ظلم پھر ظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
ظلم پھر ظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

بدنیتی اور بدسلوکی کے برے اور گھٹیا رویوں نے پورے ملک کی مشینری کو معطل کرکے رکھ دیا ہے۔ جھوٹ اور سازش حکومت گری کے آسان اصول ہیں۔ ہم لوگ اندھروں کی طرح بگٹٹ بھاگے جا رہے ہیں‘ اپنی منزل نصیب ہو یا نہ ہو‘ دوسروں کو دھکا دینا اور پھر مجبور و مظلوم ہی کو الزام ضعیفی دیکر اسے مجرم و مقہور دینا ہی ہماری کامیابی کا راز نظرآتا ہے۔ چوروں کو گود میں بٹھا کر روزانہ تازہ چوریوں کا واویلا کرنا ہی ہماری گڈ گورننس کا ایک طریق کار ہے۔ ظلم کے تھڑے پر کھڑے ہوکر اپنی مظلومیت کو دہائی دینا بھی ہمارا پرانا کامیاب وطیرہ ہے۔ ظالموں کی دستگیری اور مکرو فریب کاری کو آشیرباد دینے ہی سے ہمارے اقتدار مضبوط ہوتے ہیں۔ عوام جتنے زیادہ مجبور ہوتے ہیں‘ ہمارے اقتدار کی زنجیروں کی کڑیاں اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ بدامنی پھیلنے سے ہماری قوت کی طلب بھی بڑھے گی‘ ہم اپنی قوت کو مزید فرعونیت کا لبادہ اوڑھانے کیلئے بے ضمیر اور شعور سے عاری لوگوں کو بُری نیتوں سمیت استعمال کرتے ہیں۔ فرقہ پرستی سے منفی نتائج حاصل کرکے نحوست کے نئے بادل بے سہارا لوگوں پر برسانے کا اہتمام بھی یہی لوگ کرتے ہیں جن کا مستقل منشور اپنی بے برکت اولاد کو مسلمانوں پر مسلط کرنا ہوتا ہے۔ قومی خزانہ لوٹ کر اپنے بیرونی بینکوں کی تجوریاں بھرنے والوں کی نہ نیت بھری ہے اور نہ ہی کوششیں کمزور پڑی ہیں۔ بدامنی‘ مہنگائی‘ بیماری‘ بیروزگاری کا خاتمہ چوروں کیلئے ایسے خوبصورت نعرے ہیں کہ ان نعروں کی صدائے بلند ہیں۔ باقی سب باتیں بھول جاتی ہیں۔ جب لوگوں کو اپنی زندگی کی ضمانت ہی میسر نہیں آئے گی تو وہ تحفظ و بقائے حیات کیلئے بھلا تمنا کیوں کریں گے۔ زندگی بہت سستی ہو رہی ہے‘ حب الوطنی کے جذبات مزید سے مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مراکز بڑھتے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عوام الناس کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے کہ عوام اپنی حفاظت خود کریں۔ پولیس اور حفاظتی ادارے حکومت پر قابض کل پرزوں کی حفاظت کیلئے مامور کر دیئے گئے ہیں۔ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں تاکہ غاصب‘ مکر و فریب کے مکروہ پیکر قابض اقتدار لوگوں کی سواریاں گزریں اور پولیس عوام کو روک کر رکھے۔ قوت بردار باقی ادارے قابضین وطن کے گھروں پر پہرہ دیا کریں اور ملکی وسائل کا استعمال ایسے کیا جائے کہ مسائل میں اضافہ ہوتا جائے اور پھر وہ مسائل کے حل کی خوشخبری سنانے کیلئے نئے انداز سے منظم ہوکر جمع ہو جائیں‘ جلسہ کریں‘ جلوس نکالیں‘ اخبارات میں اشتہارات دیں‘ قوم کا پیسہ اپنی شہرت اور اپنی ذاتی ریاکاری کیلئے خاک کی طرح اڑائیں‘ عوام کو بے وقوف بنائیں اور پھر ہمیشہ کیلئے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے بدمست ہوکر بے ضمیر اور بے صبر دانشوروں سے نئے انداز پوچھیں۔ روزانہ کی دہشت گردی پر بیان بھجوائیں کہ ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں اور فوری طورپر رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ کون ان عقلمند حکمرانوں سے پوچھے کہ تمہارے پُرزور مذمت کے خود ساختہ اور بے مقصد مرہم نے کتنے لوگوں کے زخموں کو ٹھنڈک بخشی ہے؟ کون یہ سوال کرے کہ تمہارے رپورٹ دان محکمے نے کتنے حقائق تلاش کئے‘ اگر حقائق میسر آ بھی گئے تو تم نے حقائق کی روشنی میں کتنے چوروں کو اپنی بغل سے نکال کر عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ کل کراچی میں تازہ دہشت گردی ہوئی ہے۔ کراچی سندھ میں واقع ہے اور سندھ پاکستان میں واقع ہے اور پاکستان اسلام آباد میں رہتا ہے۔ اسلام آباد کبھی لاہور میں رہتا ہے اور کبھی کراچی میں جا بیٹھتا ہے۔ لاہور والا اسلام آباد‘ کراچی والے اسلام آباد سے بہت محبت کرتا ہے کیونکہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے ایسی محبت کا ہونا‘ پایا جانا اور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔اس محبت کے چرچے اور جواز کیلئے ہر سائز کے سیاسی‘ صحافتی‘ مذہبی اور ادھورے مذہبی آسانی سے میسر آجاتے ہیں اور وہ اس محبت کے فریقین کے وجود کو ملک کے مستقبل کیلئے نہایت ضروری قرار دیتے ہیں اور دہشت گردی کو بین الاقوامی حالات کے اثرات بتا کر نئی دہشت گردی کیلئے ذہنی طورپر تیار رہنے کی تلقین بھی کرتے ہیں۔اخبارات میں پانچ چھ روایتی مذمت بازوں کے نام چھپتے ہیں کہ اس نے اور اس نے بھی بھرپور مذمت کی ہے کیونکہ مذمت کا اظہار بھی اخباری کائنات میں زندہ رکھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ پشاور میں ہماری قوم کے سینے پر سانپ لوٹا‘ اخلاق اور دین کو منہ چڑایا گیا۔ معصوم پھول نذر آتش ہوئے‘ مائوں کے کلیجے نوچے گئے‘ بہنوں کے ارمانوں پر ڈاکہ ڈالا گیا‘ قوم رو رہی تھی مگر دہشت کی علامت اور دہشت کو محافظت کے علمبردار بہت ڈھٹائی سے بولے کہ ہم تو لفظ مذمت بھی زبان پر لانا اچھا نہیں سمجھتے۔کراچی میں جس درندگی سے دہشت گردی ہوئی ہے‘ وہ نہایت درجہ قابل افسوس ہے۔ وہ پاکستان کے باشندے تھے۔ وہ پاکستانی تھے‘ ان کو برابر کے شہری حقوق حاصل تھے۔ ان کی حفاظت حکومت پاکستان کی ذمہ داری تھی۔ حکومت کراچی اور حکومت اسلام آباد کی کرسیاں توڑنے والے پروٹوکولائی حکمرانوں کی ذمہ داری تھی۔فوج اور اس سے ملحقہ خفیہ ادارے محترک تھے اور ہیں۔ دو روز پہلے ان کے خفیہ محکمے نے اطلاع دی کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے۔ احتیاط برتو‘ آنکھیں کھول کر رکھو۔کون آنکھیں کھول کر رکھے جن کی آنکھیں شبانہ مستیوں میں مصروف رہتی ہیں اور دن کو نیم غنودگی کی شکایت کرتی ہیں۔ شام کو سازش کدوں میں مصروف ہوتی ہیں اور وقت صبح سوتی ہیں۔ملک کا کاروبار تو وہ بے چارے مسکین لوگ چلاتے ہیں جو قلیل معاوضوں پر خدمات سرانجام دیتے ہیں اور وطن کی محبت کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔مرتے ہیں اور شکایت بھی نہیں کرتے۔
عساکر پاکستان کے امیر سے لیکر عام فوجی تک دن رات کے ہر لمحے میں بیدار ہے۔ ملک کی حفاظت کے ہر داخلی اور خارجی مورچے پر امیر عساکر سے لیکر عام فوجی تک نہایت بیدار نظری اور عالی ہمتی سے پہرہ دے رہا ہے۔
لاشیں گرتی رہیں گی‘ بچے یتیم ہوتے رہیں گے اور غریب اپنی بے کسی کے ہاتھ خودکشیاں کرتے رہیں گے۔
موت سے آنکھیں بند ہوتی رہیں گی‘ لیکن اشتہاری زندگی پر اپنی شہرت کے چراغ جلانے والے حکمرانوں کی آنکھیں نجانے کب کھلیں گی؟؎
ظلم پھرظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے