کہیں اجڑی گود ……

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک
کہیں اجڑی گود ……

ماں کی گود میں بہت سکون ملتاہے اور پناہ بھی ۔ ماں ہی کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتاہے ۔ ماںپرندے کی ہو یا جانور کی یا انسان کی سب اپنے بچوں کو پروں میں اور بازئوں میں سمیٹ لیتی ہے ۔ دنیا میں ہر جاندار کو اس کی ماں ہی first flight سکھاتی ہے ۔ بچے مائوں سے ضدیں کرتے ، لڑتے اور پھر اس کی گود میں چھپ جاتے ہیں۔ وطن کی دھرتی کو بھی ماں کی گود سے تشبیہ دی جاتی ہے ،اس لئے کہ اس میں پناہ بھی ملتی ہے اور سکون بھی ۔ پاکستان کی دھرتی کے سینے پر بہت بوجھ ہے، اپنے ہی بچوں کو کھانے کا ۔ 16دسمبر2014کو پشاور سکول کا معصوم خون سے بھرا و اقعہ جس میں 132بچے اس دہشت گردی کا نشانہ بنے جس کی وجہ داخلی اور خارجی پالیسیوں میں نا اہلی اور نا عاقبت اندیشی سے کام لینے والے حکمران ہیں جو کبھی فوج کی وردی میں اور کبھی سیاسی لبادے میں ملک پر مطلق العنان کی طرح مسلط ہو جاتے ہیں ، اور وہ دہشت گردی جسے شروع کر نے کا باعث تو یہ حکمران ہیں لیکن اسے ختم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ پاکستان صم ُ بکم ُ حالت میں ہے جس کا ذکر قران پاک کی سورۃ بقر میں ہے کہ ان کو اندھا ، بہرہ اور گونگا کر دیا جاتا ہے ۔ ورنہ مائوں کے عالمی دن میں پشاور آرمی سکول کی مائوں کے زخموں پر کوئی تو مرہم رکھتا ۔ حذیفہ آفتاب کی والدہ جو اسی سکول میں ٹیچر تھی اور جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹے اور بہت سے بچوں کو بے رحم موت کے منہ میں جاتے دیکھا ، مائوں کے عالمی دن وہ اپنا کلیجہ خود ہی تھامے بیٹھی ہے، جب مدرز ڈے کے پھول لانے والا ، اپنے ہاتھوں سے اس دن ناشتہ بنا کے کھلانے والا ایک خون میں لت پت تصویر کی صورت دیوار پر لٹکا ہوا ہے ۔ مبین شاہ کی والدہ کی آنکھوں میں آنے والے آنسوئوں کی تصویر کسی اخبار ، کسی ٹی وی شو یا کسی سیاست دان کے ایجنڈا میں نظر نہیں آئی ۔ ان آنسوئوں کو پونچھنے کے لئے مدر ز ڈے پر کیا پالیسی بنی ؟ ۔۔لیکن مبین شاہ کی ماں نے بتا یا تھا کہ اس کے بیٹے کا چہرہ قابل ِ شناخت نہیں تھا ۔ اس کی انگلی جو ایک دن پہلے ہی زخمی ہوئی تھی اس پر لگی بینڈیج سے ماں نے پہچانا تھا کہ یہ اس کا مبین ہے ۔ اور جب انگلی پر چوٹ لگی تھی تو ماں کا دل رات بھر اس انگلی سے نکلنے والے خون کی وجہ سے تڑپتا رہا تھا ۔ اور جب صبح خون میں پورا ڈوبا نا قابل ِ شناخت جسم شناخت کی خاطر لایا گیا تو وہی انگلی باعثِ شناخت بن گئی تھی ۔ مگر مبین کی ماں کی شناخت اس کے بیٹے کے ساتھ دفن ہوگئی ہے ۔حسنین اور عبد اللہ کی ماں جس نے اس سانحے میں اپنے دونوں جگر کے ٹکرے گنوا دئے مدرز ڈے پر ان لبوں کو تلاش کر رہی ہے جو سکول جانے سے پہلے اسے چومتے تھے ۔ ان کے بوسوں کی غیر موجودگی میں مدر ز ڈے پر ماں کے چہرے پر صدیوں کا صحرا اُگ آیا ہے۔ ایک اور ننھے شہید احمد محفوظ کی ماں نے بتایا تھا جب وہ موت کی صبح قران پاک کی تلاوت کررہا تھا اور"میںنے اسے کہا بھاگ کے ڈبل روٹی اور دودھ پکڑ لائو تو اس نے کہا امی جب میں قران پاک کی تلاوت کر رہا ہوں تو مجھے ڈسٹرب نہ کیا کرئو"۔ وہ اس مدرز ڈے پر پوچھتی ہے اس اسلامی ملک میں اسلام کے نام پر مارنے والے میرے قران پاک کی تلاوت کرنے والے چمکتے ستارے کو کس جرم میں مار گئے ؟ اس معاشرے کی الجھی گھتیاں سلجھانے والے اور تضادات کو مٹانے والے اپنے فرائض پورے کیوں نہیں کر رہے ؟ میرے بیٹے کی تلاوت کرتی آوا ز میرے کانوں میں گونج رہی ہے اور اس کے ساتھ اسلام کا نعرہ لگا کر اسی کے سینے میں گولیاں اتارتے جانور دن رات کسی بھوت کی طرح پیچھا کرتے ہیں ۔ ان بھوتوں سے مائوں کا کون پیچھا چھڑوائے گا ؟سب بچے مدرز ڈے پر اپنی مائوں کو پھول دے رہے ہیں ۔ آرمی سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی اور دہشت گردوں کے اندھے انتقام کا نشانہ بننے والی دوسری ٹیچرز کے بچوں کی آنکھوں میں سوالیہ نشان ہے کہ ہم جو آج مائوں کو پھول اور تحفے دینے کی بجائے ان کی خاموش قبروںپر پھول سجانے اور سسکنے پر مجبور ہیں تو کیا آج کے دن کسی ایوان ِ اقتدار میں ہماری سسکیوں کی آوا ز پہنچ رہی ہے ۔ ؟یا حکومت ِ پاکستان کے دل پر مہر لگ چکی ہے ؟ طاہرہ قاضی ایک ماں تھی ، اس کے سامنے اس کے سکول کے بچوں کو خون میں نہلایا جا رہا تھا ، وہ بچوں کی مائوں کو فون کر کر کے کہہ رہی تھی کہ آکر اپنے بچے لے جائو ، اور اپنی بیٹی ایک آخری بات کرنے کو ترستی رہی ، ماں کا نمبر مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں ملا ۔ماں کی گود اپنے اندر سارے دکھ اور خوف کے سارے بھوت چھپا لیتی ہے ،اس دن بچوں کا یہ مان بھی ٹوٹ گیا ،بچے چن چن کے مار دئے گئے اور آج ان مائوں کا پرسان حال کوئی نہیں ہے ۔کیا مدرز ڈے پر حکومت ِ وقت نے سوچا کہ بچوں کا مائوں سے یہ کھویا ہوا اعتماد کیسے واپس دلایا جائے ؟ اور مائوں کی گودوں کو اجڑنے سے کیسے بچا یا جائے ؟میڈیا ،اپوزیشن اور حکومت سب نے اس سنسنی خیز ی کا مزہ لیا ،اجڑی گودوں والی مائوں کا آج "مدر ز ڈے "پر کیا حال ہے کسی نے نہیں پوچھا۔اعتزا ز حسن ہنگو کا نوجوان شہید جس نے اپنے سکول کے 2000 بچوں کی مائوں کو اس عذاب سے بچا لیا ۔او ر جس کی ماں نے کہا تھا اعتزاز حسن میری گود تو خالی کر گیا لیکن سینکڑوں مائوں کو اس درد سے بچا گیا ۔ اور ہنگو کی رہنے والی اس عورت کی تربیت کو سلام جس نے اپنے بچے کو آج کے مادی دور میں جہاں بہادری اور سادگی کوبے وقوفی ، منافقت اور ریا کاری کوکامیابی کی کُنجی اور پیٹھ پیچھے دوستوں کو چھری مارنے کو منزل تک پہنچنے کی سیڑھیاں سمجھا جاتا ہو ،وہاں ہنگو کی اس ماں نے اپنے بچے کو قربانی کا سبق کیسے دیا ہو گا ، دوستی کی خاطر جان دینے کا طریقہ کیسے سکھایا ہو گا ؟ اعتزاز کے کزن نے بتایا کہ جب پتہ چل گیا کہ یہ خود کش بمبار ہے اور ہمارے سکول کے بچوں کی موت بن کر جا رہا ہے تو ہم نے اعتزا کو روکنے کی کوشش کی جو اس سے بھڑنے جا رہا تھا اور اس نے پر عزم انداز میں کہا "میں اسے کیسے جانے دوں یہ میرے دوستوں کو مار دے گا "۔ مدرز ڈے کا کمرشل مقصد جو بھی ہے ، ایک روایت پڑ گئی ہے مائوں کو بچے مختلف طریقوںسے سلام پیش کرتے ہیں۔
اعتزاز نے دوستوں کی خاطر جان دینے کا ، وطن سے محبت کا اور بہادری کا جو سبق ماں کی گود سے لیا تھا ، کیا آج وہ اجڑی گود لئے مدرز ڈے پر اپنے بیٹے کے لمس کو ، اس کے بوسوں کو ، اس کی طرف سے آنے والے پھولوں کو یاد کرتے ہوئے ، دنیا سے اور حکومت سے کوئی سوال پوچھنا چاہتی ہوگی ؟ مدرز ڈے پر کیا وہ باقی کی مائوں کو یہ نصیحت نہ کر رہی ہوگی ؟کہ بچوں کو کسی کی خاطر جان نہ دینے ، بزدلی اور منافقت کا سبق دے کر گود سے اتاریں ، اپنی اپنی گود کی حفاظت خود کریں کہ ہماری حفاظت کرنے کا حلف اٹھانے والے ناخلف ہیں ۔ اس لئے بچوں کو اپنی خاطر سنبھال کے رکھنا ہر ماں کی اپنی اپنی گود کا فرض ہے کیونکہ اس کے اجڑنے کا کرب زنگ آلود دلوں پر کوئی اثر نہیں کرتا۔ ان کی تربیت یوں کی جائے کہ بس ہمارے گلے میں ننھے ننھے ہاتھ ڈالنے والے سرد خانوں میں نہ جا پڑیں ،ہمارے ماتھے چومنے والے ہمیں شناخت کے بعد دفنانے کو نہ سونپ دئے جائیں اور ان کی گالوں پر بوسہ دینے والے ہمارے لب خشک نہ ہو جائیں ۔۔ اور وہ صرف خبروں کی زینت بن کر یا ایک امدادی کاروائی بن کر نہ رہ جائیں ۔۔۔ ہر دن اور مائوں کے خاص دن پر کوئی پاس آکر ماں کہہ دے اور منہ چوم لے ۔ اپنی اپنی گود بچانے کے لئے شائدمائوں کو گود کی تربیت بدلنے پڑے گی ، کیونکہ ان کی اجڑی گودیں دیکھ کر بھی بااختیار لوگوں کو کچھ بدلنے کا خیال نہیں آیا ۔