تین اہم ترین مسائل

میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈرون حملوں کا باب بند ہونا چاہئے نیز لوڈشیڈنگ کے فوری تدارک کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کراچی میں امن قائم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ دیکھا جائے تو یہ تینوں ایشوز بالترتیب اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ پاکستان کی بقا اور خود مختاری، معاشی استحکام اور امن و امان کا قیام ملک کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ امریکہ اب تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام دہشت گردی سے ممکن نہیں۔ امریکہ نے بھی بھارت کی طرح ”میں نہ مانوں“ والی پالیسی اپنا رکھی ہے اور ڈرون حملوں کو ناگزیر قرار دئیے جا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی حکومت کو چاہئے کہ وہ امریکہ کو یہ بات باور کرائے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور بقا کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ طالبان نے پاکستانی حکومت کو مذاکرات کی جو پیشکش کی تھی وہ امریکہ کے ڈرون حملوں نے سبوتاژ کر دی ہے اور طالبان کا سب سے پہلا مطالبہ بھی ڈرون حملوں کی بندش ہے اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام بھی ڈرون حملے فوراً بند کروانا چاہتے ہیں۔ پاکستان ایک آزاد، خود مختار اور ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے۔ حیرت ہے کہ مشرف اور زرداری نے ڈرون حملوں کو رکوانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور پاکستان کی ایٹمی قوت کی بھی امریکہ نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ جب ہمارے حکمران ہی امریکی غلامی اور فرمانبرداری پر اتر آئیں تو ایٹمی قوت کیا کرے؟ میاں نواز شریف کو عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکہ کو ڈرون حملے روکنے پر مجبور کرنا چاہئے اور امریکہ کو دکھانا چاہئے کہ ان کے پیچھے عوامی قوت موجود ہے لہٰذا وہ عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے کیونکہ انتخابات میں کسی سیاستدان کو امریکہ نے نہیں، عوام نے کامیاب کروانا ہوتا ہے۔ اس لئے عوامی امنگوں کی پاسداری کرنا حکمرانوں کا مطمع نظر ہونا چاہئے۔
لوڈشیڈنگ کے سلسلے میں تو میاں نواز شریف نے الیکشن میں فتح یاب ہوتے ہی مشورے اور لائحہ عمل کی تیاری شروع کر دی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ میں لوڈشیڈنگ اگر ختم نہ بھی کر سکے تو اس میں خاطر خواہ کمی ضرور لائیں گے۔ اس کے لئے اگر ایران سے بھی مزید کوئی معاہدہ کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔
رہ گیا مسئلہ کراچی کی بدامنی کا۔ تو یہ سنگین مسئلہ گزشتہ تقریباً دس سال سے حل طلب چلا آ رہا ہے۔ نہ مشرف حکومت نے اس پر کوئی توجہ دی اور نہ ہی پی پی پی کی جمہوری حکومت نے کراچی میں امن و امان کے قیام کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔ کراچی صنعتی اور کاروباری اعتبار سے پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن وہاں کی بدامنی، قتل و غارت گری اور مسلسل بے چینی نے کراچی کی نہ صرف رونقیں چاٹ لی ہیں بلکہ لوگوں کے کاروبار بھی ٹھپ کر دئیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کراچی ایک ایسا شورش زدہ علاقہ ہے جہاں پولیس اور رینجرز کے باوجود کوئی حکومت نہیں، کوئی حاکم نہیں، کوئی قانون نہیں۔ کراچی کی مسلسل بدامنی اور خانہ جنگی کی صورتحال (خدانخواستہ) کسی بڑے سانحے کا سبب بھی بن سکتی ہے جس کا ازالہ بھی ممکن نہ ہو گا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو چاہئے کہ وہ سندھ کی نئی حکومت جو سوئے اتفاق سے پھر پیپلز پارٹی کے پاس ہے کو اور ایم کیو ایم اور دیگر سندھی سیاسی پارٹیوں کو ایک میز پر بٹھا کر کراچی کے موجودہ حالات کے خاتمے کی کوئی سبیل تو نکالیں اور اپنے موجودہ دور حکومت میں سندھ اور بلوچستان پر خصوصی توجہ دیں تاکہ وہاں قتل و غارت اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے ۔ کراچی کے امن کی کنجی پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے باہم اتفاق و اتحاد میں ہے۔ اگر میاں نواز شریف چاہتے ہیں کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی پاکستانی سیاست میں بھرپور کردار ادا کریں تو انہیں خصوصاً سندھ اور بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا مداوا کرنا پڑے گا۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو پنجاب کے لئے میاں شہباز شریف کافی ہیں۔