اقتصادی راہداری کے ساتھ اصولوں کی بھی ضرورت

کالم نگار  |  امتیاز احمد تارڑ
اقتصادی راہداری کے ساتھ اصولوں کی بھی ضرورت

چین نے کوریڈور راہداری کے منصوبے کا آغاز کرکے پاکستان کے دشمنوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس وقت نہ صرف بھارت ہماری داخلی صورتحال کو خراب کر رہا ہے بلکہ ایران، افغانستان اور عرب ممالک بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کے سربراہان بھی چند ڈالروں کی خاطر اپنی ماں جائے دھرتی سے بیوفائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ چینی صدر کی پاکستان آمد کے بعد سے لیکر اب تک سوشل میڈیا پر اقتصادی راہداری کے متعدد نقشے سامنے آ چکے ہیں اور ہماری لکیر کی فقیر سیاسی قیادت آنکھیں بند کرکے ان متنازعہ نقشوں کو اصل سمجھ کر واویلا کر رہی ہے۔ کاش ہماری سیاسی قیادت چائنہ سے 47 ارب ڈالر کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی بصیرت بھی لے لیتی! چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیچنگ میں ایک انسٹی ٹیوب قائم کر رکھا ہے جہاں پارٹی کے اراکین کو متعلقہ شعبوں میں وزیر مشیر بنانے اور چین کے لیے نئی قیادت تیار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ان کو سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس انسٹی ٹیوٹ کا سرٹیفکیٹ نہ ہو تو اسے وزیر مشیر کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ یہاں تک کہ چین کے آنے والے صدر کو پانچ سال پہلے ہی صدر بننے کی تربیت دی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ذاتی مراسم کو ترجیح دے کر پرویز رشید جیسے حواص باختہ اور اخلاق باختہ کو عہدوں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ جعلی ڈگری کے حامل افراد کو ایجوکیشن قائمہ کمیٹی کا چیئرمین بنا کر آنے والی نسل کا قبل از وقت ہی تشخص تباہ کر دیا جاتا ہے۔ چینیوں کا قول ہے کہ اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں تو مکئی لگائو، اگر تم دس سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو درخت لگائو اور اگر تم صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہوتو لوگوں کی تربیت کرو اور تعلیم دو جبکہ ہم اس کے بالکل الٹ چل رہے ہیں۔ ہم صرف ایک دن کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اسی بنا پر ہمارا نظام معیشت ابھی تک سود کی لعنت میں جکڑا ہوا ہے جبکہ خارجہ پالیسیاں قومی و ملی مفادات کی نگہبانی کی بجائے امریکہ اور یورپ کے اہداف و مقاصد کی آبیاری کر رہی ہیں۔ ہم اجتماعی مقاصد کے تحفظ کی حکمت عملی طے کرنے کی بجائے دوسروں کی خوشنودی کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں واہ کے آرڈی نینس کمپلیکس کی تعمیر کی گئی تو چین کے ایک وفد نے دورہ کیا دورے کے دوران انہوں نے عمارت کو ٹپکتے پایا۔ میزبان نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمارت ابھی نئی نئی ہے اس لیے ٹپک رہی ہے تو چین کے ایک رکن نے ہنستے ہوئے کہا کہ شروع شروع میں ہماری عمارتیں بھی ٹپکتی تھیں لیکن ہم نے ایک ٹھیکیدار کو گولی مار دی اس کے بعد چھت نئی ہو یا پرانی کبھی نہیں ٹپکی جبکہ ہمارے سابق آرمی چیف جنرل کیانی سے میاں شہباز شریف نے رنگ روڈ میں ان کے بھائی کامران کیانی کی کنسٹرکشن کمپنی کے ناقص میٹریل کے استعمال کرنے کی شکایت کی تو جنرل صاحب نے بگڑ کر ٹکا سا جواب دیا تھا کہ آپ کسی اور سے کام کروا لیں۔ یاد رکھیے فرعونوں کا سر کچلنے کے لیے عصائے کلیمی کو حرکت میں لانا پڑتا ہے اور حفظ خودی کے لیے جانوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
چینیوں نے چوری کی سزا موت رکھی ہے۔ چور کو سر میں گولی ماری جاتی ہے اور گولی کا معاوضہ بھی اس کے ورثا سے وصول کیا جاتا ہے جب تک ورثا معاوضہ نہ دیں تب تک لاش نہیں لے جا سکتے۔ امن و سکون اور مالی تحفظ کی بنا پر چین میں اس وقت 50 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور صرف 35 ہزار کمپنیاں شنگھائی میں ہیں۔ اگر چین میں بھی کراچی کی طرح بھتہ خوری قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا تو کیا اس قدر ملٹی نیشنل کمپنیاں وہاں آتیں۔ اس وقت بھارت افغانستان کی تعمیر نو کے نام پر کابل میں بیٹھ کر کراچی کو ٹارگٹ کر رہا ہے جبکہ ہم دشمن کی سرزمین پر قدم رکھنا بھول گئے ہیں حالانکہ ہمیں آگ و خون کی وادیوں کو عبور کرکے دشمن کے سینے پر مونگ دلنا چاہیے تھا اور یہی ہماری تاریخ ہے لیکن ہمارے لوگ اپنی تمام تر توانائیاں آپس میں لڑنے جھگڑنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ آج ہم ایٹمی قوت ہیں تو اس میں بڑے بڑے نامور لوگوں کا حصہ ہے۔ امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر سخت پابندی عائد کی تو سیٹھ عابد نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔ اس احسان کے باوجود تب کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سیٹھ عابد سے 5 کروڑ روپے بطور فنڈ پیپلز پارٹی کے لیے طلب کیے تو سیٹھ عابد نے صاف انکار کر دیا بھٹو صاحب کی ہدایت پر سیٹھ عابد کی گرفتاری کے لیے ہر جگہ چھاپے مارے گئے لیکن وہ ہاتھ نہ لگے تو بھٹو نے سندھ ٹریڈرز سوسائٹی میں واقع سیٹھ عابد کی اکلوتی بیٹی نصرت شاہین کی گرفتاری کے لیے فوجی ٹرک وہاں بھیجا جس نے سیٹھ عابد کی بیٹی کو گرفتار کر لیا جب سیٹھ عابد کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے لندن میں زیر تعلیم بے نظیر بھٹو کو اغواء کرا لیا۔ اب سیٹھ عابد کی بیٹی بھٹو کی قید میں اور بھٹو کی بیٹی سیٹھ عابد کی تحویل میں تھی۔ بہرکیف دونوں میں سمجھوتہ ہوا اور نصرت شاہین اور بینظیر بھٹو رہا کر دی گئی لیکن اس سمجھوتے کے باوجود سیٹھ عابد اس بات کو بھلا نہ سکے اور پھر بھٹو کے قصوری قتل کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے والا شخص کوئی اور نہیں تھا بلکہ مسعود محمود فیڈرل سکیورٹی فورس کا سربراہ سیٹھ عابد کا برادر نسبتی اور نصرت شاہین کا ماموں تھا۔
 ہم اپنی ساری توانائیاں دشمن کی بجائے آپس میں دست و گریبان ہو کر ضائع کر دیتے ہیں اور پھر دشمن کے ساتھ مصافحے، معانقے اور گرمجوشیاں شروع کر دیتے ہیں۔ سالہا سال سے دشمن کے تسلسل سے ڈسنے کے باوجود ہماری فطرت و خصلت نہیں بدلی۔ ہم پرلے درجے کی خود فریبی کا شکار ہیں۔ سیاستدان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کوئی بھی بھونڈا حربہ استعمال کر لیتے ہیںحقیقت یہ ہے کہ ایٹمی قوت کے طور پر ہمارے وقار و افتخار کی کلغی جھکتی جا رہی ہے اور نظریاتی ریاست کے قلعے میں شگاف بڑھتے جا رہے ہیں اور ہم ابھی تک اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ راہداری کا روٹ کیا ہونا چاہیے۔ کاش ہم راہداری کے ساتھ ساتھ چینی قوم اور وہاں کی سیاسی قیادت سے کچھ حب الوطنی اور اصول و ضوابط بھی لے لیتے تو آج ہمیں قومی کانفرنسوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔