’’ بلوچستان میں بے روزگاری ‘‘

’’ بلوچستان میں بے روزگاری ‘‘

ہر محب وطن کی طرح مجھے بھی اپنے ملک سے بے انتہا محبت ہے لیکن صوبہ بلوچستان سے مجھ کوخاص لگائو ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنی ملازمت کے دوران تقریبا 9سال کا عرصہ وہاں گزارا ۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا یہ صوبہ اپنی تمام تر خوبصورتی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود سب سے زیادہ محرومی اور حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔ اور یہاں پر بسنے والے لوگ آزادی کے بعدسے اب تک سکھ اور چین سے محروم ہیں۔ اپنے پچھلے مضمون میں میں نے وہاں پر تعلیم کے حوالے سے چند اہم مسائل کا تذکرہ کیا تھا۔تعلیم کی طرح صوبے میں روزگار کے مواقع بھی بے حد محددو ہیں۔ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ 12اپریل کو بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے جب نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے تمام اضلاع میں اساتذہ کی بھرتی کا آغاز کیا تو صرف 4200آسامیوں کے لیے تقریباً 100,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس ضمن میں خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام آسامیاں BPS-14اور اس سے کم تر درجے کی تھیں۔ بلوچستان کے قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ہر سال بلوچستان میں تقریباً25000بچے گریجویٹ کرتے ہیں اور ان میں سے صرف 2000ہی نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہر دوسرے گھر میں ایک بے روزگار گریجویٹ موجود ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں موجود اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کی موجودگی سے بھی صوبے میں کوئی خاطر خواہ اور مثبت سماجی یا معاشی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اُن کے لیے روزگار ناپید ہے۔ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جہاں پر لوگوں کی گزر بسر زراعت اور نجی یا سرکاری نوکریوں پر ہے۔ صوبے میں پانی کی قلت کے باعث زراعت کا شعبہ جو کہ صوبے کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے بُری طرح متاثر ہو ا ہے۔اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے نیزبے روزگاری کی وجہ سے حالات مزیدگھمبیر ہو گئے ہیں۔2014میں
CLUSTERED DEPRIVATION SUSTAINABLE DEVELOPEMENT POLICY INSTITIUTE
کے عنوان سے اس ادارے کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 52فی صد افراد غربت کی سطح سے نیچے پست زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ باالفاظ دیگر بلوچستان کی تقریباً آدھی آبادی یو میہ 1.25ڈالر بھی نہیں کما سکتی۔ اس صوبے کے 63فی صد افراد خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ اس کا انکشاف 2011ء میں NATIONAL NUTRITION SURVEY کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ اس کی سب سے اہم اور بہت بڑی وجہ صوبے میں بے روزگاری ہے کیونکہ اس صوبے میں رہنے والے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں اور اس طرح یہاں کے لوگ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ روزگار کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی حکومت کا رویہ بھی قابل مذمت ہے ۔ کیونکہ اس وقت صوبے کے کوٹے کی 3000آسامیاں خالی پڑی ہیں جن پر 2013 میں اُس وقت کے وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو نے بھرتی کا آغاز کیا مگر پی ایم ایل (ن) نے حکومت بنانے کے بعد اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس مسئلے کا ایک اہم پہلویہ ہے کہ بے روزگاری کو حکومت کی طرف سے مہیا کی گئی نوکریوں کی سہولیات سے حل نہیں کیا جا سکتا اور روزگارکی قلت کو کم کرنے کے لیے نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے بلوچستان میں صرف چنداں صنعتی یونٹ موجود ہیں۔اور اُن میں بھی کام کرنیوالے افراد کا تعلق زیادہ تر دوسرے صوبوں سے ہے۔ بلوچستان میں تین مقامات : کوئٹہ، ہرنائی اور لسبیلا میں ٹیکسٹائل کے کارخانے قائم تھے۔ ان تینوں کو مشرف کے دور میں بند کر دیا گیا۔اور بلوچ دشمنی کا ثبوت دیا گیا۔ صوبہ میں پسماندگی کی بڑی وجہ معدنی مقامات اور دوسرے اہم معاملات میں بلوچ قبائل کی اجارہ داری بھی ہے۔
جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے تو اس نے بھی فراہمی روزگار کے لیے قطعاً کوئی حکمت عملی تشکیل نہیں دی ہے۔ وہ ہرسال چند سرکاری نوکریوں کی فراہمی کے بعد اپنے آپ کو اس اہم فریضے سے بری ذمہ سمجھتی ہے۔ جب کہ صوبے کو کروڑوں روپے وفاق کی طرف سے ملتے ہیں لیکن بے روزگاری کے خاتمے کے سدباب کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ اور یہ رقم سیاست دانوں اور افسر شاہی کی جیبوں میں جاتی ہے۔
بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس ایک ہی جواب ہے کہ PAK CHINA ECONOMIC CORRIDOR بلوچستان میں رہنے والوں کی قسمت بدل دے گا۔ اس حوالے سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ اس CORRIDORکے راستے کے بارے وفاق کی طرف بہت سے خدشات پیدا کر دئیے گئے اور اس میں ترمیم کی جارہی ہے۔ لیکن اگر اس کے راستے میں ترمیم نہ بھی کی جائے تو یہ صوبے کے ایک محدود حصے سے گزرے گا اور اس سے بہت زیادہ امیدیں قائم کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترداف ہے ۔ نیز اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ پاک چائنہ کا ریڈور کے فوائد بلوچ عوام تک پہنچ بھی پائیں گے ۔کیونکہ ماضی میں سینڈک میں ملنے والے تابنے اور سونے کے ذخائر ، ریکوڈک پروجیکٹ اور گوادر پورٹ سے حاصل ہونے والے فوائد میں بلوچ عوام کو مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ چنانچہ پاک چین کا ریڈور بلوچستان میں بے روزگاری کا علاج نہیں ہے۔
قارئین! سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کے بے روزگاری کے اہم مسئلے کا کیا حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومت واقعی اپنے یہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مخلص ہے تو وہ اس سلسلے میں بہت کچھ کر سکتی ہے۔ مالی سال 2014-15کے لیے صوبے کو ملنے والے بجٹ کی رقم غیر ترقی یافتہ کاموں پر ضائع کی جارہی ہے۔اگر اس پیسے سے صوبے کے پر اُمن اضلاع میں چھوٹے پیمانے پر صنعتی یونٹ لگانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مثلاً صنعتیں لگانے کے لیے رعائتی نرخوں پر زمینیں مہیا کی جائیں اور اس کو بلوچ عوام کو روزگار مہیا کرنے سے مشروط رکھا جائے تو یہ ایک قابل عمل تجویز ہے۔ جس سے بے روزگاری کم کرنے میں بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔ مگر یہ اُسی صور ت میں ممکن ہے جب حکومت کو عوام کی بہبود اور فلاح کا احساس ہو جو کہ قطعا ناپید ہے۔ نیز صوبے میں ایسا نصاب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نافذ کرنا ناگزیر ہے کہ جس کی وجہ سے معدنی پیداوار کے اضلاع میں افرادی قوت مہیا کرنے میں مدد ملے۔ اور ایسی تربیت یافتہ افرادی قوت کی مدد سے ہم نہ صرف صوبہ بھر کے زر مبادلہ میں بلکہ ملکی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ صورت حال بے روزگاری کو ختم کرنے کا معیاری ذریعہ بھی ہے۔
اس وقت صوبے میں قائم سماجی اور سیاسی کلچر نے وہاں پرروسا کی ایک نئی جماعت کو جنم دیا ہے جو سیاست دانوں ، افسر شاہی، بڑے بڑے کاروبار سے وابستہ افراد اور مختلف قبیلوں کے سرداروں پر مشتمل ہے۔ یہ چند افراد غریب عوام کا استحصال کر کے عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور وہ کسی صورت میں صوبے میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ اُس صورت میں صوبے پر اُن کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کا استحصالی نظام زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتا اور آخرکار مظلوم عوام اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔