پاکستان دُشمنی… …ہندوستان کے فکرو عمل کا محور

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
پاکستان دُشمنی… …ہندوستان کے فکرو عمل کا محور

پاکستان اور ہندوستان کو دو آزاد ملک بنے اب 68 سال ہونے کو ہیں مگر اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہندوستان نے آج تک دل سے ہمارے وجود کو قبول نہیں کیا۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دونوں ممالک کا کوئی موازنہ نہیں مگر اس کے باوجود ہندوستان محاذ آرائی کی ایک نہ ختم ہونے والی پالیسی پر گامزن ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آزادی کے وقت آبی وسائل اور بعض علاقائی تنازعات کے علاوہ کشمیر ایک بڑا حل طلب مسئلہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ کچھ تنازعات پر تصفیہ بھی ہو گیا جن میں پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے مگر بعض علاقائی تنازعات آج بھی حل طلب ہیں۔ کشمیر دونوں ممالک کے مابین کشیدگی اور تنازعے کی بُنیادی وجہ ہے۔ یہ مسئلہ آج بھی اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور بھارت کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے سے مسلسل انحراف کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ میں یہ مسئلہ بھی ہندوستان خود ہی لے کر گیا تھا۔ دونوں ممالک کے مابین اس مسئلہ پر چار جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں مگر نتیجہ کچھ نہ نکل سکا جس کی بُنیادی وجہ ہندوستان کا غیر حقیقت پسندانہ اور محاذ آرائی پر مبنی رویہ ہے۔ ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے سے بھارت خطے میں اجارہ داری کا خواہش مند ہے۔ اُسکے ان عزائم کی راہ میں سب سے بڑی اور واحد رکاوٹ پاکستان ہے کیونکہ جنوب مشرقی ایشیاکے باقی ممالک کسی نہ کسی طور سے ہندوستان کے مرہونِ منت ہیں۔ اپنے قیام سے لیکر آج تک ہندوستان نے پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ پراکسی جنگ شروع کر رکھی ہے۔چاہے مشرقی پاکستان کا المیہ ہو یا سندھ اور بلوچستان میں ملک دُشمن عناصر کی پشت پناہی ہندوستان نے ہمیں نقصان پہنچانے کیلئے کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ آج بھی ہندوستان کی بدنام زمانہ خُفیہ ایجنسی را اس سلسلے میں بھرپور طریقے سے سر گرمِ عمل ہے۔ ہندوستان کی حکومت،اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا ہر وقت پاکستان کے خلاف سر گرم عمل ہے۔ ہم گذشتہ 13 سال سے زیادہ عرصہ سے بد ترین دہشت گردی کا شکار ہیں اور اس میں بھی ہندوستان کا بھرپور ہاتھ شامل ہے۔ اس ساری صورتِ حال کے بر عکس پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی پر مبنی دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب صبر اور تحمل سے دیا مگر اسکا کبھی بھی مثبت جواب نہیں ملا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین برابری کی سطح پر اچھے تعلقات پر زور دیا ہے مگر چونکہ ہندوستان خطے میں اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے لہذا اُسے یہ کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان کی افواج بھارت کے ان مکروہ عزائم کی راہ میں بُنیادی رکاوٹ ہیں اور باوجود اسکے کہ ہماری فوج دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی اور طویل جنگ لڑ رہی ہے ہندوستان اس سے ہر وقت خائف رہتا ہے۔ پاکستانی فوج ہندوستانیوں کے اعصاب پر سوار ہے اور ہندوستان ہر وقت ہماری بہادر اور ناقابلِ تسخیر افواج کے خلاف زہر آلود پراپیگنڈہ میں مصروفِ عمل رہتا ہے۔ حال ہی پاکستان اور چین کے مابین وسیع تر اقتصادی تعاون کے 51 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جس پر ہندوستان میں ایک صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ہندوستانی میڈیا اور خُفیہ ادارے اس بات کا برملا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ایک اور کالاباغ ڈیم بنا دیں گے۔ یاد رہے کہ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو متنازعہ بنانے میں بھی ہندوستان کا اہم کردار ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے خلاف بھی بھارت کی مہم کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں۔ بلوچستان میں جاری شورش کو ہوا دینے میں بھی بھارت اور اُسکی خفیہ ایجنسی را کا بُنیادی کردار ہے جسکا اظہار اُسکے ذمہ داران خود بھی کرتے رہتے ہیں۔ غرضیکہ ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو ہندوستان کو اُسکی ترقی کسی صورت بھی گوارا نہیں۔ اس ساری صورت حال میں ہمیں بھی اپنی سوچ اور حکمتِ عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھارت کے ان مکروہ عزائم کی تکمیل میں جو لوگ استعمال ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں وہ تو پاکستانی ہی ہیںناں چاہے وہ پیسے کی خاطر بکے ہوں یا پھر اپنے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر۔ ہندوستان نے ہماری امن اور دوستی کی خواہش کو ہمیشہ ایک کمزوری سمجھا ہے۔ موجودہ بھارتی حکومت کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد اس سوچ اور حکمت عملی کو زیادہ شدو مد کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بھارت دُنیا جہاں میں ہمارے خلاف سر گرمِ عمل ہے۔ اُسے علم ہے کہ جب تک ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان موجود ہے وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ امن کی آشا کے داعیوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے وطن سے وفاداری نبھانی چاہیے۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہندوستان ہمارا ازلی دُشمن تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ اس سے کسی بھلائی کی اُمید رکھناایک خام خیالی ہی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا غیر مستحکم ہونا ہی ہندوستان کے حق میں ہے لہذا وہ ہمارے ہاں غیر یقینی اور عدم استحکام کو ترویج دینے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ہندوستان کی اس پاکستان دُشمنی پر مبنی سوچ اور فکر کو سمجھیں اور اپنے اتحاد و یگانگت سے اسے شکست دیں۔ اس سلسلے میں حکومت،فوج اور میڈیا کا یکجا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنی فوج پر بجا طور پر فخر ہے کہ وہ ان مکروہ بھارتی عزائم کی راہ میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے مگر فوج کو حکومت اور قوم کی بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجموعی حکومتی حکمتِ عملی ،قوم کی سوچ اور جذبات کی بھرپور عکاس ہونی چاہیے لہذا ہماری فوجی سوچ اور حکمتِ عملی بھی ان تمام در پیش خطرات کو مدِ نظر رکھ کر ہی مرتب دینی چاہیے۔ ہم کُچھ بھی کر لیں ہندوستان ہمارے متعلق اپنی سوچ تبدیل کرنے والا نہیں۔ وہاں تو انتخابات بھی پاکستان دُشمنی کی بُنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اتحاد رکھیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے عزم کا اظہار کر دیں۔ گذشتہ روز کراچی میں ہونے والا دہشت گردی کا اندوہناک واقع بھی ہمارے دشمنوں کی کارروائی ہے جس میں ہندوستان ہمیشہ پیش پیش رہتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہماری اقتصادی ترقی اور اس سلسلے میں پاک چین اقتصادی راہداری جیسے منصوبے ہمارے دُشمنوں کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور وہ اسے سبوتاژکرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ ہمارا عزم،اتحاد اور ولولہ ہی دُشمن کو شکست فاش دے سکتا ہے۔