طرز زندگی

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر

میاں نواز شریف نے اس بات کی یقین دہانی کروا دی کہ لوڈشیڈنگ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ تاہم اس کے لئے ضروری عناصر میں کرپشن کا خاتمہ اور مضبوط معیشت لازمی کردار ادا کرتے ہیں اور معاشی استحکام کے لئے معاشرے سے طبقاتی تقسیم کا خاتمہ ازحد ضروری ہے۔
ایک جاپانی مفکر نے اقتصادی ترقی اور تہذیبی روایات کے باہمی تعلق پر بحث کرتے ہوئے واضح کہا کہ کسی معاشرے کی اقتصادی ترقی کی وجہ اس معاشرے کے لوگوں کا ایک دوسرے پر باہمی اعتماد ہوتا ہے۔ چینی اور جاپانی معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا انتہائی بلند ہے۔ جب تک کسی معاشرے کی تہذیبی روایات مضبوط رہتی ہیں اس کی اقتصادی ترقی یقینی ہوتی ہے۔ ان معاشروں کی ترقی کی وجہ بلند مورال اور سادہ طرز زندگی ہے۔ امیر اور غریب میں تفاوت کا فقدان ہے۔ جاپانی مفکر کا یہ کبھی خیال ہے کہ قوم پرستی کی فضا میں جمہوریت کی فضا میسر آتی ہے۔
ہمارے ہاں قوم پرستی کہاں ہے؟ قیام پاکستان سے لے کر اب تک نہ تو قوم پرستی کے جذبات پروان چڑھ سکے اور نہ ہی جمہوریت شخصی اقتدار کے دائرے سے باہر نکل سکی۔ جمہوریت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ شہری کی تلاش ممکن ہے۔ جمہوریت کا تقاضہ تو ہی ہوتا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر کرے اور پھر بعد میں عوام سے یہ امید رکھے کہ وہ اپنے فرائض دیانتداری سے سرانجام دیں۔ میاں نواز شریف نے جس معاشی دھماکے کا ذکر قوم سے کیا ہے۔ اس وقت قوم کو اسکی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ معاشی پسماندی کے جال سے باہر نکل سکیں۔ لیکن یہ تمام عوامل اس وقت سروخرو ہوتے نظر آتے ہیں جب سماجی ارتقاءکا عمل آگے بڑھتا رہے گذشتہ پچاس سالوں میں کسی ایسے ملک کی مثال نہیں دی جا سکتی جو قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا راستہ اپنانے کے باوجود اقتصادی و تہذیبی میدان میں ناکام رہا ہو۔ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ ہماری چند کوتاہیاں ہیں۔ قوم پرستی کے فقدان نے ذاتی مفادات اور خود غرضی کے وائرس کو پھیلنے میں مدد دی۔ معاشی عدم استحکام میں قرض دینے والے اداروں کا بھی کردار نظر آتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک کو سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر قرض جاری کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کی صورت میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بجٹ خسارے کو جس انداز سے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کے ذریعہ پورا کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے ہماری ترقی کی رفتار رک گئی ہے۔ بجٹ خسارہ کم ہو گا تو اس سے افراط زر پیدا ہو گا مگر اس کو غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے ذریعہ پورا کیا جانا چاہئے۔ ہماری حکومتیں اس قدر بے حس اور داخلی تضادات کے ہاتھوں بے بس ہیں کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ہی نہ کر پائیں۔ اس میں جتنا قصور عالمی اداروں کا ہے اتنا ہی ہماری ناعاقبت اندیشی کا بھی ہے۔
حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے داخلی مسائل اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ ان پر کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی۔
چونکہ ہماری معیشت ایک محتاج معیشت ہے۔ اس لئے ہمارے ارباب و اقتدار بھی کسی نہ کسی کے محتاج ہوتے ہیں ملک کے اخراجات چلانے کے لئے جہاں سے قرض لیا جاتا ہے وہ اپنی بات منواتے بھی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ملک میں وسائل پیدا کرکے اقتصادی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔ آج دنیا بھر میں جاپان ایک رول ماڈل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آنے والے حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جاپان اور ان جیسے دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے غیر ملکی اور قومی سرمایہ کو ترغیب دینے کے لئے موثر اور سودمند پالیسیاں بنائیں۔ تعلیم کو فرغ دیا۔ قوم میں بچت اور سرمایہ کاری کے رجحان کو فرغ دیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان ممالک میں سیاسی استحکام تھا۔ اندرون ملک جس قسم کا بھی نظام تھا۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار کو یہ تسلی تھی کہ حکومت مستحکم ہے اور اس کی مالی و اقتصادی پالیسیوں میں صبح و شام ردوبدل پیدا نہیں ہوتا۔
میاں صاحب نے غیر ملکی اور قومی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری اقدار پر چلتے ہوئے ملک میں وہ سیاسی استحکام ہو کہ بلاخوف و خطر اس ملک میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔ فرد اور ریاست کے درمیان تعلق کمزور سے کمزور تر ہو گیا ہے اس کھوئے ہوئے تعلق کی بحالی ازحد ضروری ہے کہ اعتماد اور یقین کے ساتھ نئے جمہوری سفر کا آغاز ہو۔ (انشاءاللہ)