بجٹ۔۔۔ عوام ہی کڑوی گولی کیوں کھائیں؟

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

 وطن عزیز کو کئی قسم کے بحرانوں کا سامنا ہے۔ پہاڑ جیسے مسائل ان کے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ بیروزگاری ملکی معیشت کا جمود، ڈرونز حملے، افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاءکے تناظر میں پیش آمدہ حالات کے علاوہ بے شمار مسائل ایسے ہیں جو لاینحل نہیں تو سخت مشکل ضرور ہیں۔ 1983ءسے پنجاب کے وزیر خزانہ سے سفر اقتدار شروع کرنے والے نواز شریف 2013ءمیں تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے تک جہاں مختلف مراحل سے گزرے غلطیوں پر غلطیاں ہوئیں لیکن اب جذبات کی جگہ تدبر اور دانش عملی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے ان کا فیصلہ خاص طور پر سراہے جانے کے قابل ہے جس کا اعتراف معترضین کی طرف سے بھی سامنے آیا ہے۔ میاں نواز شریف نے گذشتہ پانچ برس کے دوران اپنے رویئے برداشت اور بردباری سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ماضی کے نواز شریف سے ایک مختلف شخص ہیں مگر اس کے باوجود کیا وہ دہشت گردی پر قابو پانے، ڈرونز حملے رکوانے یا اس حوالے سے کوئی معقول اور قابل قبول صورت نکالنے طالبان سے مذاکرات یا پھر دیگر صورت اختیار کر کے اس پیچیدہ مسئلے کے حل میں کامیابی حاصل کر پائیں گے۔ فی الوقت یہ نہایت دشوار اور مشکل مرحلہ نظر آتا ہے جس سے نکلنے کے مواقع اور راستہ تلاش کرنا آسان کام نہ ہو گا۔ ملک میں اٹھارہ بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ توانائی کے بحران سے صنعتوں اور کاروبار حیات کی تباہی عوام کا سخت مشکل سے دوچار ہونے کا مسئلہ بھی کسی جادو کی چھڑی سے حل کر لینے والا مسئلہ نہیں اور نہ ہی مسلم (ن) کے پاس الہ دین کا چراغ ہے کہ جسے رگڑنے سے جن حاضر ہو کر چشم زون میں بجلی کا مسئلہ حل کر سکے۔ بجلی کے بحران کے باعث کاروبار اور روزگا رکے موقع مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں فرق اور غریبوں کے نام پر زرتلافی کے ڈرامے کے پردے میں قومی دولت لوٹی جاتی رہی ہے۔ اب یہ مسئلہ اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی میاں نوا ز شریف نے قوم کو خبردار کر دیا تھا کہ وہ کسی فوری ریلیف کی توقع نہ رکھے۔ قوم کا نصیب یہ ہے جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہوں نے کہا کہ انہیں تباہ حال معیشت ملی ہے اور پانچ برسوں میں غریبوں کی نمائندہ حکومت عبرت کا نشان بن کر رخصت ہوئی ہے اور نئی حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم فوری طورپر مسئلہ حل نہیں کر سکتے اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ ملک میں بجلی کا بحران پیدا کرنے والے تمام عناصر کا حقیقی معنوں میں احتساب کیا جائے اور بجلی کا بحران ختم کیا جائے وفاقی وزیر پانی اور بجلی خواجہ محمد آصف کے اس بیان سے عوام بہت پریشان ہو گئے ہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے ہمیں کئی سال درکار ہیں۔ ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے بھی ایک بیان میں کہہ دیا ہے کہ تین سال سے پہلے لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو سکے گی جبکہ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما عوام کو یہ کہتے رہے کہ ہم اقتدارمیں آ کر لوڈ شیڈنگ جلد ختم کر دیں گے ہماری انتخابی سیاست روز اول سے چند دلفریب نعروں سے گونجتی ہے اقتدار میں آکر حکمران دلفریب نعروں کو عملی شکل نہیں دے پاتے مہنگائی کا بھوت عوام کو ہڑ پ کرنے کو ہے۔ عوام بھوک و افلاس اور معاشی مسائل کے ہاتھوں ذہنی مریض اور خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی کا جادو سر چڑھ بولتا ہے اس کی مکمل روک تھام تو درکنار اس میں کمی لانا بھی دل گردے کا کام ہو گا۔ کراچی کی صورتحال بلوچستان کے حالات اپنی جگہ پیچیدہ صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ کراچی میں امن و امان کی تباہی سے ملکی تجارت و صنعتیں زبردست دباﺅ کا شکار ہیں ملکی معیشت جمود کا شکار ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری نہ صرف نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے بلکہ بہت سا سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو چکا ہے ملکی خزانہ خالی اور مسائل کا انبار ہے۔ ان سارے حالات کے باوجود قوم نواز شریف کو ایک نجات دہندہ اور مسیحا وزیراعظم دیکھنے کی متمنی ہے۔ عوام کو مسائل کی پیچیدگی اور مشکلات کا اندازہ ہو نہ ہو ہر شخص کی یہی خواہش ہے کہ قوم نے نواز شریف پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وزیراعظم کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد اب ان کی ذمہ داری اور ان کا امتحان ہے کہ وہ ملک و قوم کو ان حالات سے کیسے نکالتے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کےلئے قیادت کی دیانتداری اور خلوص سے کام کرنے والی ٹیم ہی کافی نہیں بلکہ من جملہ مسائل کے حل کے لئے ملکی معیشت کی بہتری اور وسائل کی دستیابی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اگر میاں محمد نواز شریف اور ان کی کابینہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے مفادات سے بالا تر ہو کر اور بلاامتیاز ملک و قوم کی خدمت پر آمادہ ہو جائیں تو اگلے پانچ سال میں ترقی کی جھلک نظر آ سکتی ہے اور ملک درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے اہل وطن دلکش الفاظ اور بڑے بڑے دعوے بہت سن چکے اب عمل کا وقت ہے اور اچھے عمل ہی سے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔نئی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا اس کو عوام میں پزیرائی نہیں مل سکی ۔ وزیر خزانہ عوام کو کڑوی گولی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عوام ہی کڑوی گولی کیوں کھائیں ؟ حکمران اس میں پہل کیوں نہیں کرتے۔ میں نواز شریف نے وزیر اعظم ہاﺅس میں قیام نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اس پر عمل نہیں ہوا ۔ایسے میں عوام کیسے کڑوی گولی کھانے پر آمادہ ہو جائیں۔