ایک اور مینارٹی… پاکستانی عام آدمی

کالم نگار  |  مسرت قیوم
ایک اور مینارٹی… پاکستانی عام آدمی

کسی کے ہاتھ میں ٹفن تھا ’’بہت سارے معصوم سکول بیگ تھامے ہوئے بہت سوں نے کانوں سے ’’موبائل فون‘‘ لگا رکھا تھا اپنے آنے کی اطلاع دینے کے لئے، ایک جدید دنیا کے پاس ، مگر دنیا کتنی ہی ترقی کرے۔ ستاروں سے بھی آگے اڑان بھرے، موت کی آمد کا حتمی اعلان، حتمی وقت دریافت نہیں کر سکتی، چشم زدن میں معصوم، بے ضرر لوگ گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں بوٹی بوٹی ہو گئے ’’پھر روتے بلکتے بوڑھے باپ ، ننگے سر ڈورتی مائیں اور دوپٹہ سے بے نیاز غم میں ڈوبی بیٹیاں نظر آتی ہیں اور دل خون کے آنسو پیتا رہا۔
جہازی سائز کی محفوظ ترین بکتر بند نما گاڑی کے چاروں طرف دوڑتے ہوئے ’’سول و پولیس‘‘ وردی میں ملبوس اونچے گریڈ کے افسران گاڑی کو حفاظتی حصار میں متاثرہ جگہ تک لے گئے۔ اتنا ہائی پروفائل حکومتی قیدی کوئی اور نہیں ’’وزیراعلیٰ سندھ‘‘ تھے۔ ’’سرسوں کے پھول کی طرح زرد ہوتے چہروں والے جوان بچے، ترچھی آنکھوں سے آنیاں، جانیاں، دیکھ رہے تھے۔ ’’میں کیوں استعفیٰ دوں؟؟ بات تو ٹھیک ہے… اگر سانحات پر استعفیٰ دینے کا کلچر ہوتا تو لاکھوں وزراء لسٹ میں ہوتے… ویسے بھی یہ غم صرف ’’عوام کا ہے، حکمرانوں کا کام تعزیت، مذمت اور امدادی رقوم کی تقسیم تک محدود ہے۔
’’شہر کے حاکم سو گئے چادر تان کر‘‘
کتنے لوگوں کی دنیا اجڑ گئی یتیمی لوگوں میں گھس گئی۔ میرے سامنے 45 لوگوں کی نماز جنازہ کا منظر ہے۔ اخبارات معمول کے گھسے پٹے سیاسی بیانات سے بھرے ہوئے جبکہ ’’برقی میڈیا‘‘ بے بس، دکھوں سے نڈھال لوگوں کی تصاویر نشر کرنے میں مصروف … اقلیت کس کو کہتے ہیں … اقلیتی گروہ کا مطلب کیا ہے ؟؟ قارئین آج کے دن پاکستان میں مزید اقلیتی گروہ کا اضافہ ہو گیا۔ اس دھرتی پر ایک اور ’’مینارٹی‘‘ وجود میں آ گئی … ’’پاکستانی عام آدمی‘‘ کیاکوئی جانتا ہے کہ اس گروپ کا حاکم ، غالب حصہ کون ہے؟ 80 فیصد آبادی اکثریتی حصہ نہیں بلکہ ’’10 فیصد اشرافیہ‘‘ اصل حاکم ہے۔ ’’یا اللہ ہم کدھر جائیں؟ کہاں نہ جائیں، کوئی جگہ، کوئی سواری محفوظ نہیں، سلام ہے۔ آرمی چیف کو کہ فوراً کراچی پہنچ گئے۔ ’’میاں نوازشریف وزیراعظم صاحب‘‘ نے بجا فرمایا کہ اب سخت فیصلے کرنا ہونگے۔ قومی ایکشن پلان پر صحیح طور پر عمل نہ کرنے کا بھی ذکر کیا اور انتہائی قریب سے گولیاں مارنے کا فعل اور اتنی بڑی تعداد کو یہ قطعاً کسی ’’مسلمان‘‘ کا کام ، پلاننگ نہیں، دشمن کو اب اس کے اندر گھس کر مارنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
’’پرنس کریم آغا خان‘‘ کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات فرقہ وارانہ، سیاسی ہو سکتے ہیں ’’قارئین‘‘ یہ کسی ایک فرقے یا گروہ کے خلاف کارروائی نہیں، یہ اس ’’مذہب‘‘ کے خلاف ’’عالمی جنگ‘‘ کا حصہ ہے جو ’’دین فطرت‘‘ کہلاتا ہے پے درپے رونما ہونے والے سانحات ، حادثات کو ایک ’’بڑی تصویر‘‘ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ’’مسلم دنیا‘‘ کو باندھ کر مارنے کی پلاننگ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس لڑائی سے شدید طور پر اس لئے متاثرہ ہے کہ ہم ’’ایٹمی قوت‘‘ رکھتے ہیں اس لئے فرقوں کے نام پر پاکستان کو قبرستان نہ بنائیں، ہم سب کو اس نظرئیے، سوچ کی نفی کرنی چاہئے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ محض ’’پمفلٹ ملنے سے ذمہ داری کا تعین نہیں ہو جاتا اور بغیر تفتیش، تصدیق کسی گروہ پر ذمہ داری عائدکرنا رخ تبدیل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں خصوصاً احتیاط کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ عہدوںپر فائز لوگوں کو محض بیان دینے کریڈٹ لینے کی بجائے ’’شہر حاکم‘‘ کو مسائل کی جڑ کاٹنے پر توجہ دینی چاہئے۔ یہ حملہ بے حسی کی انتہا ہے… ہم تو ابھی تک ’’پشاور ٹریجدی‘‘ سے باہر نہیں نکل سکے کہ ایک اور قیامت کا سامنا ہے۔ ’’پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ایک منظم سازش کہیں بڑے دشمن کی مذموم حرکت، سوچ کی زد میں ہے ’’یہ سانحہ اگر چیلنج ہے تو اس امر کا بھی متقاضی ہے کہ کسی سے رو، رعایت، نرمی نہ برتی جائے،، زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی اختیار کریں … پاک چائنا راہداری روٹ بہت ساری طاقتوں کے علاوہ ’’انڈیا‘‘ کو بھی ہضم نہیں ہو رہا،، اس میں انڈیا کو اپنی موت نظر آ رہی ہے اس منصوبے پر ’’قیادت‘‘ کا سیاسی اکابرین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ قابل ستائش اور کامیاب رہا، اس سے پہلے ’’وزیراعظم اور آرمی چیف‘‘ کا مشترکہ ’’دورہ کابل‘‘ اور متفقہ اعلامیہ کہ مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے… یقیناً یہ کامیابیاں ہماری ہیں تو ہماری کامیابیاں دشمن کو بھلا کیسے ہضم ہو سکتی ہیں ہو سکتا ہے شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے، یہ جنگ ہم جیت جائیں، کسی پر سعادت لمحہ کو ہمارے بیانات سچ ثابت ہو جائیں مگر ’’جناب عالیٰ‘‘ اس جنگ کے نقصانات صرف اور صرف قوم بھگت رہی ہے۔ قوم کے ساتھ صرف اور صرف فوج اور چند حکومتی لوگ کھڑے ہیں … یہ لڑائی جتنی بھیانک ہے، نتائج ہولناک ہیں اس کے تناظر میں چاروں اکائیوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا ہونا پڑے گا حادثہ کی ذمہ داری لینے سے یا استعفیٰ دینے سے انکار کو کسی دوسرے صوبے میں لاگو نہ کرنے کی مثالیں اچھی روش نہیں … دہشت گردی مانا کہ ’’عالمی گیم‘‘ کا حصہ ہے مگر تسلیم کر لیں کہ اس ناسور نے محرومی کے بطن سے جنم لیا… یہ ہمارے رویوں کے نتائج ہیں … ’’بلوچستان‘‘ کا مسئلہ سردار راج ہے ’’سندور‘‘ کا بے حس، لاپرواہ قیادت، لوٹ مار کا کلچر ہے تو ’’پختونخواہ ،، جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے زیادہ لپیٹ میں آیا ’’ہمارا جغرافیہ ہماری بدقسمتی کا سب سے بڑا سبب ہے تو اس بدقسمتی کو خوش قسمتی میں بدلنا ہماری قیادت کا کام ہے ہم کب تک عالمی سازشوں کو روتے رہیں گے۔ آئینی موشگافیوں کو سلجھانے ، آئین کو تحفظ دینے کے لئے ’’سپریم کورٹ‘‘ موجود ہے۔ سیاستدانوں کے تحفظ کے لئے پولیس موجود ہے۔ ریاستی سرحدوں کی حفاظت پر ’’پاک فوج‘‘ مامور ہے، تو عوام کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟؟ پارلیمنٹ کا کام کیا ہے؟ یہ عوامی حقوق کی سلامتی کا سب سے بالاتر ادارہ ہے۔ اس کے ممبران کی اکثریت ’’بیرونی سازشوں‘‘ سے کما حقہ آگاہ اور تشویش میں مبتلا ہے۔ ’’پارلیمنٹ مشترکہ سیشن بلا کر حکومت قرار داد پاس کروائے … جنگ کا سامنا کرتے عوام کا کیس عالمی عدالت میں لے جائے، اقوام متحدہ میں اٹھائے، سلامتی کونسل میں اپنا مقدمہ پیش کرے۔ اس سے بھی ضروری کام یہ کرے کہ تمام ’’ممالک کے سفیروںکو بلا کر مکمل شواہد، حقائق سامنے رکھ دے … سازشوں کے معاملہ میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کے علاوہ کوئی آپشن نہ رکھا جائے ’’قیادت‘‘ قوم کے ساتھ مکمل طور پر نمائندہ قیادت کے طور پر برتائو کرے، ایک اقلیتی گروہ کی بجائے اکثریتی گروپ کا احترام، عزت دے۔