹن 12پنجاب نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں Battle of Kohimaمیں دو وکٹوریہ کرا س حا صل کئے جس کی بناء پر راقم کو جنگ عظیم کے خاتمہ کے فوراً بعد جاپان میں جنرل ڈگلس مکارتھر کی کمانڈ میں جاپان کی قابض امریکی فو ج کے ساتھ 1945سے 1947تک فرائض ادا کر نے کا مو قع ملا اور میں نے اپنی آنکھوں سے ہیرو شیما اور ناگا ساکی دونوں شہروں پر ایٹم بم حملوں کے فوراً بعد وہاں پر برپا تباہی اور بر بادی کا مشاہدہ کیا ۔ پاکستان ائیر فورس کے ائیر مارشل نور خان اور پاک آرمی کے 10ڈویژن کے کمانڈر جنرل نذیر احمد خان جو1945میں بطور میجر جا پان میں میرے ساتھ تھے ۔ جبکہ میں ایک نو جوان کپتان کی حیثیت میں راقم جا پان کی ٹو ٹل تبا ہی اور پھر عظیم کا میا بی کے ساتھ ایک ورلڈ پاور بن کر ابھر نے کا ذاتی شاہد ہے۔ مجھ سے بہتر کون جانتا ہے کہ دنیا کی ہر فو ج مشکل ترین حالات میں اپنے سپریم کمانڈر کو اپنے درمیان پا کر اپنے مورال اور حوصلوں کی سر بلندی پر کس قدر فخر اور سر بلندی محسو س کر تی ہیں اور اس بنا ء پر یہ خاکسار ایک دیرینہ سپاہی کی حیثیت میں اپنے سپریم کمانڈر سے مل کر اُن کو حال ِ دل بیان کر نے میں ر ب العزت کا جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہو گا۔ چنانچہ موجودہ مشکل دور میں جناب ممنون حسین کا ایک دیرینہ بے لوث سچااور کھرا مسلم لیگی ورکرہونے کے نا طے صدر مملکت کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہونے کے بعد بانی قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق حکیم المت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جنہوں نے 1930 میںخطبہ الہٰ آ با د میں تصور پاکستان پیش کیا تھا ۔ اُس کی یاد دہانی کے لیے 20مئی 2015کو ایوان صدر میں ایک تاریخی نشست کا اہتمام کرنا صحرا میں بادنسیم کے جھونکوں سے کم نہیں ہے جس کے لیے یہ خاکسار جسے 1939سے لے کر 1948کے دس سالہ دورانیہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر مسٹر محمد علی جنا ح سے لے کر قائد اعظم اور گورنر جنرل محمد علی جناح کے عہدہ پر فائز ہو نے تک بانی قوم سے مختلف اوقات میں متعدد ملا قاتوں کا اعزاز حا صل ہے۔ اُن یادوں سے معطرلمحوں کو ایوان صدر میں بیٹھ کر پھر سے قائد اعظم کے تصور پاکستان کی تکمیل نہ کر سکنے پرشر مند گی کے آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ حالات کے جبرکے تحت اس امر پر غور کریں کہ دو قو می نظریہ پر غیر متزلزل عزم کے بغیر اور ایک جدید اسلامی جمہوری فلا حی ریاست کو و جود میں لا نے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے بغیر اہل وطن کے پاس کوئی اور Optionنہیں ہے۔چنانچہ راقم نے 20مئی کی ایوان صدر میں حا ضری سے قبل ہوم ورک کرنے کے لیے 12مئی2015پیر کے روز پاکستان نیشنل فورم کا ایک خصو صی اجلا س منعقد کیا ۔ جس میںاور لوگوں کے علاوہ چند خصوصی احباب جنہوں نے اپنے زندگی بھر کے تجر بات کی بناء پر اپنے قیمتی اور مخلصانہ مشوروں سے نوازا ۔ جن میں سے چند خصو صی احباب کے نامِ نامی درج ذیل ہیں۔
جنا ب ایس ایم ظفر صا حب، سید فخر امام، سیدہ عابدہ حسین ، سابقہ چیف جسٹس پاکستان شیخ ریاض احمد ، ایڈمرل یستور الحق ملک، سابق چیف آف نیول سٹاف، سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج ، جسٹس فقیر محمد کھوکھر ، میاں افضل حیا ت ، صدر مرکزیہ مجلس اقبال ، مسٹر شمشاد احمد ، سابق سیکرٹری خارجہ ، لیفٹیننٹ جنرل نصیر اختر، لیفٹیننٹ جنرل فاروق احمد، ائیر مارشل انور محمود خان ، ائیر مارشل امجد حسین ، خالد محمو د، سابق صو بائی محتسب ، مسعود حسن ، محترمہ آمنہ الفت، ممبر صو بائی اسمبلی، میجر جنرل خواجہ راحت لطیف، اے ۔یو ۔ سلیم ، ممتا ز صنعت کار مسٹر جمیل اے ناز ، سید علی ہارون ، میاں حبیب اللہ ، ایڈیٹر روزنامہ دن شامل ہیں ۔
ان خواتین و حضرات کی سفارشات انشاء اللہ 20مئی کو جناب صدر مملکت کی خد مت میں تحریر ی طور پر پیش کر دی جائیں گی۔