لاہور ڈرگ فری سٹی

کالم نگار  |  محمد مصدق

مایوسی کفر ہے لیکن جب کوئی مایوسی کا سفر شروع کرتا ہے تو سفر ختم کرنے کیلئے اللہ کا سہارا لینے کے بجائے ڈرگز کا سہارا لے کر مزید دلدل میں پھنس جاتا ہے، یہی سبب ہے کہ پورے پاکستان میں منشیات کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف حکومت کی ہی پوری کوشش ہے کہ منشیات کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ دونوں طرف اپنی اپنی کوششیں جاری ہیں فی الحال تو منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے ملکر 2010ءسے 2013ءکیلئے لاہور ڈرگ سٹی فری کا پروگرام شروع کیا۔ الطاف قمرسابق ڈی آئی جی ٹریفک اسکے روِح رواں ہیں اور انہوںنے بہت اچھی ٹیم جمع کر کے وفاق اور پنجاب کی حکومتوں نے تعاون حاصل کر کے کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آج اس سلسلہ میں لاہور آرٹس کونسل الحمرا کی آرٹ گیلری میں منشیات کے موضوع پر مصوروں میں مصوری کا مقابلہ کرایا گیا جس میں طلبہ و طالبات نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے حصہ لیا۔ منشیات کے عادی افرادکے بارے میں بہت اثر انگیز فن پارے تخلیق کئے گئے۔
نمائش کا افتتاح صوبائی ممبر پنجاب اسمبلی اور چیئرمین جائزہ کمیٹی لاہور ڈرگ فری سٹی زعیم قادری نے کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس منصوبے کی کامیابی میں زعیم قادری اور ان کے رفقا کا بہت ہاتھ ہے۔ الطاف قمر نے اس پراجیکٹ کے بارے میں نوائے وقت کو بتایا ”اڑھائی سال کے اندر عوام میں منشیات کے بارے میں شعور پیدا کرنے کیلئے سینکڑوں تقاریب کا انعقاد کر چکے ہیں، خصوصاً یوتھ کو اس لعنت سے بچانے کےلئے ہم نے کالجوں کے اندر لیکچرز کا پروگرام شروع کیا ہوا ہے۔ عام فیکٹری کارکنوں میں بھی شعور پیدا کرنے کیلئے خصوصی پروگرام ترتیب دئیے گئے ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں کو پکڑنے کے بجائے کوشش کی گئی ہے کہ سپلائی کرنیوالوں کو قابو کیا جائے اس میں کافی کامیابی ملی ہے۔ سب سے اہم مرحلہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی ہے۔ اس مقصد کیلئے سرکاری ہستپالوں نے بہت تعاون کیا ہے۔ اب ہمیں ایک بہت بڑی کامیابی ملی ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک سو بیڈ کا ہسپتال بنانے کیلئے رقم مختص کر دی ہے۔ زعیم قادری کی کوششوں سے سو مریضوں کے ہسپتال کے بعد بحالی کا عمل تیز کر دیا جائیگا۔
(اصولاً دو سو بیڈ کا ہسپتال قائم کرنا چاہئے) پی سی ون تیار ہو چکا ہے چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب گورنمنٹ سہیل احمد کو اس مسئلہ کی سنگینی کا پورا شعور ہے اس لئے آئندہ بجٹ میں اس منصوبے کیلئے رقم بھی مختص کی جا رہی ہے۔ منصوبے کو تین سال پورے ہو چکے ہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے منصوبے کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اسے مزید توسیع کا ارادہ کیا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں جلد ہی اعلان ہو جائے گا۔ ویسے تو اس منصوبے کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اسے مستقل سطح پر جاری رکھا جانا چاہئے اور اسکے فنڈز میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو منشیات سے بچایا جا سکے۔